چوتھا باب: بجلی کی پیداوار

Print Friendly, PDF & Email

(پانچواں حصہ)

یاد رکھیں، ہوا اور سورج ذرائع سے توانائی کی پیداوارکے معاملے میں اکثر ریاستیں امریکہ جیسی خوش نصیب نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم یہاں امید کرسکتے ہیں کہ قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ سے زیادہ ذرائع بہت بڑے تناسب میں بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جتنے بھی سولر پینل اور ٹربائن نصب کردیں، دنیا کو صاف بجلی کی پیداوار کے لیے نئی ایجادات کی ضرورت ہوگی۔ پہلے ہی بہت بڑے پیمانے پر تحقیق جاری ہے۔ مجھے جو کام پسند ہے، وہ سائنس دانوں اور ماہرین سے ملاقاتیں کرنا اور زیادہ سے زیادہ سیکھنا ہے، کہ آیا اب تک اس معاملے میں وہ کہاں تک پہنچے ہیں۔ سالوں سے breakthrough energy میں میری سرمایہ کاری سے کچھ ایسے نئے طریقے سامنے آئے ہیں کہ جن کا ارتقاء انقلاب لاسکتا ہے، اور ہم بجلی کی پیداوار میں ’صفر اخراج‘ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ نئے طریقے ابھی مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔ چند خاصے مستحکم ہوچکے ہیں، انہیں آزمایا بھی گیا ہے، جبکہ دیگر بالکل بے کار ثابت ہوئے ہیں۔ بہرکیف چند طریقوں پر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے کم از کم کچھ کارناموں کی امید کی جاسکتی ہے۔
کاربن فری بجلی کی پیداوار
ایٹمی شقاق (Nuclear Fissure): اسے ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ واحد کاربن فری توانائی کا ذریعہ ہے جو بلا تعطل صبح شام بجلی مہیا کرسکتا ہے، یہ کام ہر موسم میں اور کسی بھی خطۂ زمین پر انجام دے سکتا ہے کہ جہاں یہ کام قابلِ عمل ہو۔ صاف توانائی کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ نیوکلیئر توانائی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔
امریکہ اپنی بیس فیصد بجلی کی ضرورت نیوکلیئر پلانٹس سے پوری کرتا ہے۔ فرانس سب سے زیادہ ستّر فیصد بجلی نیوکلیئر ذریعے سے حاصل کرتا ہے۔ جبکہ موازنہ کیا جائے تو سورج اور ہوا دنیا بھر کی بجلی کا صرف سات فیصد پیدا کرتے ہیں۔
مستقبل میں یہی نظر آرہا ہے کہ پاور گرڈ کو کاربن سے پاک کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ نیوکلیئر پلانٹ کام میں لائے جائیںگے۔ امریکہ کے میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے تقریباً ایک ہزار ایسے طریقوں پر تحقیق کی ہے کہ جن سے صفر کاربن تک پہنچا جاسکے۔ سارے سستے ذرائع ایک ہی جانب اشارہ کررہے ہیں: نیوکلیئر توانائی۔ اس کے سوا صاف ستھری بجلی بہت مہنگی پڑے گی۔
اسی طرح سیمنٹ، فولاد، اور شیشے کی صنعت میں بھی کاربن فری توانائی کا اوّل ذریعہ نیوکلیئر پلانٹ ہی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوئی راز نہیں کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اپنے بڑے مسائل ہیں۔ اس کی تعمیر و تنصیب پر بڑی لاگت لگتی ہے۔ انسانی غلطی بہت بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ یورینیم، وہ فیول جو اس میں استعمال ہوتا ہے، اس سے ہتھیار سازی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس کا فضلہ مہلک ہوتا ہے، اسے ذخیرہ کرنا مشکل ہے۔
تھری مائل آئی لینڈ امریکہ، چرنوبل سابق سوویت یونین، اور فیوکو شیما جاپان کے حادثات بڑی مثالیں ہیں۔ یہاں ایسے حقیقی مسائل درپیش ہیں، مگر ہم ان مسائل کوحل کرنے کے بجائے اس فیلڈ میں آگے بڑھنے سے ہی رک گئے ہیں۔ تصور کیجیے کہ اگر آج ہر کوئی اس بات پرمتفق ہوجائے اور کہے کہ گاڑیاں بند کردینی چاہئیں کیونکہ یہ جان لیوا ہیں، انسانوں کو ہلاک کررہی ہیں، ڈرائیونگ روک دی جانی چاہیے۔ ان کا استعمال فی الفور بند کردینا چاہیے۔ یقیناً اسے ایک احمقانہ خیال سمجھا جائے گا۔ ہم چاہیں گے کہ گاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے، جیسا کہ ہم پہلے ہی کافی کچھ کرچکے ہیں۔ ہم نے پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے قاعدے، قوانین اور ہدایات تشکیل دی ہیں۔ غرض ہر وہ کام کیا ہے جس سے گاڑی کا سفر جاری رہ سکے۔
یقیناً نیوکلیئر پاورگاڑیوں کی نسبت بہت ہی کم انسانوں کی موت کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح یہ قدرتی ایندھن کی نسبت بھی بہت کم نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دانوں اور انجینئرز نے نیوکلیئر خطرے سے بچنے کے لیے کئی حل تجویز کیے ہیں۔ میں اس معاملے میں Terra Powerکے طریقہ کار سے بہت پُرامید ہوں۔ یہ کمپنی میں نے 2008ء میں قائم کی تھی۔ اس کے لیے نیوکلیئر فزکس اور کمپیوٹرماڈلنگ کے بہترین دماغ یکجا کیے تھے، تاکہ وہ آئندہ نسل کے لیے نیوکلیئر ری ایکٹرتعمیر کرسکیں۔ کیونکہ کوئی بھی ہمیں اس تجربے کے لیے حقیقی دنیا میں اجازت نہیں دے رہا تھا، اس لیے ہم نے واشنگٹن میں سپر کمپیوٹرزکی لیب بنائی، جہاں ماہرین کی ٹیم مختلف ری ایکٹر ڈیزائنز کے لیے ڈیجیٹل طریقوں پر کام کررہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک ایسا نمونہ تیار کرلیا ہے جو سارے اہم مسئلے حل کردے گا، اسے traveling wave reactorکا عنوان دیا گیا ہے۔
ٹیرا پاور کئی طرح کے فیول کے ذریعے ری ایکٹر چلاسکتا ہے۔ اس کے لیے دیگر تنصیبات کے نیوکلیئر فضلے کو بھی کسی حد تک کام میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ ری ایکٹر نسبتاً بہت ہی کم فضلہ خارج کرتا ہے۔ یہ مکمل طور پر آٹومیٹڈ ہوگا، ہر انسانی غلطی کے امکان سے محفوظ ہوگا۔ اسے زیر زمین بھی تعمیر کیا جاسکے گا۔ حتیٰ کہ یہ ہر اعتبار سے محفوظ ہوگا۔ حادثات طبیعاتی قوانین کی مدد سے روکے جاسکیں گے۔
ہم ابھی اس پلانٹ کی تعمیر سے سالوں پیچھے ہیں۔ ٹیرا پاور کا یہ ڈیزائن ابھی سپر کمپیوٹر تک محدود ہے۔ ہم پہلے پروٹوٹائپ کی تعمیر کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
ایٹمی انفجار(Nuclear Fusion): یہ ایک اور، یکسرمختلف ذریعۂ توانائی ہے، جو مفید ہے، مگر اسے صارفین تک بجلی پہنچانے میں کم از کم ایک دہائی کا عرصہ درکار ہوگا۔ اس میں ایٹموں کو پھاڑکر توانائی پیدا نہیں کی جاتی، بلکہ انہیں ایک ساتھ قوت سے دھکیلا جاتا ہے، جس سے توانائی خارج ہوتی ہے۔ اس کی ابتدا (سورج کے نظام کی مانند) گیس سے ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہائیڈروجن کی مخصوص اقسام پرسب سے زیادہ کام ہورہا ہے۔ اسے غیر معمولی حدت پہنچائی جارہی ہے، پچاس ملین ڈگری سیلسئس سے بھی زیادہ، کہ جب یہ پلازمہ کی حالت میں آجاتی ہے۔ اس درجہ حرارت میں پارٹیکلز بجلی کی سی قوت سے حرکت کرتے ہیں، جیسا کہ ہائیڈروجن کے ذرات سورج پر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ہیلیم میں ڈھل جاتے ہیں اور بہت ساری توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ابھی تجربے کے مرحلے میں ہے، اس سے بڑی امیدیں ہیں۔ یہ سستی اور آسان ہوگی۔ تاہم اس کا ری ایکٹر تعمیر کرنا انجینئرنگ کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ اب تک جوفیوژن ری ایکٹرز موجود ہیں وہ صرف تجرباتی مقاصد کے لیے ہیں۔
اس وقت جو سب سے بڑا پراجیکٹ زیر تعمیر ہے، اس میں یورپی یونین اور چھ ملکوں کا اشتراک ہے۔ یہ جنوبی فرانس میں ITERکے عنوان سے ایک تجرباتی تنصیب ہے۔ اس کی تعمیر 2010ء میں شروع ہوئی، اور اب تک جاری ہے۔ 2020ء کے وسط تک ITERتوقع ہے کہ اپنا پہلا پلازمہ پیدا کرلے گا، اور زیادہ سے زیادہ قوت پیدا کرپائے گا، یہ دس گنا زائد ہوگی، یہ ایسا 2030ء کے آخر تک کرسکے گا۔ یہ نیوکلیئر فیوژن کی تاریخ کا اہم لمحہ ہوگا۔ یہ بڑے کمرشل پلانٹ کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔
مزید کئی اور جدتیں ہیں جو سامنے آرہی ہیں، جو اس انفجار کو مزید عملی بنادیں گی۔ مثال کے طور پر، میں ایسی کئی کمپنیوں کو جانتا ہوں جو بہت زیادہ درجہ حرارت سپر کنڈکٹر سے زیادہ طاقت ور میگنیٹک فیلڈ تیار کررہے ہیں، جوپلازمہ رکھ سکیں۔ اگر یہ طریقہ کام کرتا ہے تو ہم بہت چھوٹے فیوژن ری ایکٹرز بنانے کے قابل ہوسکیں گے، اور اس طرح یہ بہت تیزی سے اور سستی تیار ہوسکے گی۔ مگر بنیادی نکتہ یہ نہیں ہے کہ کسی کمپنی کے پاس ایسا آئیڈیا ہے کہ جس کی ہمیں ضرورت ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر نیوکلیئر توانائی کے لیے سنجیدگی اختیار کرلے۔ یہ سب سے بڑھ کر امید افزا ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
(جاری ہے)

Share this: