کراچی :کورونا کی چوتھی لہر

Print Friendly, PDF & Email

کورونا کی عالمی وبا ابھی تک قابو میں نہیں ہے۔ یہ وائرس دسمبر 2019ء میں چین میں رپورٹ ہوا تھا۔ 11 مارچ 2020ء کو اسے ’’عالمی وبا‘‘ قرار دیا گیا۔ اب تک 192ممالک کے 19 کروڑ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 40 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دسمبر 2020ء میں سب سے پہلے بھارت میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ دنیا کے کئی ممالک میں ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کا آغاز ہوچکا ہے اور تیزی سے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس وقت کراچی میں ڈیلٹا ویرینٹ کی شرح 92 فیصد سے بڑھ چکی ہے جو بھارت سے آیا ہے۔ بھارت میں اب تک چار کروڑ کے قریب کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ اموات کی مجموعی تعداد ساڑھے چار لاکھ کے قریب پہنچنے والی ہے۔ بھارتی قسم ڈیلٹا سے انڈونیشیا میں جولائی کے دو ہفتوں میں اب تک 44 ہزار 721 کیسز اور ایک ہزار 93 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، صرف 17 روز میں 114 ڈاکٹر ہلاک ہوچکے ہیں۔ اہم اور خطرناک بات یہ ہے کہ کراچی میں عام آدمی کے ساتھ ڈاکٹروں اور طبی عملے میں بھی کورونا وائرس انفیکشن کی شرح بڑھنے لگی ہے۔ اب شہر کے بڑے سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں میں جگہ ختم ہونے لگی ہے۔ نیپا کا انفیکشنز ڈیزیز اسپتال مکمل طور پر بھر چکا ہے، سول اسپتال کراچی میں 48 بیڈ کے سرجیکل وارڈ کو کورونا وارڈ میں بدلا جارہا ہے، اور جناح اسپتال کراچی کے چیسٹ وارڈ کو بھی کورونا وارڈ میں بدلنے کی تیاریاں شروع کی جاچکی ہیں، جب کہ لیاری جنرل اسپتال میں ڈیلٹا وائرس سے متاثر بچوں کی آمد شروع ہوگئی ہے جس کے باعث اسپتال کے کووڈ وارڈ میں بیڈز بڑھائے جارہے ہیں۔
انڈس اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انڈس اسپتال کا کورونا وارڈ اور ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے بھر گئے ہیں، اضافی بیڈز لگاکر مریضوں کو رکھا جارہا ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ایکسپو سینٹر کراچی میں مزید مریضوں کے داخلے کی گنجائش نہیں۔ آغا خان اسپتال نے کورونا کے مزید مریضوں کو لینے سے منع کردیا۔ ڈاکٹروں اور ماہرینِ صحت نے حکومت سے کراچی میں کورونا کے بھارتی ڈیلٹا ویرینٹ کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کردیا ہے۔ پروفیسر عبدالباری نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورت حال بے قابو ہوچکی ہے، عوام سے ایس او پیز پر عمل کرنے اور ویکسین لگوانے کی درخواست ہے۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈی نیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت چلنے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ماہرین نے مزید65 ڈیلٹا ویرینٹ کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ اس وقت کراچی میں جس طرح کی صورت ہے اب یہ تعداد بڑھ چکی ہوگی، کیونکہ یہ بات انہوں نے جمعرات کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں ایک اجلاس کی صدارت کے دوران کہی تھی۔ پروفیسر اقبال چودھری نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ وہ احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، شہر میں اس خطرناک ویرینٹ کے پھیلاو کو روکنے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
عالمی ادارئہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ڈیلٹا ویرینٹ اب تک کورونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کے نتیجے میں ہونے والی کووڈ 19 بیماری میں مریض میں عموماً وہی علامات دیکھنے کو ملتی ہیں جو کورونا وائرس کی دوسری اقسام سے ہونے والی بیماری میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ڈیلٹا ویرینٹ سے متاثر ہونے والے مریضوں میں کھانسی کی نسبت نزلہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔
عالمی ادارئہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس جولائی 2021ء کے آغاز میں کہا تھا کہ ڈیلٹا اب تک کی سب سے زیادہ متعدی قسم ہے۔ کورونا کی اس قسم میں متعدد میوٹیشنز موجود ہیں جن میں سے ایک ایل 452 آر ہے جو انسانی خلیات کو زیادہ آسانی سے متاثر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ امریکہ کے سرجن جنرل ڈاکٹر ویویک مورتھی کے مطابق ہم نے دریافت کیا ہے کہ کورونا کی یہ قسم سب سے زیادہ متعدی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق یہ گزشتہ سال برطانیہ میں سامنے آنے والی قسم ایلفا سے 40 سے 60 فیصد زیادہ متعدی ہے۔ ان کے مطابق حقیقی زندگی اور لیبارٹری شواہد دونوں سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسی نیشن مکمل کرانے والے افراد کو ڈیلٹا قسم سے تحفظ ملتا ہے۔ ڈاکٹر ویویک مورتھی کے مطابق اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ کی ویکسی نیشن ہوچکی ہے یعنی دوسری خوراک کو 2 ہفتے مکمل ہوچکے ہیں تو وائرس کے خلاف آپ کو کافی تحفظ مل چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کی ویکسی نیشن نہیں ہوئی تو آپ خطرے کی زد میں ہیں۔ تاہم اس وقت دستیاب کوئی بھی کووڈ ویکسین 100 فیصد افادیت نہیں رکھتی، اس لیے مکمل ویکسی نیشن والے افراد میں بھی بیماری کا امکان ہوسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا تو متعلقہ وائرس بہت طاقتور ہے جو بہت مختصر وقت میں ملک کی بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ کورونا اب ایسا مرض بن چکا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی شکل بدل رہا ہے، اب ایک نئی طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس مرض کی 200 کے قریب علامات سامنے آچکی ہیں جو لانگ کووڈ مریضوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس مہلک وائرس کی علامات وائرس لگنے کے بعد، جبکہ بعض کیسز میں صحت یابی کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، ایسی علامات کو لانگ کووڈ کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر 10 میں سے ایک یا 3 میں سے ایک مریض کو کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد لانگ کووڈ کا سامنا ہوتا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر جو اب چوتھی لہر بن رہی ہے اتنی ہلاکت خیز ہوگی اس کا اندازہ نہ پہلے تھا اور نہ ہی شاید اب ہے۔ بھارت کی 6 ریاستوں میں کورونا وائرس کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔متعلقہ حکام نے کہا کہ ان ریاستوں میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اجتماعات سے گریز کریں۔
اس ساری صورتِ حال میں اہم سوال یہ ہے کہ اگر کورونا ڈیلٹا کی انڈین قسم پاکستان پہنچی ہے تو اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے تھے؟ کیا یہ اقدامات کافی تھے؟ اور کیا آج جب وبا تیزی سے پھیل رہی ہے تو حکومت اطلاعات فراہم کرنے کے علاوہ کوئی کام کررہی ہے؟ کیا اسپتالوں کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے؟ علاج معالجہ کی سہولتیں بہتر ہوئیں؟یقیناً اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ یہاں حکومت بھی ناکام ہے اور بدقسمتی سے عوام بھی ابھی تک اس کو سنجیدہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ڈیڑھ برس بعد بھی ہم ”کورونا، حقیقت یا فسانہ؟“ کی بحث میں جی رہے ہیں، اور، وبائی مرض کی ہلاکت خیزی میں تیزی آتی جارہی ہے، لیکن اس سے کوئی سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا ایک حقیقت ہے، اور لوگ ہمارے اردگرد متاثر ہوکر مر بھی رہے ہیں، اور اب نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد متاثر بھی ہورہی ہے اور موت کی طرف بھی جارہی ہے۔ اب عوام کو ”کورونا ہے یا نہیں؟“ کی بحث سے باہر آنا چاہیے۔ پوری دنیا میں انسان متاثر ہوچکے ہیں، اس لیے لوگ ایک وبا کو حقیقت مان کر اس سے بچنے کے لیے احتیاط کریں، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ تمام احتیاط کے ساتھ اللہ ہی کی توفیق سے اس وبا کا خاتمہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ابھی تک سائنس دان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس وبا کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا۔ سب کا کہنا یہی ہے کہ یہ برسوں کا معاملہ ہے، لہٰذا احیتاط ہی مسئلے کا حل ہے، اور کراچی میں خاص طور پر لوگوں کو خود احتیاط کرنی ہوگی، ورنہ یہ صورتِ حال پورے ملک میں پھیل سکتی ہے اور نتیجہ اِس انڈین ڈیلٹا کا، پڑوسی ملک میں دیکھا جاسکتا ہے۔

Share this: