سید علی گیلانی اسلامی انقلاب اور آزادی کشمیر کا نقیب

Print Friendly, PDF & Email

دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کے لیے قابلِ تقلید اور جیتی جاگتی مثال، آزادیِ کشمیر کے بے تیغ مجاہد، الحاقِ پاکستان کے بے لوث سپاہی، اور جماعت اسلامی کا قیمتی اثاثہ، مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما جناب سید علی گیلانی 92 برس کی عمر میں اپنے رب کی طرف لوٹ گئے، جس کی طرف ہر ذی روح کو لوٹنا ہے۔ اُن کی 92 سالہ زندگی بہت سوں کی 92 صدیوں کی زندگی سے زیادہ متحرک اور سرگرم تھی۔ اُن کی موت پر مقبوضہ کشمیر ہی نہیں دنیا بھر کے ہر مسلمان کی آنکھ نم ہوئی ہے، اور پوری دنیا میں آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے غیر مسلموں نے بھی اسے اپنا نقصان جانا ہے۔
14 سال بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارنے والے اس مردِ جری کی موت بھی حالتِ نظر بندی میں ہوئی، اور تدفین بھی سنگینوں اور بندوقوں کے جلو میں ہوئی۔ ہر بار قابض و جابر بھارتی حکومت اور اُس کی کٹھ پتلی ریاستی حکومت کے لگائے ہوئے کرفیو اور دوسری پابندیوں کو زندگی کی پروا کیے بغیر توڑنے والا یہ بہادر بوڑھا شیربہت عرصے سے اپنے گھر میں نظربند تھا۔ لیکن اس بار اُس کی صحت کی حالت یہ تھی کہ پابندی توڑنے کے لیے دروازے تک جانے کی بھی اس کے ناتواں جسم میں سکت نہ تھی۔ وہ ہفتوں سے بستر پر تھا، اس حالت میں رب کی طرف سے بلاوا آگیا اور یہ بوڑھا شیر موت کے فرشتے کے ساتھ کسی حیل و حجت کے بغیر اُسی طرح چل پڑا جس طرح وہ بیسیوں بار بھارتی فوج اور ریاستی پولیس کو کسی مزاحمت کے بغیر گرفتاری دے کر اُن کے ساتھ چل پڑتا تھا۔ پہلے ریاستی پولیس یا بھارتی فوج کے بزدل سپاہی انہیں جلسہ گاہ، کسی پبلک مقام یا حیدر پورہ میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کرکے لے جاتے تھے اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے تھے، لیکن اِس بار قدرت نے بھارتی فوج اور ریاستی پولیس کے سورمائوں کو اس اعزاز سے محروم رکھا۔ یہ بدبخت اس بار زندہ علی گیلانی کو گرفتار کرکے نہیں لے جاسکے البتہ ان کی میت ساتھ لے گئے۔ اس کے لیے اِن سورمائوں نے علی گیلانی کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی، خواتین اور بچوں کو دھکے بھی دیے، اور پاکستانی پرچم میں لپٹی ہوئی ان کی میت زبردستی چھین کر لے گئے، لیکن دنیا کی بے حسی ملاحظہ ہو کہ انسانی حقوق کی کسی تنظیم اور عالمی سطح کے کسی ادارے نے اس عمل کی زبانی کلامی بھی مذمت نہیں کی۔ حالانکہ کسی میت کو زبردستی چھیننے، ورثا کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اپنانے، اور غم زدہ بچوں اور خواتین کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوئی انسانی معاشرہ اجازت نہیں دیتا، اور عالمی سطح پر اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بچوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سید علی گیلانی کا اعزاز دیکھیے کہ جس کا دن کے اجالے میں جنازہ ہوتا تو پورا کشمیر نمازِ جنازہ میں اُمڈ آتا، سورمائوں نے رات کے اندھیرے میں انہیں دفنا دیا۔ بھارتی پولیس اور فوج اپنے سورمائوں کو جس طرح پولیس اور فوج کی نگرانی میں دفن کرتی ہے اسی فوج اور پولیس نے یہ اعزاز ازخود سید علی گیلانی کی میت کو دے ڈالا۔
سید علی گیلانی اسلامی انقلاب اور آزادی کے نقیب تو تھے ہی، ساتھ ہی وہ منجھے ہوئے سیاست دان، شعلہ بیان مقرر اور روحِ دین پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت تھے۔ 29 ستمبر 1929ء کو زُوری منز تحصیل بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول بوٹنگو سوپور اور گورنمنٹ ہائی اسکول سوپور سے حاصل کی۔ اورینٹل کالج لاہور سے ادیب عالم، اور کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کیا۔ 1949ء میں اسکول ماسٹر بھرتی ہوئے اور بحیثیت سرکاری استاد 12 سال تک وادی کے مختلف اسکولوں میں خدمات انجام دیں۔ 1953ء میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ پہلی بار 28 اگست 1962ء کو گرفتار ہوئے اور 13 مہینے جیل میں رہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے زندگی کے 14 سال بھارتی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاست اور ریاست کے باہر مختلف جیلوں میں گزارے، مگر اپنے بنیادی اور اصولی مؤقف پر چٹان کی طرح جمے رہے۔ سید علی گیلانی 15 سال تک اسمبلی کے ممبر رہے۔ وہ ریاستی اسمبلی کے لیے 1972ء، 1977ء اور 1987ء میں سوپور سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے رہے۔ 30 اگست 1989ء کو بھارتی مظالم کے خلاف اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی میں امیر ضلع، ایڈیٹر اذان، قیم جماعت اور قائم مقام امیر جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 7 اگست 2004ء کو تحریک حریت کے چیئرمین اور ساتھ ہی حریت کانفرنس کے چیئرمین ہوگئے۔ علی گیلانی رابطۂ عالمِ اسلامی کے ممبر بھی رہ چکے تھے، اور 30سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جن میں رودادِ قفس، قصہ درد، صدائے درد، مقتل سے واپسی، دیدوشنید اور فکر اقبال پر شاہکار کتاب روحِ دین کا شناسا اول و دوم، پیام آخریں، نوائے حریت، بھارت کے استعماری حربے، عیدین، مقتل سے واپسی، سفر محمود میں ذکرِ مظلوم، ملتِ مظلوم، تُو باقی نہیں، What should be done، پس چہ باید کرد، اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں، ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیر کی تصویر کا، ہجرت اور شہادت، تحریک حریت کے تین اہداف، معراج کا پیغام، نوجوانانِ ملت کے نام، دستور تحریک حریت اور ولر کنارے اول دوم قابل ذکر ہیں۔ علی گیلانی مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا رہے۔ انہیں پیس میکر لگا ہوا تھا۔ جسم بغیر گال بلیڈر کے تھا۔ پہلے ایک گردہ نکالا گیا اور پھر دوسرے گردے کا 1/3 حصہ بھی آپریشن کرکے نکال دیا گیا۔ وہ تمام زندگی اس مظلوم ملت کو بھارت کے جابرانہ قبضے سے نجات دلانے میں مصروفِ جدوجہد رہے۔ اس دوران اُن پر ایک درجن سے زیادہ قاتلانہ حملے کیے گئے۔
مجھے اس مردِ حر کی زیارت کا شرف تو حاصل نہ ہوسکا، نہ ہی میرے گناہ گار ہونٹ اس مجاہدِ عظیم کے ہاتھوں کو بوسے دینے کا شرف حاصل کرسکے، لیکن مجھے ایک بار اُن سے ٹیلی فون پر بات کرنے کا اعزاز ضرور حاصل ہوا جو میرے لیے کسی اثاثے سے کم نہیں۔ ہم لاہور پریس کلب میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس (دستور) کی جانب سے میٹ دی پریس کے عنوان سے ایک پروگرام کرتے تھے، میں اُن دنوں اس یونین کا صدر تھا، اور غالباً حامد ریاض ڈوگر جنرل سیکرٹری۔ اس پروگرام میں ہم نے سید علی گیلانی کو ٹیلی فونک خطاب کے لیے مدعو کرنا چاہا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے متحرک کارکن، رہنما اور شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ جناب صفدر چودھری نے اس معاملے میں ہماری مدد کی اور سید علی گیلانی سے رابطہ کرکے وقت بھی لے لیا اور ٹیلی فونک رابطے کے لیے تکنیکی معاونت بھی فراہم کردی۔ مقررہ وقت سے پہلے ہی پریس کلب کا نثار آڈیٹوریم صحافیوں سے بھر گیا۔ سید علی گیلانی مقررہ وقت پر لائن پر آگئے۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں میڈیا کی ذمہ داریوں، پاکستان سے کشمیریوں کی محبت، اور کشمیری مسلمانوں کی مشکلات کو پاکستانی صحافیوں کے سامنے رکھا اور پھر صحافیوں کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔ سوال جواب کے سیشن کے دوران ٹیلی فونک رابطہ بار بار منقطع ہوتا رہا جو یقیناً بھارتی حکومت ہی کا ’’کارنامہ‘‘ تھا۔ میں چونکہ اس پروگرام کو کنڈکٹ کررہا تھا، اس لیے ابتدائی اور اختتامی گفتگو کے علاوہ سوالات بھی علی گیلانی کے سامنے پیش کررہا تھا۔ اس طرح مجھے تقریباً دو گھنٹے اُن کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ میں نے انہیں انتہائی متحمل، جرأت مند، باخبر اور ابلاغیات کے فن سے شناسا پایا۔ یہی تاثر دوسرے صحافیوں کا بھی تھا۔ یہ دو گھنٹے کی گفتگو مجھے آج بھی یاد ہے اور میرے لیے اعزاز کا درجہ رکھتی ہے۔
سید علی گیلانی نے تقریباً 68 سال مظلوم و محکوم کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔ یہ جنگ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے علاوہ عالمی سطح پر اپنے مضامین اور کتابوں کی شکل میں بھی لڑی۔ اس جدوجہد کے دوران جلد ہی انہیں قائدانہ کردار مل گیا، چنانچہ وہ تین بار ریاستی اسمبلی میں منتخب ہوکر وہاں بھی بھارتی حکمرانوں کے سینے پر مونگ دَلتے رہے۔ اُن کی مخلصانہ جدوجہد، دیانت دارانہ قیادت اور جرأت مندانہ کردار کے باعث مقبوضہ کشمیر کی دیگر جماعتوں نے بھی اُن کی قیادت کو بہت جلد تسلیم کرلیا۔ چنانچہ بہت جلد وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف جدوجہد کرنے والی جماعتوں کے متفقہ لیڈر بن گئے۔ گزشتہ تین چار دہائیوں سے وہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کے غیر متنازع لیڈر کی حیثیت اختیار کرچکے تھے، اور اس حیثیت میں حالتِ نظربندی میں اُن کا انتقال ہوا۔ وہ اپنی بوڑھی آنکھوں سے کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکے، لیکن کشمیر جب بھی بھارتی تسلط سے نکلے گا اور آزادی کا پرچم اس سرزمین پر لہرائے گا، کشمیری عوام اور اُن کی آئندہ نسلیں سید علی گیلانی کی جرأت، قیادت اور قربانیوں کو سلامِ عقیدت ضرور پیش کریں گی۔
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں

Share this: