محبت اور کڑوی چیز

لقمان اگرچہ سادہ صورت اور سیاہ فام غلام تھے، لیکن خدا کے احکامات سے کبھی غافل نہ ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کی روشنی ان کے چہرے پر ہالہ کیے رہتی۔ ان کا آقا ان سے بے حد متاثر تھا، اس لیے ان کا بہت احترام کرتا تھا، کیونکہ اس پر لقمان کی خوبیاں واضح ہوگئی تھیں۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ غلام حرص و ہوس سے پاک ہے، اس کے دل میں کھوٹ نہیں، اس کی زبان سچ کے سوا کچھ نہیں کہتی۔ بظاہر وہ امیر، لقمان کا آقا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ان کا غلام ہوچکا تھا۔ جب خواجہ نے لقمان کے اسرار پالیے تو وہ کوئی شے نہیں کھاتا تھا جب تک لقمان نہ کھائے۔
ایک دن امیر کے کسی دوست نے ایک بڑا ہی خوش رنگ خربوزہ تحفے میں بھیجا۔ خواجہ نے لقمان کو بلایا اور خود اپنے ہاتھ سے خربوزہ کاٹ کاٹ کر ان کو دینے لگا۔ لقمان، خواجہ کے ہاتھ سے خربوزے کی قاش لے کر شہد اور شکر کی طرح کھانے لگے۔ اسی طرح ہر قاش بڑی رغبت سے کھا رہے تھے۔ خربوزے کی آخری قاش خواجہ نے اپنے منہ میں ڈالی۔ جونہی اس نے یہ قاش منہ میں ڈالی سارا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا۔ پھر جلدی سے تھوک دیا، پانی منگایا اور خوب کلیاں کیں۔ گلے سے دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ گئی اور منہ کا مزا خراب ہوگیا۔ پھر خواجہ نے نہایت تعجب سے حضرت لقمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا: ’’عزیزم! نہایت ہی ترش، کڑوے اور زہریلے خربوزے کی غالباً قاشیں تُو نے بڑے مزے اور رغبت سے کیونکر کھالیں؟ اپنی جان کا کیوں دشمن بنا؟ اگر تُو اس کے کھانے میں کوئی عذر کردیتا تو کیا حرج تھا؟ نہ ہی تُو نے کوئی بہانہ کرکے ٹالنے کی کوشش کی، جب کہ اس کی کڑواہٹ سے میرا منہ اور حلق جل گیا اور میرا منہ بدذائقہ ہوگیا‘‘۔
لقمان کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوگئے، حکیمانہ انداز سے یوں عرض کرنے لگے: ’’آقا! اتنے پیارے ہاتھوں سے محبت کے ساتھ آپ مجھے کھانے کو دے رہے تھے کہ مجھے تلخی کا احساس تک نہ ہوا۔ یہ سوچ کر تلخ قاشیں کھائیں کہ ساری عمر اس ہاتھ سے انواع و اقسام کی لذیذ نعمتیں کھاتا رہا ہوں تو صد حیف ہے مجھ پر کہ صرف ایک کڑوا خربوزہ کھا کر اودھم مچانے لگوں اور ناشکری کا اظہار کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے شیریں ہاتھ نے اس خربوزے کی تلخی چھوڑی ہی کہاں تھی کہ میں لفظِ شکایت سے اپنی زبان آلودہ کرتا‘‘۔
’’محبت‘‘ سے کڑوی چیز میٹھی ہوجاتی ہے۔ محبت سے تانبا سونے میں ڈھل جاتا ہے۔ محبت سے خار گل بن جاتے ہیں۔ محبت سے سرکہ شراب بن جاتا ہے۔ چنانچہ شکر گزاری کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جس مقام سے انسان پر احسانات کی بارش ہو، اگر تکلیف آجائے تو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
درسِ حیات: انسان کو ہر حال میں مالکِ حقیقی کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ معمولی معمولی تکلیفوں پر شورو غوغا اور لعن طعن نہیں کرنی چاہیے۔ (مولانا جلال الدین رومیؒ۔ حکایات رومیؒ)