طالبان کی سفارتی اور جنگی حکمتِ عملی

Print Friendly, PDF & Email

دنیا بھر کے ایسے تمام ادارے جو سفارت کاروں کو سفارتی آداب سکھاتے ہیں اور عسکری قیادت کو فنِ حرب کے اصولوں سے آشنا کرتے ہیں، وہ ہر نئے محاذ پر ہونے والی سفارتی اور جنگی حکمتِ عملی کو اپنی تعلیم کا حصہ ضرور بناتے ہیں۔ عسکری اکیڈمیوں میں نہ صرف عام جنگوں کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے بلکہ جنگی حکمتِ عملی کے لیے ان تمام گوریلا تنظیموں کی مضبوط صف بندی اور قوت کے بارے میں نہ صرف بتایا جاتا ہے بلکہ ان پر لکھی جانے والی کتب بھی باقاعدہ زیرِ بحث آتی ہیں۔ یہی عالم سفارتی محاذ کا بھی ہے۔ ویت نام کی گوریلا جنگ پر جنرل گیاپ (Giap)کی کتاب ’’War without weapons‘‘ (اسلحہ کے بغیر جنگ) جیسی کتب عسکری اکیڈمیوں میں فوجی تربیت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح ہنری کسنجر کی کتاب ’’Diplomacy‘‘جیسی کتب جو بدلتے وقت کے ساتھ نئے زاویوں کی نشاندہی کرتی ہیں، سفارت کاروں کو پڑھائی جاتی ہیں۔ لیکن وقت کا فیصلہ ہے کہ آئندہ دنیا بھر کے سفارتی اور عسکری تربیتی اداروں میں جو چیز پڑھائی جائے گی وہ طالبان کی عسکری حکمتِ عملی اور سفارتی کردار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے قیام اور سرد جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 77 سالوں کی یہ حیران کن عسکری اور سفارتی کامیابی ہے۔ غور کریں، بیس سال قبل 2001ء میں اقوامِ متحدہ کی متفقہ، ہم زبان قرارداد کے بعد پوری دنیا عالمی طاقتوں کی سربراہی میں متحد ہوکر عمر ثالث ’’ملا محمد عمرؒ‘‘ کے افغانستان پر اپنی پوری عسکری طاقت کے ساتھ صرف ایک مقصد لے کر ٹوٹ پڑی تھی کہ ’’افغانستان کی سرزمین کو دنیا کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ پوری دنیا کی پنچایت (Committee of Nations) سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور عسکری طور پر متحد تھی اور دنیا بھر کی پروپیگنڈہ مشینری طالبان کو ظالم، غاصب، دہشت گرد، انسانیت دشمن، خواتین مخالف اور حیوان صفت ثابت کررہی تھی۔ یوں لگتا تھا افغانستان ایسے ہے جیسے کوئی ریوڑ سے تنہا رہ جانے والا ایک میمنا، جس پر بھوکے بھیڑیوں نے حملہ کردیا ہو۔ لیکن بیس سالہ جنگ کے بعد، یہی پوری دنیا کی پنچایت اور عالمی عسکری قوتیں صرف گنتی کے پچاس ہزار طالبان کے سامنے جب مذاکرات کے لیے بیٹھے تو ان سے صرف ایک ہی چیز کا وعدہ لیا گیا، شاید ایک ہی بھیک تھی جو ان سے مانگی گئی اور جو طالبان امریکہ معاہدے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ وہ جنہیں دہشت گردی کا سرپرست بتا کر ان پر جنگ مسلط کی گئی تھی، آج وہی طالبان عالمی طاقتوں کو یہ ضمانت دے رہے تھے کہ تم بے فکر ہوکر اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ، ’’ہم افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ انسانی تاریخ کا یہ معجزہ اتنا سادہ اور عام سا نہیں ہے کہ اس پر حیران نہ ہوا جائے۔ یہ معاہدہ اور یہ اعلان بجائے خود سفارتی اور عسکری تاریخ کا مینارِ عظمت ہے۔ وہ طالبان کہ معاہدے میں جن کے نام کے سامنے بریکٹ میں یہ لکھا جائے ’’اماراتِ اسلامی افغانستان‘‘ (جسے امریکہ تسلیم نہیں کرتا)، اور دوسرے فریق کے طور پر دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک کی ’’تسلیم شدہ‘‘ قوت ’’امریکہ‘‘ کا نام لکھا ہو۔ وہ طالبان، جن کے پاس کوئی حکومت نہ ہو، کوئی فوج یا سیکرٹریٹ نہ ہو، ان کے مقابلے میں اشرف غنی کے پاس حکومت بھی ایسی ہو جسے دنیا بھر کے ہر ملک نے تسلیم کر رکھا ہے اور ہر ملک میں اس کے سفارت کار بھی بیٹھے ہوئے ہیں، مگر آئندہ کے لیے افغانستان میں امن کی ضمانت اور سرزمینِ افغانستان کو دوسروں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی تسلی صرف اور صرف طالبان دے رہے ہوں۔ منطق سے عاری ہیں وہ تبصرہ نگار جو اس معاہدے کے بعد بھی ابھی تک اس موضوع پر مضمون لکھتے اور گفتگو کرتے چلے جارہے ہیں کہ اگر طالبان نے اکیلے حکومت بنائی تو دنیا اسے تسلیم نہیں کرے گی۔ دنیا تو تسلیم کرچکی ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر بیٹھ کر امریکہ اور نہ نیٹو افواج اس بات کی ضمانت دے سکتی ہیں اور نہ ہی افغان حکومت یہ اعلان کرنے کی اہلیت رکھتی ہے کہ برملا کہہ سکے ’’آئندہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی‘‘۔ کیا ایسا کبھی اس سے پہلے دنیا کی عسکری، سیاسی اور سفارتی تاریخ میں ہوا ہے؟ بالکل نہیں۔ طالبان کی گزشتہ ایک سال کی ’’سفارت کاری‘‘ کا جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کے تمام اندازے یکسر بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہ تجزیہ نگار امریکہ کے بعد کے افغانستان اور پڑوسی کی بہت خوفناک تعبیر پیش کیا کرتے تھے۔ بات کچھ تھی ہی ایسی۔۔۔ جنگ کے آغاز میں تمام پڑوسی ممالک ازبکستان، تاجکستان، ایران اور پاکستان طالبان کے خلاف ہر سطح پر جنگ میں شریک تھے۔ تاجکستان سے امریکی افواج داخل ہوئیں، روس اور چین بھی، دونوں اپنے مخصوص حالات یعنی چیچنیا، تاتارستان اور مشرقی ترکمانستان میں مسلمان تحریکوں کے اٹھنے کے خوف سے طالبان کا مکمل صفایا چاہتے تھے۔ لیکن سفارت کاری کی معراج اور کامیابی کا درجۂ کمال دیکھیے کہ آج یہ تمام ممالک ان طالبان کو اپنے اپنے ملکوں میں مکمل ریاستی پروٹوکول دیتے ہیں۔ وہ طالبان جن کے پاس سفارتی سطح پر نہ کوئی حکومت ہے اور نہ ہی ان کے زیرِ سایہ کوئی ملک۔۔۔ وہ پاکستان جس نے طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا، آج ان کا وزیر خارجہ اپنے دفتر خارجہ میں طالبان کے وفد کا استقبال کرتا ہے۔ عسکری سطح پر پوری عالمی برادری کو ہرانا تو اب مسلمہ حقیقت ہے، لیکن بعد از امریکہ افغانستان پر اپنی ریاستی رٹ کو قائم کرنے اور کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے لیے جو عسکری حکمتِ عملی (Military Strategy)اختیار کی گئی ہے اس نے بھی دنیا کو حیران کردیا۔
(اوریا مقبول جان۔ روزنامہ 92۔ اتوار 18 جولائی 2021ء)

Share this: