جماعت اسلامی انتخابی کامیابی کیوں حاصل نہیں کرپاتی؟

Print Friendly, PDF & Email

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روح اور اقدار کو دیکھا جائے تو جماعت اسلامی سے زیادہ کامیاب جماعت کوئی نہیں ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور جماعت اسلامی کا تشخص آج بھی ایک نظریاتی جماعت کا ہے۔ پاکستان جمہوری جدوجہد کا حاصل ہے، اور جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جمہوری جماعت ہے۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی سیاست اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست تھی، اور جماعت اسلامی بھی اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کرتی ہے۔ قائداعظم کی سیاست بدعنوانی سے پاک تھی، جماعت اسلامی کی سیاست بھی بدعنوانی سے پاک ہے۔ قائداعظم کی سیاست کا مقصد قوم کی خدمت کرنا تھا، جماعت اسلامی بھی صرف قوم کی خدمت کے لیے سیاست کرتی ہے۔ قائداعظم کے دل میں پوری امت کا درد تھا، اور پاکستان میں صرف جماعت اسلامی امت کے تصور کو لیے کھڑی ہے۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں، اور ان باتوں سے ثابت ہے کہ ملک میں جماعت اسلامی جیسی کوئی جماعت تھی، نہ ہے اور نہ ہونے کا امکان ہے۔ مگر جماعت اسلامی کی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی انتخابی دائرے کی ’’کامیاب‘‘ جماعت نہیں ہے۔ جماعت اسلامی سراج الحق، سید منور حسنؒ، قاضی حسین احمدؒ اور میاں طفیل محمدؒ کیا، مولانا مودودیؒ کے زمانے میں بھی انتخابی اعتبار سے کامیاب نہیں تھی ۔ سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں کامیاب کیوں نہیں ہے؟ بدقسمتی سے انتخابی سیاست میں جماعت اسلامی کی ناکامی کے اسباب کا شعور بھی عام نہیں ہے۔
پاکستان کی انتخابی سیاست کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پنجابی، پنجابی کو ووٹ دیتا ہے۔ مہاجر، مہاجر کو ووٹ دیتا ہے۔ سندھی، سندھی کو ووٹ دیتا ہے۔ پشتون، پشتون کو ووٹ دیتا ہے۔ بلوچ، بلوچ کو ووٹ دیتا ہے۔ جماعت اسلامی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تعصب کے معنوں میں نہ پنجابیوں کی جماعت ہے، نہ مہاجروں کی جماعت ہے، نہ سندھیوں کی جماعت ہے، نہ پشتونوں کی جماعت ہے، نہ بلوچوں کی جماعت ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کو ووٹ ملیں تو کس طرح؟ ایک زمانہ تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کی مقبول جماعت تھی، مگر الطاف حسین کی ’’مہاجریت‘‘ جماعت اسلامی کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ کھا گئی۔ ایک دور تھا کہ پنجاب کے ہر حلقے میں جماعت اسلامی کے پانچ سات ہزار سے دس بارہ ہزار تک ووٹ ہوتے تھے، مگر میاں نوازشریف کی ’’پنجابیت‘‘ جماعت اسلامی کا پورا ووٹ بینک کھا گئی۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، اور ہمارے معاشرے میں ’’اسلامیت‘‘ اور ’’پاکستانیت‘‘ کی بڑی اہمیت ہے۔ اتفاق سے جماعت اسلامی ’’اسلامیت‘‘ کی علامت بھی ہے اور ’’پاکستانیت‘‘ کی علامت بھی ہے، مگر بدقسمتی سے انتخابی سیاست میں ’’اسلامیت‘‘ اور ’’پاکستانیت‘‘ دونوں مجرد یا Abstract تصورات ہیں۔ انتخابی سیاست میں ٹھوس تصور پنجابیت ہے، مہاجریت ہے، سندھیت ہے، پشتونیت ہے، بلوچیت ہے۔ مذہبی دائرے کو دیکھا جائے تو اس دائرے میں ووٹ دیوبندیت اور بریلویت وغیرہ کی بنیاد پر پڑتے ہیں۔ اتفاق سے جماعت اسلامی نہ دیوبندیت کی علامت ہے، نہ بریلویت کی علامت ہے۔ چنانچہ اس دائرے میں بھی جماعت اسلامی ووٹ حاصل نہیں کر پاتی۔ مولانا مودودیؒ کی تعلیم کے زیراثر جماعت اسلامی دیوبندیت کا بھی احترام کرتی ہے اور بریلویت کا بھی احترام کرتی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کو احترام کی نہیں ’’عصبیت‘‘ کی ضرورت ہے۔ جب تک عصبیت کے معنوں میں آپ پنجابی، مہاجر، سندھی، پشتون، بلوچی، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث نہ ہوں اُس وقت تک معاشرہ آپ کو گلے نہیں لگاتا اور اپنے ووٹ سے نہیں نوازتا۔
انتخابی سیاست میں ایک بہت بڑا دائرہ Electables کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ نواز لیگ میں ہوں تب بھی جیت جاتے ہیں، تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کریں تب بھی فتح یاب رہتے ہیں، پیپلزپارٹی کا حصہ بن جائیں تب بھی کامیاب رہتے ہیں، اور آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں تو بھی کامران رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ایسے افراد کی تعداد ہمیشہ سے تقریباً 70 سے 75 کے درمیان ہوتی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں میں اس سے بھی زیادہ Electables موجود ہوتے ہیں۔ Electable کی انتخابی اہلیت بے پناہ ہے، مگر یہ لوگ صرف مال بنانے اور عہدہ و منصب حاصل کرنے کے لیے سیاست کرتے ہیں۔ ان کا کوئی دین، ایمان نہیں ہوتا۔ ان کا کوئی نظریہ، کوئی اصول اور کوئی ضابطہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بیشتر صورتوں میں ’’چلو تم اُدھر کو، ہوا ہو جدھر کی‘‘کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جماعت اسلامی نہ Electable کی جماعت ہے اور نہ اسے ایسے عناصر کی جماعت ہونا چاہیے۔ تو پھر جماعت اسلامی انتخابی ووٹ کے حصول میں کیسے کامیاب ہو؟
پاکستان کی سیاست اپنی اصل میں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست ہے۔ اسٹیبلشمنٹ میاں نوازشریف کے سر پر ہاتھ رکھ دیتی ہے تو وہ زیرو سے ہیرو بن جاتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی پشت پناہی کرنے لگتی ہے تو عمران خان ملک کے وزیراعظم بن جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے قومی مفادات کے لیے کئی محاذوں پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معرکہ آرائی کی ہے۔ اس نے مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس جیسی تنظیمیں کھڑی کیں۔ اس نے جہادِ افغانستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس نے کشمیر کے جہاد میں کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ حصہ ڈالا۔ مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی کبھی اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابی سیاست میں کامیاب نہیں ہے۔
پاکستان کی سیاست سرمائے کی سیاست ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر اربوں روپے صرف ہوتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف اور نواز لیگ نے صرف اشتہاری مہم پر دس دس ارب روپے خرچ کیے۔ انتخابی سیاست میں اشتہاری مہم کی اہمیت یہ ہے کہ اشتہارات کے ذریعے سیاسی جماعتیں عوام کے حواس پر چھا جاتی ہیں۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر تحریک انصاف اور نواز لیگ کے اشتہارات سب سے زیادہ تھے۔ اس طرح ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات سے عوام کو یہ پیغام مل رہا تھا کہ پارٹیاں تو صرف دو ہیں۔ ایک تحریک انصاف اور دوسری نواز لیگ۔ چنانچہ دونوں جماعتیں ہی بڑی پارٹیاں بن کر ابھریں۔ جماعت اسلامی غریب جماعت نہیں ہے، مگر جس الیکشن پر بڑی پارٹی 20 سے 25 ارب روپے صرف کرتی ہے، اس پر جماعت اسلامی صرف ایک ارب روپے صرف کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر جماعت اسلامی کو ووٹ کیسے ملیں اور وہ انتخابی طور پر کیسے کامیاب ہو؟
پاکستان کی سیاست کی تاریخ ہے کہ امریکہ سیاسی رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کے سیاسی مستقبل کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ بہت طاقت ور سہی، مگر وہ بھی اقتدار کے سلسلے میں امریکہ کی طرف دیکھتی رہی ہے۔ یہ صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ پوری مسلم دنیا کی کہانی ہے۔ امریکہ کو شاہ فیصل قبول نہیں تھے، چنانچہ بادشاہ ہونے کے باوجود انہیں مار دیا گیا۔ الجزائر میں مغرب کو اسلامی فرنٹ کا اقتدار میں آنا قبول نہیں تھا، چنانچہ الجزائر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مصر میں مغرب کو صدر مرسی کی حکومت منظور نہیں تھی، چنانچہ ان کے خلاف جنرل سیسی سے بغاوت کرا دی گئی۔ پاکستان کے سیاسی اقتدار پر بھی امریکہ کا گہرا اثر رہا ہے۔ اتفاق سے جماعت اسلامی کبھی امریکہ کی ’’گڈ بک‘‘ میں نہیں رہی۔ چنانچہ جماعت اسلامی پاکستان میں انتخابی اعتبار سے کامیاب ہو تو کیسے؟ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں؟ تو کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو انتخابی سیاست چھوڑ دینی چاہیے؟ جی نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے۔
انبیاء و مرسلین کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ حق و باطل کی کشمکش تھا۔ ہر پیغمبر نے دو کام کیے۔ پہلا کام یہ کیا کہ یہ بتایا حق کیا ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے؟ دوسرا کام یہ کیا کہ اپنے زمانے کے طاغوت اور باطل کو چیلنج کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک فرد ہونے کے باوجود بادشاہِ وقت نمرود کو چیلنج کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو چیلنج کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر اور شرک کی تمام طاقتوں کو چیلنج کیا۔ یہی دو کام انبیاء کی سنت کی پیروی کرنے والے مجددین نے کیے۔ امام غزالیؒ نے ایک جانب اپنے علمِ کلام سے یہ بتایا کہ حق کیا ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے یونانی فلسفے کے باطل نظریات کو چیلنج کیا اور ان کا بیج مار دیا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے زمانے میں ایک جانب یہ بتایا کہ حق کیا ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے، اور دوسری جانب انہوں نے بادشاہ وقت جہانگیر کی خلافِ اسلام روایات کو چیلنج کیا۔ مولانا مودودیؒ بھی مجددِ وقت تھے۔ انہوں نے بھی دو کام کیے۔ ایک جانب انہوں نے اپنے علمِ کلام سے یہ بتایا کہ حق کیا ہے اور اس کی تفصیل کیا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے اپنے زمانے کے باطل نظریات یعنی سرمایہ دارانہ فکر اور سوشلزم کو چیلنج کیا۔ مولانا نے پوری قوت کے ساتھ ان نظریات کی حامل ریاستوں امریکہ، یورپ، اور سوویت یونین کو بھی للکارا۔ یہی نظریاتی جدوجہد جماعت اسلامی کی اصل جدوجہد تھی۔ یہی جماعت اسلامی کا اصل تشخص تھا۔ مولانا کے زمانے کی سیاست میں بڑی خامیاں ہوں گی، مگر اس سیاست کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہ سیاست نظریاتی بنیادوں پر استوار تھی۔ نظریاتی سیاست اور نظریاتی جدوجہد کی اہمیت یہ ہے کہ یہ معاشرے کو اس کے صوبائی، لسانی، مسلکی اور فرقہ وارانہ جذبات سے بلند کردیتی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو اسلامی جمعیت طلبہ تعلیمی اداروں میں سب سے بڑی نظریاتی اور سیاسی قوت بن کر نہ ابھرتی۔ جماعت اسلامی کی برپا کردہ مزدور انجمنیں بڑے بڑے اداروں میں سوشلسٹ تنظیموں کے برج نہ الٹتیں، اور خود جماعت اسلامی 1971ء کے انتخابات میں 24 لاکھ ووٹ حاصل نہ کرتی۔ یہ ووٹ صوبائیت کے ووٹ نہیں تھے، لسانیت کے ووٹ نہیں تھے، فرقے کے ووٹ نہیں تھے، مسلک کے ووٹ نہیں تھے، سرمائے کے ووٹ نہیں تھے، Electables کے ووٹ نہیں تھے۔ یہ ’’نظریے کے ووٹ‘‘ تھے۔ نظریے کے یہ ووٹ مولانا مودودیؒ کی فکر، شخصیت اور جماعت اسلامی کی نظریاتی جدوجہد نے پیدا کیے تھے۔ بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کی سیاست نظریاتی نہ رہی۔ جنرل ضیاء الحق نے نظریاتی سیاست کی جگہ مفاداتی، لسانی اور فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد رکھی۔ اس سیاست نے ملک میں نظریاتی سیاست کا بیج ہی مار دیا۔ رہی سہی کسر سوویت یونین اور سوشلزم کے خاتمے نے پوری کردی۔ بلاشبہ جماعت اسلامی اِس وقت بھی ملک کی ہر جماعت سے زیادہ نظریاتی ہے، مگر اب اس کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ نظریاتی کشمکش نہیں ہے، حالانکہ مغربی تہذیب کا چیلنج ہمارے سامنے موجود ہے، اور یہ چیلنج سوشلزم کے چیلنج سے بہت بڑا ہے۔ بلاشبہ مولانا مودودیؒ نے سوشلزم کی بھی بہت مذمت کی ہے، مگر انہوں نے جدید مغربی تہذیب کے خلاف جتنی سخت زبان استعمال کی ہے اتنی سخت زبان انہوں نے سوشلزم کے خلاف بھی استعمال نہیں کی۔ مولانا نے ایک جگہ جدید مغربی تہذیب کو جاہلیتِ خالصہ قرار دیا ہے، دوسری جگہ اسے شجرِ خبیث قرار دیا ہے، تیسری جگہ اسے تخمِ خبیث قرار دیا ہے۔ یہ تہذیب پوری مسلم دنیا میں کفر اور الحاد پھیلا رہی ہے، مادہ پرستی کو عام کررہی ہے، دولت کی ہوس پیدا کررہی ہے، اور دولت کو زندگی کی اصل باور کرا رہی ہے۔ یہ تہذیب عریانی و فحاشی کا سیلاب لے کر آرہی ہے۔ یہ تہذیب مسلمانوں کو آخرت سے بیگانہ بنا رہی ہے، اور دنیا پرستی کو ایک قدر بنائے دے رہی ہے۔ چنانچہ اس تہذیب کے خلاف لڑنا عہدِ حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے۔ بدقسمتی سے جماعت اسلامی عصرِ حاضر کے اس
(باقی صفحہ 41پر)
چیلنج کا جواب نہیں دے رہی ہے۔ چنانچہ پاکستانی معاشرہ بہت تیزی کے ساتھ مغربی ہوتا جارہا ہے۔ ہماری نئی نسل کی خواہشیں ، آرزوئیں، تمنائیں اور خواب مکہ اور مدینہ سے نہیں، بلکہ واشنگٹن،لندن اور پیرس سے آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی نظریاتی جدوجہد کے بغیر ان تمام چیلنجوں کا جواب نہیں دے سکتی۔ نظریاتی جدوجہد صرف جماعت اسلامی کی نہیں پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔ اس جدوجہد کے بغیر لسانیت اور صوبائیت کے بتوں کو پاش پاش نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے کو فرقہ وارانہ اور مسلکی عصبیت سے بلند نہیں کیا جا سکتا۔ اسے ذات، برادری کے تعصبات پر قابو پانے کے قابل نہیں بنایا جا سکتا۔ جماعت اسلامی نظریاتی جدوجہد کرے گی تو نظریات کی بنیاد پر اس کا ووٹ بینک بھی بڑھے گا۔ اتفاق سے پاکستان میں نظریاتی جدوجہد صرف جماعت اسلامی نے کی ہے۔ آج بھی صرف وہی نظریاتی جدوجہد کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی نظریاتی جدوجہد کی طرف نہیں لوٹے گی اور معاشرے میں نظریاتی کشمکش برپا نہیں کرے گی تو اس کا سیاسی وزن کم ہوتا چلا جائے گا، اور ہمارا معاشرہ صرف پست خواہشوں، آرزوئوں، تمنائوں اور تعصبات کا معاشرہ بن کر رہ جائے گا۔

Share this: