صدر بائیڈن کا پہلا غیر ملکی دورہ

جی 7- اور نیٹو سربراہ کانفرنس میں شرکت

امریکی صدر جو بائیڈن پہلے آٹھ روزہ غیر ملکی دورے سے واپس آگئے۔ انھوں نے برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ سے اُن کے شوہر کے انتقال پر تعزیت، اور ملکہ معظمہ کو سالگرہ پرمبارک باد دینے کے علاوہ بحر اوقیانوس کے خوبصورت و صحت افزا مقام کاربس بے (Carbis bay)میں نیٹو سربراہ کانفرنس میں شرکت کی، جس کے بعد امریکی صدر برسلز تشریف لائے، جہاں نیٹو اتحادیوں کا چوٹی اجلاس منعقد ہوا۔ نیٹو اجلاس سے پہلے امریکی و ترک صدور کی ملاقات بھی بے حد اہم تھی۔ دورے کے اختتام پر امریکی صدر نے جنیوا میں اپنے روسی ہم منصب سے براہِ راست ملاقات کی۔
یہ تمام تقریبات اس لحاظ سے تاریخی کہی جاسکتی ہیں کہ کورونا کی عالمی وبا کے بعد یہ پہلی براہِ رست بیٹھکیں تھیں۔ اس سے پہلے اس قسم کی نشستیں مجازی یا Virtual ہورہی تھیں۔
گروپ آف سیون یا G-7 نظریاتی طور پردنیا کے 7 ہم خیال، امیر و ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل ہے۔ گروپ کا آغاز 1973ء میں اُس وقت ہوا جب عرب اسرائیل جنگ کے دوران سعودی فرماں روا شاہ فیصل مرحوم نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی بند کردی تھی۔ اس کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ شدید بحران کا شکار ہوئے، اور امریکی وزیرخزانہ نے مشورے کے لیے اپنے جرمن (اُس وقت مغربی جرمنی) ہم منصب ہیلمٹ شمٹ، فرانسیسی وزیرخزانہ گسکارڈدیستان اور برطانیہ کے انتھونی باربر کو مشورے کے لیے امریکہ آنے کی دعوت دی۔ اجلاس کے دوران معیشت کے چاروں ماہرین نے بحران سے نبٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا۔ ملاقات بے حد مفید رہی اور بات چیت کے اختتام پر جب یہ چاروں افراد رسمی ملاقات کے لیے امریکی صدر نکسن کے پاس پہنچے تو وہیں قصر مرمریں (وہائٹ ہائوس) کی لائبریری میں ایک اور اجلاس ہوا جس میں تیل بحران کے ساتھ دوسرے معاشی مسائل، امکانات اور مواقع پر تفصیلی گفتگو کے بعد مل کر کام کرنے کی بات کی گئی۔ اس غیر رسمی و غیر روایتی مجلس کا نام ”لائبریری گروپ“ طے پایا۔ کچھ دن بعد جاپان بھی اس گروپ میں شامل ہوا، اور لائبریری گروپ G-5بن گیا۔ دو سال بعد جب گسکارڈ دیستان فرانس کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے G-5کا سربراہی اجلاس طلب کیا۔ پیرس کے اس تین روزہ اجلاس میں اٹلی کو بھی دعوت دی گئی، اور اب یہ G-6 محفل بن گئی۔ اس کے اگلے برس امریکی صدر فورڈ نے اپنی کالونی پورٹوریکو میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جہاں کینیڈا کے وزیراعظم آنجہانی پیرے ٹروڈو (موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد) خصوصی دعوت پر شریک ہوئے، جس کے بعد یہ ادارہ G-7 کہلانے لگا۔ صدر بل کلنٹن نے تاسیس کی یاد تازہ کرنے کے لیے 1997ء کا سربراہی اجلاس ڈینور (Devers) شہر کی نوتعمیر شدہ سرکاری لائبریری میں طلب کیا، جس میں روسی صدر بورس یلسن بھی مدعو کیے گئے، اور یہ فورم G-8بن گیا۔
کریمیا پر روسی قبضے کے بعد 2014ء میں روسی شہر سوچی میں ہونے والی سربراہ کانفرنس منسوخ کردی گئی، جس کے بعد سے روس کی رکنیت معطل ہے اور اب یہ دوبارہ G-7کہلاتا ہے۔
گروپ 7 بنیادی طور پر ایک اقتصادی اتحاد ہے جسے سابق امریکی صدر بارک اوباما ایک عالمی مرکزِ دانش یا Think Tankکہتے تھے۔ لیکن تمام ممالک ایک خاص سیاسی نظریہ و عقیدہ رکھتے ہیں، اور دنیا پر چودھراہٹ قائم رکھنے کے لیے یہ اپنے عزم کے اظہار میں کسی مداہنت سے بھی کام نہیں لیتے۔ گزشتہ کئی سال سے ادارے میں توسیع کی تجاویز سامنے آرہی ہیں۔ خیال ہے کہ آسٹریلیا، اسپین، ہندوستان، برازیل اور جنوبی کوریا کو جلد ہی اس گروپ میں شامل کرلیا جائے گا۔
حالیہ اجلاس کا بنیادی نعرہ یا Motto بعد از کورونا بحالی کے حوالے سے تعمیرِنو بہتر انداز میں یا Build Back Betterتھا۔ اس نعرے کے موجد صدر جوبائیڈن ہیں جنھوں نے اسی عنوان سے اپنے ملک میں بحالیِ معیشت کا آغاز کیا ہے۔ اہم امور پر امریکی خواتینِ اوّل اپنے کپڑوں پر معنی خیز تحریر رقم کرکے ملک کی نظریاتی سمت کا اعلان کرتی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ ”سب سے پہلے امریکہ“ کے قائل تھے۔ وہ کھل کر کہتے تھے کہ امریکیوں نے مجھے امریکہ کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے، اور بین الاقوامی قیادت کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ اسی لیے وہ نیٹو ارکان کو بار بار یاددہانی کرواتے رہتے تھے کہ امریکہ اتحاد کا رکن ہے، سرپرست نہیں کہ اس کے اخراجات برداشت کرے۔ اس ضمن میں تمام ملکوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ پہلے غیر ملکی دورے پر ان کی اہلیہ نے جو جیکٹ زیب تن کررکھی تھی اس پر لکھا تھا “I don’t care, do you”? …اسے بامحاورہ اردو میں ”میری بلا سے“ کہا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف صدر بائیڈن نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے اتحادیوں کو پیغام دیا کہ America is backیعنی امریکہ قیادت و سیادت کے لیے عالمی اسٹیج پر واپس آچکا ہے۔ اس مناسبت سے خاتونِ اوّل ڈاکٹر جل بائیڈن کی جیکٹ پر جلی حروف میں LOVEلکھا ہوا تھا۔ اس تبدیلی کا ان کے یورپی حلیفوں نے پُرجوش خیرمقدم کیا۔
گروپ 7 کی نشستوں میں کورونا کے بعد تعمیرِنو پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ وبا پر قابو کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں لیکن تیسری دنیا میں جدرین کاری (vaccination) کی رفتار بے حد سست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا صرف اسی صورت میں محفوظ ہوسکتی ہے جب دنیا کے کونے کونے سے اس نامراد کا قلع قمع کردیا جائے۔ زمین کے کسی ایک گوشے میں بھی اگر یہ مرض باقی رہ گیا تو اس سے مشرق و مغرب سب متاثر ہوں گے۔ اجلاس سے پہلے انھوں نے کورونا کے 50کروڑ حفاظتی ٹیکے غریب ممالک میں مفت تقسیم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ گروپ 7 کے ممالک اضافی 50 کروڑ ٹیکے تقسیم کریں گے۔ اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مالی امداد کرنے اور اس ضمن میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد کا وعدہ کیا گیا۔
اجلاس میں حسبِ توقع چینی معیشت کی غیر معمولی توسیع پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدر بائیڈن چین کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی ممالک چین کی جانب سے سڑکوں، ریلوے اور آبی شاہراہوں کی تعمیر کے پروگرام بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے خائف ہیں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کاWorld Build Back Better یا تھری بی ڈبلیو (BBB&W) منصوبہ چینی بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ مغرب کا کہنا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والی ریل پٹریوں، سڑکوں اور بندرگاہوں پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے کئی ملک چین کے مقروض ہوگئے ہیں اور قرضہ واپس نہ کرنے کی وجہ سے ان کی آزادی خطرے میں ہے۔ امریکہ تھری بی ڈبلیو کے ذریعے ان ممالک کو ترقی کے متوازی مواقع پیش کرنا چاہتا ہے۔ پروگرام کے تحت شفاف شراکت داری کی بنیاد پر G-7ارکان کورونا سے متاثر ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر کھربوں ڈالر خرچ کریں گے۔ اجلاس میں اویغور مسلمانوں کی نسل کُشی اور ان سے جبری مشقت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ظلمِ عظیم کے خلاف مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے اویغور مسلمانوں پر مظالم کے جواب میں چین کے ذمہ دار افسران کے خلاف سفری پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ اُن کے بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے ہیں۔ صدر بائیڈن نے پابندیوں کو موثر بنانے کے لیے مزید کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
لندن میں چینی سفارت خانے نے گروپ 7 کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ دن لد گئے جب چند ممالک دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ اب چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں“۔
پیر کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے صدر بائیڈن اور ترک صدر کی ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے ترکی کے نیٹو اور امریکہ سے تعلقات میں خاصی کشیدگی ہے۔ بحرروم کا سب سے بڑا ساحل ترکی سے لگتا ہے، لیکن یونان مشرقی بحرروم میں ترکی کے معدنی حقوق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اسرائیل اور مصر بھی اس معاملے میں یونان کے ساتھ ہیں۔ یورپ کے ممالک خاص طور سے فرانس، یونان کی پشت پناہی کررہا ہے اور اُس نے یونان کی حمایت میں کئی جنگی جہاز مشرقی بحر روم بھیجے ہیں۔ اب تک ترک و فرانسیسی بحریہ کا براہِ راست تصادم نہیں ہوا لیکن دونوں ملکوں کے جنگی جہاز کئی بار ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے ہیں۔ فرانس میں توہین آمیز خاکوں اور حال ہی میں منظور کیے جانے والے مسلم دشمن قانون پر ترکی کا دوٹوک مؤقف بھی فرانس کی ناراضی کا باعث ہے۔ لیبیا میں فرانس اور کئی یورپی ممالک حفتر دہشت گردوں کی کھل کر پشت پناہی کررہے ہیں، جبکہ انقرہ وہاں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کا اتحادی ہے۔ لیبیا کے معاملے میں امریکہ کا نقطہ نظر بھی مبہم اور ترکوں کے لیے بےچینی کا باعث ہے۔
شام کے معاملے پر ترکوں کو سخت تشویش ہے۔ داعش کی سرکوبی کے نام پر امریکہ کُرد دہشت گرد تنظیم YPGکو عسکری مدد فراہم کررہا ہے۔ ترکوں کا کہنا ہے کہ YPGیہ اسلحہ اور وسائل شام ترک سرحد پر ترکی کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ مزے کی بات کہ YPGکو امریکہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے لیکن خود اپنے قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کی پیٹھ ٹھونکی جارہی ہے۔
امریکہ اور ترکی کے درمیان سب سے بڑا تنازع روسی دفاعی نظام S-400کی خریداری ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کو دشمن سے عسکری تعاون نہیں کرنا چاہیے، اور S-400چونکہ فضائی حملوں سے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے اس لیے امریکی طیاروں کے خلاف اسے موثر بنانے کے لیے روس F-16اور F-35کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور اس حوالے سے امریکہ کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ امریکہ نے ترکی کو F-35 دینے سے انکار کردیا ہے، حالانکہ اس طیارے کی تیاری و ترقی کے پروگرام میں نیٹو کے دوسرے اتحادیوں کی طرح ترکی نے بھی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے امریکی ادارے ترکی کے بارے میں منفی خبروں سے بھرے رہتے ہیں۔ سی این این، سی این بی سی، اے بی سی اور سی بی ایس پر صدر اردوان کو ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے، جس کا جواب دیتے ہوئے برسراقتدار ترک AKپارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ”گزشتہ انتخابات میں 82.24فیصد ترکوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا، اور ایردوان 52.59فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے، جبکہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 64.2فیصد تھا جس میں سے 51.3 فیصد امریکیوں نے صدر بائیڈن پر اعتماد کیا۔ صدر اردوان کی کامیابی کو ان کے تمام مخالفین نے خوش دلی سے قبول کیا، اس کے مقابلے میں صدر بائیڈن کے حریف 2020ء کے انتخابات کو آج تک دھاندلی زدہ کہہ رہے ہیں۔
منفی تبصروں کے باوجود نیٹو سربراہی اجلاس میں صدر اردوان مرکزِ نگاہ بنے رہے۔ اجلاس سے پہلے صدر بائیڈن اور ان کے ترک ہم منصب کے درمیان براہِ راست (one on one) تفصیلی ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں رہنما اجلاس کے لیے ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے اور ایک کنارے پر کھڑے ہوکر دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس دوران تمام سربراہان اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ فرانس کے صدر میخواں نے بھی ترک صدر سے بات کی۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق صدر اردوان نے حال ہی میں منظور کیے جانے والے مسلم دشمن فرانسیسی قانون اور توہین آمیز خاکوں کی سرکاری سرپرستی پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس سولٹنبرگ نے بھی صدر اردوان سے علیحدہ ملاقات کی۔ سیکریٹری جنرل نے نیٹو ترک کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا، جس پر صدر اردوان نے کہا کہ ترکی نیٹو کا ایک مخلص اتحادی ہے لیکن انقرہ، مشرقی بحرروم میں اپنے مفادات سے دست بردار نہیں ہوگا، اور ترکی کے لیے فرانس کی جانب سے اس معاملے پر یونان و قبرص کی حمایت ناقابلِ قبول ہے۔
صدر بائیڈن سے ملاقات میں ترک صدر نے کہا کہ روس سے دفاعی نظام S-400خریدنے کا معاہدہ ترکی کے مفاد میں کیا گیا ہے، اور علاقے کے بعض ممالک کے معاندانہ رویّے کے تناظر میں یہ نظام ترکی کے لیے ضروری ہے۔ صدر اردوان نے ”بعض ممالک“ کا نام نہیں لیا، لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اردوان کا اشارہ فرانس، یونان اور اسرائیل کی طرف تھا۔
امریکی صدر اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے افغان امن کے لیے ترکی سے معاونت کی درخواست کی۔ نیٹو چاہتا ہے کہ فوجی انخلا کے بعد ترکی کابل ائرپورٹ کا انتظام سنبھال لے، تاکہ یہ ہوائی مستقر ہنگامی صورت حال میں عسکری کمک کے لیے استعمال ہوسکے۔ دوسرے دن امریکی صدر کے مشیرِقومی سلامتی جیک سولیون نے صحافیوں کو بتایا کہ صدربائیڈن سے ملاقات میں ترک صدر نے نیٹو فوج کے انخلا کے بعد کابل ائرپورٹ کی حفاظت کے لیے ”قائدانہ“ کردار ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ ترک حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر اردوان نے محدود و مشروط مدد کی پیشکش کی ہے۔ محدود ان معنوں میں کہ ترکی اپنی ذمہ داریاں کابل ائرپورٹ کی حفاظت تک محدود رکھنا چاہتا ہے، اور یہ تعاون طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں کے اتفاق سے مشروط ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق امریکی صدر سے ملاقات کے دوران ترک صدر مسلسل مسکراتے رہے لیکن S-400، شام، لیبیا اور مشرقی بحرروم کے بارے میں ان کا موقف دوٹوک اور غیر مبہم تھا۔ ملاقات کے بعد صدر بائیڈن نے بات چیت کو انتہائی مثبت، جامع، بامقصد اور حوصلہ افزا قرار دیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وفود کی ملاقات میں تمام امور پر اتفاقِ رائے ہوجائے گا۔ صدر اردوان نے کہا کہ باہمی تعلقات کے باب میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسے بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا جاسکتا ہو۔
نیٹو اجلاس میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری اور تکنیکی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا، جس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اتحاد کے سیکریٹری جنرل نے یقین دلایا کہ نیٹو چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ نہیں چاہتا۔ دوسری جانب چین کے یورپی سفارتی مشن نے الزام لگایا کہ نیٹو چین کی پُرامن ترقی سے خوف زدہ ہے، لیکن بہتان تراشی کو نظرانداز کرتے ہوئے چین ترقی و خوشحالی کی جانب سفر جاری رکھے گا۔
اس دورے کا ایک اہم اور کلیدی جزو بائیڈن پیوٹن ملاقات تھی۔ یہ چوٹی کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور روس کے سفارتی تعلقات کم ترین سطح پر ہیں، سفیروں کو واپس بلایا جاچکا ہے اور امریکہ کا نام روس کی ’غیر دوستانہ‘ ممالک کی فہرست میں درج ہے۔ ملاقات سے پہلے ہی روسی صدر کے مشیر کہہ چکے تھے کہ بہت زیادہ پُرامید ہونے کی کوئی گنجائش نہیں، اور نہ یہ ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوگی کہ کچھ ہی عرصہ قبل صدر بائیڈن نے روسی صدر کو ’بے رحم قاتل‘ قرار دیا تھا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ بھی شریکِ گفتگو ہوئے۔ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کا اہتمام نہیں ہوا اور دونوں رہنمائوں نے صحافیوں سے الگ الگ بات کی۔
بات چیت کا سب اہم نکتہ الیکٹرانک نقب زنی یا Hacking ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی ایک تیل پائپ لائن اور ملک کا سب سے بڑا ذبح خانہ سائبر حملے کا شکار ہوچکا ہے، اور ان اداروں نے ”نقب زنوں“ کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر تاوان ادا کرکے اپنے کمپیوٹر نظام کا کنٹرول واپس لیا۔
امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت، سفیروں کی واپسی سمیت سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے، تحفیف اسلحہ کے نئے معاہدے، قیدیوں کے ممکنہ تبادلے، یوکرین کی نیٹو اتحاد میں ممکنہ شمولیت اور شام میں امداد کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون سمیت کئی دوسرے امور پر بات ہوئی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا تعاون امنِ عالم کے لیے اہم ہے، اور تناؤ کے باوجود دونوں ملک مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے بات چیت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے روسی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کو تجربہ کار سیاست دان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن صدر ٹرمپ سے بہت مختلف ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ دوسروں کو نصیحت سے پہلے امریکی رہنما اپنی گلیوں اور کوچوں میں اسلحہ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر توجہ دیں۔ امریکہ کی سڑکوں کو دیکھیں جہاں لوگ روزانہ مررہے ہیں۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ کیا انسانی حقوق کے تحفظ کا یہی طریقہ ہے؟ سائبر حملوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں امریکہ کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں لیکن امریکہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ روس کا طبی نظام بھی سائبر حملے کا شکار ہوچکا ہے۔ الزام تراشی کے بجائے اس لعنت کے خلاف مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
جو بائیڈن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بارے میں روس مخالف یا Anti-Russian تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکہ کے ساتھ ہوں لیکن روس کے خلاف نہیں۔ روسی صدر میرا موقف اور ایجنڈا سمجھنے کی کوشش کریں۔ انسانی حقوق امریکی اقدار کی بنیاد ہیں، اور ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ یہ بات اٹھائی جائے گی۔ معلوم نہیں فاضل امریکی صدر آبائی زمینوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی، بچوں کی گرفتاری اور اُن پر تشددمسلم عبادت گاہوں کی بے حرمتی، جلوسوں میں اسرائیلی ارکانِ پارلیمان کی جانب سے گستاخانہ نعروں اور غزہ کی نہتی آبادی پر تباہ کن بمباری کو کس پہلو سے دیکھتے ہیں؟

اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹwww.masoodabdali.comپر تشریف لائیں۔