طالبان کے ہاتھوں امریکہ کی عالمی رسوائی

Print Friendly, PDF & Email

افغانستان کی سرزمین پر عالمی سامراجی قوتوں نے ہمیشہ یلغار کی ہے۔ پہلے برطانیہ نے قبضہ کیا، اس کے بعد سرخ سامراج نے دھاوا بولا، اور آخر میں جدید ترین سامراج امریکہ نے افغانستان کو تاراج کیا۔ اس پہلو سے کئی بار سوچا کہ افغانستان میں آخر وہ کون سا رومانوی سحر تھا جس کی وجہ سے سامراجی قوتیں اس کی طرف متوجہ رہیں۔ اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو جلد یا بدیر افغانستان سے رسوا ہوکر جانا پڑا، خاص طور پر امریکہ کو اپنے تمام لائو لشکر کے ساتھ ناکام لوٹنا پڑا۔ ان تینوں سامراجی ممالک نے اپنے اپنے دور میں افغانستان میں پٹھو حکومتیں قائم کیں، اور ہر حکومت افغان مزاحمت کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔
جب سرخ سامراج سوویت یونین نے شکست کھائی تو پاکستان میں روس نواز پارٹیوں اور دانشوروں میں سراسیمگی پھیل گئی تھی، انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ مجاہدین نے سوویت یونین کو شکستِ فاش سے دوچار کردیا ہے۔ عبرت ناک منظر تو وہ تھا جب لوگ ماسکو کے گلی کوچوں میں لینن کے مجسمے کو توڑ تاڑ کر گھسیٹ رہے تھے، اس پر تھوک رہے تھے اور جوتیاں مار رہے تھے… اور سوویت یونین تاریخ کے مقبرے میں دفن ہورہا تھا۔ اس شکست سے کئی مسلم ریاستیں آزاد ہوگئیں اور لینن کا سوویت یونین تاریخ کے مدفن میں دفن ہوگیا۔ یہ ایک تاریخی موڑ تھا جس میں سرخ استعمار اپنی حیثیت کھو بیٹھا۔ یہ اتنا بڑا صدمہ تھا کہ پاکستان کا نام نہاد لیفٹ اس کو برداشت نہ کرسکا اور اپنی منزل کھو بیٹھا۔ اس کے بعد قوم پرستوں اور بائیں بازو کی پارٹیوں اور دانشوروں نے امریکہ نواز پارٹیوں میں پناہ لی۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا المیہ اور ان قوتوں کے لیے شدید ترین صدمہ تھا۔ یہ ایک لحاظ سے تاریخی انحراف تھا۔ 1917ء کے سرخ انقلاب نے افغانستان کی مقدس سرزمین پر دم توڑ دیا۔ درہ سالانگ سے سرخ فوج اپنی آب و تاب سے جدید اسلحہ کے ساتھ 1978ء میں افغانستان میںداخل ہورہی تھی، اور واپسی پر سرخ فوج کا جنرل دریائے آمو پار رخصت ہورہا تھا، اور اس کا خاندان اسے دیکھ رہا تھا۔ جب وہ اپنے بیوی بچوں سے ملا تو رو رہا تھا، اور سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شکست اور واپسی کا ملا جلا ردعمل تاریخ دیکھ رہی تھی۔ مجاہدین کابل میں حکمران بن رہے تھے۔ افغانستان میں برطانوی سامراج کے بعد سوویت یونین کی شکست اور واپسی تاریخ کا حصہ بن رہی تھی۔ برطانیہ نے شکست کھائی تو سکڑتا چلا گیا، اور اپنے وقت کی سپرپاور کا یہ انجام ہوا۔ اس کے بعد سوویت یونین نے مقدس سرزمین پر بدترین شکست کھائی جس کے نتیجے میں اس کا سپر پاور کا بھرم کھل گیا اور مقبوضہ ریاستوں نے آزادی حاصل کرلی۔ یہ تاریخ کے لیے ایک عبرت کا پہلو ہے۔ اور جب امریکہ اور پورا مغرب نیٹو کے جھنڈے تلے افغانستان میں طاقت، قوت اور جدید اسلحہ کے ساتھ جارحیت کے مرتکب ہوئے تو ایک ہی بہانہ تھا کہ اسامہ بن لادن کو مارنا ہے اور طالبان کو فنا کے گھاٹ اتارنا ہے۔ ایک شخص نے پوری امریکی ریاست اور مغرب کو مضطرب کرکے رکھ دیا تھا۔ امریکہ اور نیٹو نے جدید اسلحہ سے طالبان پر حملہ کیا ، تاریخ کی بدترین سفاکی روا رکھی، قتلِ عام کیا، طالبان کو کنٹینروں میں بند کرکے ان کے خون سے ہولی کھیلی، ہزاروں طالبان کو تہِ تیغ کیا۔ پوری دنیا اس سفاکی، جارحیت اور قتلِ عام پر خاموش تھی، اور پاکستان کے سابقہ لیفٹسٹ اور قوم پرست حلقے اس پر شادمان تھے۔ کسے یقین تھا کہ طالبان دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں اور تاریخی مزاحمت کرکے کامیاب ہوسکتے ہیں! جب امریکہ اور نیٹو نے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو دسمبر میں کراچی جانا ہوا، بلکہ میں دسمبر میں اکثر کراچی جاتا رہا ہوں، تو جماعت اسلامی کے نائب امیر اور سابقہ رکن پارلیمنٹ مظفر ہاشمی (مرحوم) نے مجھے دعوت دی کہ افغانستان کی جدید صورتِ حال پر تجزیہ پیش کریں۔ عصر کے بعد نشست تھی، چالیس کے لگ بھگ سامعین موجود تھے جن میں پروفیسر، دانشور اور جماعت کے بعض ذمہ داران بھی شامل تھے۔ مجھے موضوع دیا گیا تھا ’’افغانستان میں امریکہ کی جارحیت، افغانستان کا مستقبل اور طالبان کا کردار‘‘۔ جب میں نے اپنا تجزیہ شروع کیا تو ایک نگاہ سامعین پر ڈالی،سب کے چہروں پر اداسی اور مایوسی نظر آئی۔ طالبان کی شکست کے اثرات بڑے گہرے تھے، ایسے ماحول میں تجزیہ کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ کوئی 30 منٹ تجزیہ کیا، اور 40 منٹ سوالات کے جوابات کے لیے تھے۔ میں نے سامعین کے سامنے دو پہلو رکھے، ایک یہ کہ طالبان دوبارہ اٹھیں گے اور ان کے دوبارہ متحرک ہونے میں 3 سال لگیں گے، اوروہ امریکہ کو اُس کے اتحادیوں سمیت شکست سے دوچار کریں گے۔ آپ مایوس نہ ہوں، ذرا وقت کا انتظار کریں، اور میں نے جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ مستقبل میں درست نظر آئے گا۔میرے تجزیے نے سامعین پر کوئی اثر نہیں ڈالا ،لیکن میں مطمئن تھا۔ اس کے بعد انتہائی سادہ عصرانہ تھا۔
ایک اور بات کرنا چاہتا ہوں، جب امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کرلیا اور طالبان کی حکومت ختم ہوگئی توکیفے بلدیہ میں نور محمد اچکزئی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے اور کیا تجزیہ ہے؟ میں نے کہاکہ طالبان امریکہ کو شکست دیں گے۔ انہوں نے بھی میرے تجزیے سے اتفاق نہیں کیا۔ ان سے کہا کہ آپ ذرا مستقبل کا انتظار کریں، میرا تجزیہ درست ثابت ہوگا۔ اس دوران کیفے بلدیہ میں ہزارہ قبیلے کے بعض دانشوروں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی، تو اُن سے کہاکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ پہلے سوویت یونین ٹوٹتا ہے یا یوگوسلاویہ؟ اس پر وہ خوب ہنسے اور کہا کہ امان صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں، اور آپ کی بات پر کون یقین کرے گا؟ بین الاقوامی سطح پر بھی ہر قسم کے تجزیے ہورہے تھے، اور اتفاق دیکھیے کہ یوگوسلاویہ کے صدر غیر ملکی دورے سے واپس ہوئے اور قوم سے خطاب کررہے تھے کہ اس دوران بغاوت پھوٹ پڑی جس میں صدر کو مع اُن کی بیگم اور حامی جنرلوں کے، موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کے بعد سوویت یونین کی باری آئی اور 1917ء کے انقلاب نے دم توڑ دیا۔ یہ مجاہدین کی کامیابی کا نتیجہ تھا۔ مجاہدین جب کامیاب ہوئے تو کہا گیاکہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور امریکہ پشت پر تھے۔ ان سے کہا کہ ایک دن امریکہ افغانستان میں شکست کھائے گا تو آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟
آج امریکہ اور نیٹو کی قاہرانہ فوج نے شکست کھائی ہے اور وہ وقت سے پہلے افغانستان سے رخصت ہورہے ہیں۔ اس پر سابق صدرِ امریکہ بش چیخ پڑا ہے کہ امریکہ کو اس طرح نہیں جانا چاہیے تھا، لیکن موجودہ صدر بائیڈن نے کہاکہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب افغانستان میں کسی جنگ کی ضرورت نہیں ہے، اسامہ کے مارے جانے کے بعد امریکہ کا وہاں ٹھیرنا درست نہیں ہے۔ اب افغانستان کی سرزمین سے سپر پاور شکست کا داغ لیے رخصت ہورہی ہے۔

Share this: