قرآن کریم کے اردو تراجم

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:
قرآن کریم کے اردو تراجم
حصہ اوّل
(کتابیات) مطبوعہ نسخے
مرتب
:
ڈاکٹر احمد خان
نظرثانی
:
مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی
صفحات
:
290 قیمت: 590 روپے
ناشر
:
ڈاکٹر رئوف پاریکھ۔ ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان، قومی ورثہ و ثقافت اڈیشن حکومتِ پاکستان، ایوانِ اردو۔ پطرس بخاری روڈ ایچ۔4/8 اسلام آباد
فون

051-9269760-62
ای میل
:
matboaatnlpdisd@gmail.com

دنیا کی بے شمار زبانوں میں قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے تراجم ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں، ان میں ہماری اردو زبان بھی ہے جس میں اہلِ علم و دین نے تراجم کیے ہیں۔ اس کے مطبوعہ تراجم کو جناب احمد خان صاحب نے جو پاکستان کے نامور مخطوطہ شناس اور محقق ہیں، بڑی دقتِ نظری اور محنت سے 1987ء میں مرتب کیا تھا۔ یہ اس کا جدید ایڈیشن ہے جو ادارہ فروغِ زبان نے طبع کرایا ہے۔ اس وقت بے شمار طلبہ ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کے لیے مقالات لکھ رہے ہیں، ان میں اس قسم کی تحقیقی کتب کی ضرورت ہوتی ہے، عام قاری بھی ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ احمد خان صاحب نے دو جلدوں میں یہ منصوبہ مکمل کیا۔ پہلے حصے میں مطبوعہ تراجم اور دوسرے حصے میں قلمی نسخوں کے متعلق تفصیلات ہیں۔
ڈاکٹر رئوف پاریکھ تحریر فرماتے ہیں:
’’رب کریم کی نازل کی ہوئی آخری کتاب قرآن کریم کے تراجم دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ اردو میں بھی قرآن کریم کے تراجم بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اردو میں قرآن کریم کے ترجمے کا کام دکنی دور ہی میں شروع ہوگیا تھا جیسا کہ ڈاکٹر سید حمید شطاری نے اپنے تحقیقی مقالے ’’قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ، 1914ء تک‘‘ میں شواہد کے ساتھ اس امر کی تصدیق کی ہے۔
اس ابتدائی دور سے اب تک اردو میں قرآن کریم کے بلامبالغہ ایک ہزار سے زیادہ ترجمے ہوچکے ہیں، اور اس معاملے میں اردو زبان اگر فارسی اور دیگر زبانوں سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں ہے۔ الحمدللہ، اللہ کی آخری کتاب کے تراجم کے ضمن میں اردو کا دامن بیش بہا خزائن سے معمور ہے۔ لیکن ان سب تراجم کی مکمل کتابیات تیار کرنا بھی بہت ضروری تھا، تاکہ اس موضوع پر تحقیق کرنے والوں اور علمائے کرام کو سہولت ہو۔ ڈاکٹر احمد خان صاحب نے بڑی کاوش سے قرآن کریم کے مطبوعہ اردو تراجم کی ایک کتابیات تیار کی تھی جس کی اشاعت اسی ادارے سے 1988ء میں عمل میں آئی تھی۔ یہ کام 1986ء تک کے تراجم پر محیط تھا۔ یہ محققین، اساتذہ اور طلبہ کے لیے بہت مفید تھی، اور اسی لیے جلد ہی اس کے تمام نسخے فروخت ہوگئے۔ اس کی اہمیت اور قارئین کے تقاضوں کے سبب اس کی بارِ دگر اشاعت ضروری تھی۔ لہٰذا اس کا دوسرا ایڈیشن حاضر ہے۔ ادارے نے اس کتاب کی ازسرِنو خطِ نستعلیق میں حروف کاری کا اہتمام بھی کیا ہے۔
اس کتابیات میں قرآن شریف کے ایک ہزار سے زیادہ اردو تراجم کی کتابیاتی تفصیلات درج ہیں، اور یہ مطبوعہ تراجم ہی ہیں۔ جبکہ قرآن مجید کے اردو تراجم کی خاصی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو بوجوہ کبھی طبع نہ ہوسکی اور ان کے قلمی نسخے دنیا کے مختلف کتب خانوں اور عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر احمد خان صاحب نے ان غیر مطبوعہ اردو تراجم کی بھی ایک کتابیات تیار کردی ہے جس کی سعادت بھی ہمارے ادارے کو حاصل ہورہی ہے۔
ان دونوں جلدوں کی تیاری میں فاضل مؤلف نے جس جاں فشانی اور علمی تدقیق سے کام لیا ہے اس کی توصیف محترم سید عبدالقدوس ہاشمی جیسے جید عالم نے اپنے پیش لفظ میں کی ہے‘‘۔
حصہ اوّل میں ایک ہزار گیارہ تراجمِ قرآن کا تذکرہ ہے۔ احمد خان صاحب نے اس پر مبسوط مقدمہ تحریر فرمایا ہے۔ مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی تحریر فرماتے ہیں:
’’الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی النبی الذی لانبی بعدہ۔
یہ چھوٹی سی کتاب جو اس وقت پیش کی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ کی آخری مقدس کتاب القرآن الحکیم کے اردو تراجم کی ایک نہایت ہی معلومات آفرین، قیمتی اور اچھی محققانہ فہرست ہے جسے جناب ڈاکٹر احمد خان صاحب، ناظم مرکزی کتب خانہ، جامعہ اسلامیہ، فیصل مسجد، اسلام آباد نے بڑی طویل محنت اور تلاش و تحقیق کے بعد تیار کیا ہے۔
اس قسم کی فہرستوں میں استقصا کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے کہ اس میں بعض تراجم کا ذکر چھوٹ گیا ہو۔ یقیناً کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں سارے مکمل اور نامکمل ترجموں کا اندراج ضرور ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اردو تراجم القرآن کی سب سے بڑی فہرست ہے جو اب تک سامنے آسکی ہے۔ اگرچہ مختصر ذکر کے سوا بہت زیادہ معلومات اس فہرست میں مہیا نہیں ہوسکی ہیں، لیکن پھر بھی جو کچھ ہے، بہت غنیمت ہے اور یقیناً ڈاکٹر احمد خان کو بہت سا وقت لگا کر خاصی محنت کرنی پڑی ہوگی۔ میں اس کام پر ڈاکٹر صاحب موصوف کو مبارک باد کہے بغیر اور داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
بہت سی فہرستیں اور بہت سے مضامین دیکھنے کے بعد اتنی معلومات مہیا ہوسکی ہوں گی۔‘‘
غالب کی زبان میں:
سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
کتاب مجلّد ہے۔
کتاب
:
قرآن کریم کے اردو تراجم
(کتابیات) حصہ دوم
قلمی نسخے
مرتبہ
:
ڈاکٹر احمد خان
صفحات
:
292 قیمت:480 روپے
ناشر
:
ڈاکٹر رئوف پاریکھ۔ ڈائریکٹر جنرل، ادارہ فروغِ قومی زبان۔ ایوانِ اردو۔ قومی ورثہ ثقافت ڈویژن (حکومتِ پاکستان) پطرس بخاری روڈ ایچ 4/8 اسلام آباد
فون

051-9269760-62
ویب سائٹ
:
www.nipd.gov.pk
قرآن کریم کے اردو تراجم کا یہ حصہ دوم ہے، اس میں دنیا کی مختلف لائبریریوں میں موجود مخطوطات کو مرتب کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رئوف پاریکھ تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر احمد خان عربی مخطوطات کی تلاش و تحقیق کے لیے معروف ہیں اور گزشتہ نصف صدی سے اس میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ عربی مخطوطات کی اُن کی مرتبہ فہرست جو بارہ جلدوں پر محیط ہے عرب ممالک میں شائع ہوچکی ہے۔
قرآن کریم کے مطبوعہ اردو تراجم کی کتابیات بھی ڈاکٹر صاحب نے مرتب کی تھی جس کی اشاعت کی سعادت بھی ادارۂ فروغ قومی زبان (سابقہ مقتدرہ قومی زبان) کو حاصل ہوئی۔ ان کا یہ کام 1986ء تک کے تراجم کا احاطہ کرتا تھا۔ اس کتابیات میں درج قرآن مجید کے مطبوعہ اردو تراجم کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے، اور اب اس تعداد میں یقیناً اضافہ ہوچکا ہوگا۔ باوجود اس کے کہ دنیا کی دوسری بڑی زبانوں کے مقابلے میں اردو کی عمر زیادہ نہیں ہے، اردو میں قرآن کریم کے تراجم کی تعداد حیرت انگیز طور پر زیادہ ہے۔ یہ تعداد آخری آسمانی کتاب سے ہماری وابستگی اور عقیدت کی بھی مظہر ہے اور اس کی تفہیم کی کوششوں کی آئینہ دار بھی ہے۔ الحمدللہ، ترجمۂ قرآن، تفسیر اور حدیث کے موضوعات پر اردو زبان میں اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب یہ اس معاملے میں عربی اور فارسی سے آنکھ ملا سکتی ہے۔
قرآن کے اردو تراجم پر کئی تحقیقی کام کیے جاچکے ہیں، تاہم قرآن کریم کے اردو تراجم کی ایک بڑی تعداد مخطوطات/ قلمی نسخوں کی صورت میں بھی ہے۔ یہ تراجم بوجوہ طبع نہ ہوسکے، اس لیے ان کا ذکر بھی بالعموم تحقیقی کاموں میں نہیں ملتا، لیکن ان کا احاطہ کیے بغیر اردو میں قرآن کریم کے تراجم کی تاریخ اور مطالعہ مکمل نہیں ہوسکتا۔
زیر نظر جلد میں ڈاکٹر احمد خان صاحب نے بڑی جاں فشانی اور جستجو سے قرآن کے اُن غیر مطبوعہ تراجم کی فہرست پیش کی ہے جو قلمی نسخوں کی صورت میں پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک کے مختلف کتب خانوں اور اداروں کے ذخیرۂ مخطوطات میں محفوظ ہیں۔ اردو ترجمۂ قرآن کے قلمی نسخوں کی فہرست پر مبنی اس کتابیات سے اُن محققین اور علمائے کرام کو یقیناً مدد ملے گی جو اس موضوع پر کام کررہے ہیں۔ علوم ِقرآنی سے دلچسپی رکھنے والے عام قارئین اور طلبہ کے لیے بھی یہ کتاب ایک تحفہ ہے۔
ہم ڈاکٹر احمد خان صاحب کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اس اہم تحقیقی و علمی کام کی اشاعت کے لیے ہمارے ادارے کو منتخب کیا، اور اس طرح قرآن کریم کی خدمت میں ہمیں بھی ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اور ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے، آمین‘‘۔
اس گراں قدر تحقیق میں پاکستان کے مختلف کتب خانوں سے 74 مخطوطات کو شامل کیا گیا ہے۔ بھارت سے 75 سے 93 تک مخطوطات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دارالکتب مصریہ القاہرہ، کتاب خانہ بزرگ آیۃ اللہ العطمیٰ مرعشی قم ایران، اورینٹل اور انڈیا آفس لائبریری لندن کے مخطوطات کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔
آخر میں تراجم و تفاسیر کے چند نسخوں کے ابتدائی یا آخری صفحات کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں، اس کے علاوہ مختلف اشاریے بھی دیے گئے ہیں جن میں عنوانات، تراجم و تفاسیر، مترجمین اور مفسرین، کاتبینِ مخطوطات، مقاماتِ کتابت، کیفیت میں وارد شخصیات، مقامات، ادارے کتب وغیرہ… غرض تحقیق کے لیے جتنی ضرورتیں ہیں وہ پوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب مجلّد ہے، ڈاکٹر رئوف پاریکھ شکریے کے مستحق ہیں کہ ان کی توجہ سے یہ گراں قدر تحقیق سب کی دسترس میں آگئی ہے۔

Share this: