کم یاب ہیں اہلِ نظر

Print Friendly, PDF & Email

زندگی حکمت سے نمو پذیر ہوتی ہے۔ ایک صدی ہوتی ہے، اقبالؔ نے کہا تھا:
ہوائیں ان کی، فضائیں ان کی، سمندر ان کے، جہاز ان کے
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ
اس سے نصف صدی پہلے، ایک بات اسد اللہ خاں غالبؔ نے سرسیّد احمد خاں کو سمجھائی تھی۔ سیّد صاحب نے ”دربارِ اکبری“ کا ترجمہ کیا۔ پھر ان سے دیباچے کی فرمائش کی۔ یہ ایک نظم تھی۔ خلاصہ اس کا یہ تھا کہ بجلی سے قمقمے روشن ہیں اور بھاپ سے ریل کا انجن رواں ہوتا ہے۔ میرے بھائی، تم کس کام میں پڑے ہو۔
غالبؔ کے زمانے سے تقریباً ساڑھے سات سو سال قبل امام غزالیؒ نے کہا کہ علم و فنون میں مسلمان روبہ زوال ہیں۔ کوئی معاشرہ ایسی غفلت کا شکار ہوتا ہے تو وہ محتاج ہوجائے گا۔ شہرئہ آفاق تصنیف ”احیاء العلوم“ میں امامؒ کا قول درج ہے: اگر کسی شہر میں طب کا پورا نظام غیر مسلموں کے ہاتھ میں چلا جائے تو اس کی نشاۃ ثانیہ شرعی فریضہ ہوگی۔
عوام اور علما ہی نہیں، محمود غزنوی سمیت اس عہد کے حاکم بھی سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے۔ غریب نواز خواجہ معین الدین چشتیؒ نے ان کی بے نظیر تصنیف کے بارے میں کہا تھا: اگر کسی کو مرشد نصیب نہ ہو تو یہ کتاب رہنمائی کے لیے کفایت کرے گی۔ یہ انہی کا مصرع ہے:
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
افسانہ نہیں، یہ واقعہ ہے۔ شیخِ ہجویرؒ، تاریخ نے جنہیں داتا گنج بخشؒ کے نام سے یاد رکھا، حصولِ علم پر بہت زور دیا کرتے۔ فرمایا: تمام علوم سے اتنا ضرور حاصل کرلو کہ خدا کو پہچان سکو۔ ریاضی، طبعیات، الجبرا اور عمرانیات، ہر علم بالآخر آدمی کو عرفانِ الٰہی تک لے جائے گا۔ بابائے اینتھروپالوجی جیمز کا کہنا یہ ہے کہ اوّلین معاشرہ مذہبی تھا۔ یہی ارشاد قرآنِ کریم میں ہے۔ آغازِ حیات میں انسان امّتِ واحد تھے۔ تاریخِ انسانی پر غور و فکر ہی سے اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر غالب ؔ نے یہ نکتہ اخذ کیا:
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
امّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
انصاف کی بات یہ ہے کہ کورونا کے خلاف سرکاری مہم ڈھنگ سے چلائی گئی۔ پاکستان اُن ملکوں میں شامل ہے، آغاز میں جہاں سب سے کم نقصان ہوا۔ اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں اور اقوام نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت سے دنیا بھر میں پھیلنے والے ڈیلٹا وائرس نے البتہ نئے خطرات کو جنم دیا ہے۔ ہوائی اڈوں پر مسافروں کی نگرانی کا اہتمام کیا جاتا تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ایک صحرا عبور کرنے کے بعد اب ایک نئے صحرا کا سامنا ہے۔ حکومت سے زیادہ عوام ذمہ دار ہیں۔ لا ابالی پن اور لاپروائی کی انتہا۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ ماسک پہننے سے گریز ہی نہیں کرتے، جہالت بھی پھیلاتے ہیں۔ جنگوں اور وباوں میں ظفرمندی کا انحصار حکومت نہیں پوری قوم کی اجتماعی بیداری پر ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون نے ’’انکشاف‘‘ فرمایا کہ وائرس امریکہ کی ایک لیبارٹری میں تیار ہوا۔ اسرائیل اس کی ویکسین بنائے گا، اور یہ کہ ان دونوں نے مل کر دنیا کو تہ و بالا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ مولانا محمد خاں شیرانی نے ارشاد کیا کہ کورونا نام کی کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ یہ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دینے کی سازش ہے۔ ایک مشہور ٹی وی پروگرام میں ایک حکیم صاحب نے ارشاد کیا کہ قرآن کریم میں ویکسین کا ذکر ہی نہیں، لہٰذا کوئی جواز ہی نہیں۔ معاشرے کو ہم نے کن لوگوں کے سپرد کردیا۔ کیسی پولیس، کیسی عجیب عدلیہ، کیسی بے رحم نوکر شاہی اور کیسے حکمران۔ چھ ہزار سال پہلے حمورابی نام کا ایک حکمران ہو گزرا ہے۔ اس عہد کے حجری کتبے پڑھ لیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پر وہ عبارت لکھی ہے، جو قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ کا ترجمہ محسوس ہوتی ہے ”ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب‘‘ اجتماعی حیات کی بقا اور فروغ کا انحصار قصاص پر ہے۔ قابلِ اعتماد نظامِ عدل پر، کہ امن وامان اور استحکام ہی میں زندگی فروغ پاتی ہے۔ علوم بھی، معیشت بھی۔ آزادی میں ڈسپلن اور ڈسپلن میں مکمل آزادی۔ انسانی صلاحیت کے بروئے کار آنے میں حریتِ فکر سب سے اہم ہے۔ فرانس کے عظیم دانشور فرانزز فینن نے کہا تھا: غلام اپنے آقا کے ذہن سے سوچتا ہے۔ ہٹیلا سے لے کر چنگیز خاں اور تاتاریوں سے روس اور امریکہ بہادر تک، لشکروں کی پیش قدمی الگ، اقوام کی پائیدار ترقی فقط علوم کے بل پرہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک برطانوی سلطنت پہ سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ یہ صنعتی انقلاب کی وجہ سے ممکن ہوا، جس کے پہلو بہ پہلو نشاۃ ثانیہ کی تحریک اٹھی۔ حضرت داؤد ؑ جیسے پیغمبرانِ عظام کے بعد، تاریخ کے عظیم ترین حکمران عمر فاروقِ اعظمؓ نے یہ کہا تھا: جس سے نفرت کرتے ہو، اُس سے ڈرتے رہو۔ ہماری کمزوری کا بھارتیوں نے ادراک کیا۔ پاکستانی طالبان کے پشت پناہ ہوگئے۔ پھر سے ان کی صف بندی میں لگے ہیں۔ صنعتی انقلاب کے عہد میں ڈارون جیسے کردار ابھرے۔ اس بے بہا سائنس دان کو ہم فقط نظریہ ارتقا کے حوالے سے جانتے ہیں۔ اس ایک ”انکشاف“ کے سوا کہ آدم زاد اور بندر ایک ہی خاندان سے تعلق اور مشترکہ جدّامجد رکھتے ہیں، فلسفہ ارتقا بعض اہم سائنسی حقائق پر مشتمل ہے۔ ابنِ عربی اور ول ڈیوراں نے زیادہ قابلِ اعتماد نتائج اخذ کیے۔ ول ڈیوراں نے کہا کہ چوتھی عظیم برفباری کے بعد جو آخری آدمی بچ رہا تھا، اس پر برق چمکتی رہی تا آنکہ اس کا دماغ بڑھنے لگا۔ ”فصوص الحکم“ میں شیخِ اکبر کا قول یہ ہے: آدم کو تخلیق کیا تو اللہ نے پچاس ہزار سال تک اس پہ نظر کی۔ قرآنِ کریم مطلع کرتا ہے کہ حضرت آدمؑ کی شکل میں 900سی سی کے بجائے 1350سی سی کے دماغ کا نیا انسان ظہور میں آیا، جس کی حیات دائمی ہے۔ حکمرانی بھی ایک علم ہے۔ احمقانہ مفروضہ یہ ہے کہ قبائلی طرزِعمل کے ساتھ امن و استحکام ممکن ہے۔ ایک ملک میں کئی نظام نہیں ہوسکتے، جس طرح ایک گھوڑے کی کئی لگامیں نہیں ہوتیں۔ وقت بیت اور بدل گیا ہے۔ حکمران طبقے کو مگر ادراک نہیں۔ ملک کو بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی سے زیادہ علمی تحریک کی۔ جذبات کے غلبے میں نہیں، زندگی حکمت سے نمو پذیر ہوتی ہے۔ اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ صائب الرائے لوگ ہی زندگی کے مطالبات کا ادراک کرسکتے ہیں۔ اقبالؔ کا شعر یہ ہے:
اہلِ دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہلِ نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ
(ہارون رشید۔روزنامہ 92۔منگل 3 اگست 2021ء)

Share this: