ذکر درود

Print Friendly, PDF & Email

حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورؐ سے دریافت کیا کہ میں (اپنی دعا میں) آپؐ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں، آپؐ اس کے لیے کوئی حصہ مقرر فرمادیں، تو آپؐ نے فرمایا: ’’جتنا تم چاہو‘‘۔ میں نے عرض کیا: ’’چوتھائی‘‘، فرمایا: ’’جتنا تم مناسب سمجھو، اگر اس میں اضافہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا‘‘۔ میں نے عرض کیا: ’’نصف‘‘، آپؐ نے پھر فرمایا کہ ’’جو مناسب سمجھو، ہاں اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’دو تہائی‘‘، اس پر بھی آپؐ نے یہی فرمایا کہ ’’جو تم چاہو کرلو، البتہ زیادہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ ’’میں اپنی ساری دعا ہی آپؐ پر درود بھیجنے پر مشتمل رکھوں گا‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’پھر تو تمہاری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
(ترمذی، بحوالہ مشکوٰۃ)

Share this: