بلوچستان: قانون نافذ کرنے والےاہلکاروں کا قتل ورثا کس کے سامنے احتجاج کریں؟

Print Friendly, PDF & Email

ـ26اگست2021ء کو بلوچستان کے شمال مشرق میں ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پر کام کرنے والے چار مزدوروں کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کارندوں نے اغوا کرلیا۔ اطلاع پر فرنٹیئر کور اور مقامی لیویز کے اہلکار تعاقب میں نکلے۔ اس اثنا کچ کے مقام پر لیویز فورس کی گاڑی عسکریت پسندوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آگئی۔ دھماکے سے تین اہلکار رسالدار میجر محمد زمان، نائب رسالدار مدثر اور سپاہی زین اللہ جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعے کی ذمہ داری بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے قبول کرلی جس کی انگریزی اور اردو زبان میں بنی پریس ریلیز تمام میڈیا ہائوسز کو جاری کی گئی۔ ذمہ داری لینے کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ تنبیہ کرچکے ہیں کہ پولیس اور لیویز جیسی فورسز ان کے سامنے رکاوٹ بننے سے گریز کریں، دوسری صورت میں ان پر بھی حملے کیے جائیں گے۔ اس عسکریت پسند گروہ کی جانب سے20 اگست کو ساحلی شہر گوادر میں چینی باشندوں کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا، جس میں دو مقامی بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
بعد ازاں مانگی ڈیم میں جاں بحق افراد کی میتیں تدفین کے بجائے زیارت کراس کے مقام پر رکھ کر دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کی قیادت پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما نواب ایاز جوگیزئی کررہے تھے۔ نیز کوئٹہ اور صوبے کے پشتون اضلاع میں احتجاجی مظاہرے شروع کرائے گئے۔ 4ستمبر کو کوئٹہ اور تمام پشتون علاقوں میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔ 5 ستمبر کو پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ لوگوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک تھی۔ سیاسی جماعتوں کے مختلف سطح کے رہنما بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے جاتے اور بیانات و تقاریرمیں کہا جاتا کہ پشتون علاقوں میں دانستہ حالات خراب کیے جاتے ہیں۔ اشارے فورسز کی طرف ہیں۔ اس بنا پر سردست مطالبہ ایف سی کو زیارت و ہرنائی کے اضلاع سے ہٹائے جانے کا تھا۔ اس مطالبے پر تعجب ہوتا ہے۔ اگر اس ضمن میں کوئی کوتاہی ہو تو یقیناً ضرور اس پر گرفت ہونی چاہیے۔ دوسری صورت میں سب کچھ کیسے مسلح تنظیموں کے رحم و کرم پر چھوڑا جاسکتا ہے؟ اور یہاں تو اس واقعے کے حوالے سے کچھ بھی مبہم نہیں ہے۔ مذکورہ تنظیم صاف صاف لفظوں میں ذمہ داری لے چکی ہے۔ صرف مانگی نہیں بلکہ صوبے کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں پولیس، لیویز، ایف سی اور فوج کے جوان نشانہ نہ بنے ہوں۔ جون 2013ء میں یہی تنظیم قائداعظم زیارت ریذیڈنسی بموں سے تباہ کرچکی ہے۔ اس سے متصل ہرنائی ضلع میں ایف سی پر حملوں کی تعداد کم نہیں، نہ ہی ان کے جوانوں کی اموات کی تعداد کم ہے۔
5 ستمبر کو جب پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی اسی صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے میاں غنڈی میں ایف سی پر ٹی ٹی پی نے خودکش حملہ کروایا جس میں 4 جوان جاں بحق اور 16اہلکاروں سمیت 18افراد زخمی ہوئے۔ یعنی تعجب اس بات پر ہے کہ جس مسلح گروہ نے مانگی میں لیویز اہلکاروں کو بم دھماکے میں قتل کیا، اُس کے بارے میں دھرنے میں مذمت کا ایک لفظ نہیں بولا گیا، نہ حکومت اور فورسز سے مطالبہ ہوا کہ وہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کریں۔ دھرنے میں کہا گیا کہ پشتون علاقوں میں حالات خراب کیے جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلح گروہ کو تنبیہ کی جاتی کہ وہ پشتون علاقوں میں اپنی کارروائیوں سے باز رہے۔ مگر اس کے برعکس احتجاج کے اس دورانیے میں مسلح تنظیموں سے دانستہ چشم پوشی اختیار کی گئی۔
عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان حکومت کا حصہ ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی جو کہ پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں، اس کوشش میں لگے رہے کہ دھرنا ختم ہو اور لیویز اہلکاروں کی تدفین ہو، لیکن پارٹی کے بیانات اصغر اچکزئی کی سعی اور فکر کے موافق نہ تھے۔ یوں 5 ستمبر کی رات بالآخر دھرنا ختم کردیا گیا اور میتیں دفنا دی گئیں۔
صوبے کے اندر ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں ایف سی کی چیک پوسٹ کے اندر اہلکار قتل ہوئے ہیں اورکچھ دور اگلی چیک پوسٹ پر ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کو خبر تک نہ ہوئی۔ چیک پوسٹوں سے اغوا کرکے بھی اہلکاروں کو قتل کیا گیا ہے۔ کوئٹہ کی پولیس لائن کے اندر ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ایس ایچ او کی نمازِ جنازہ سے قبل خودکش دھماکا ہوا جس میں ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسران جاں بحق ہوئے۔ سریاب کے پولیس ٹریننگ کالج کے اندر کی خون آشامی بھولنے والی نہیں جس میں60 زیر تربیت کیڈٹ ایک ایک کرکے قتل ہوئے۔ لورالائی کی چھائونی اور اس کے بعد ڈی آئی جی آفس میں پولیس بھرتی کے لیے تحریری ٹیسٹ کے دوران دہشت گردوں کے حملے جیسے کئی سنگین واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ پولیس، لیویز، ایف سی اور فوج کے جوان سیکڑوں کی تعداد میں مسلح تنظیموں کے حملوں اور اُن کے خلاف آپریشنز میں پیوندِ خاک ہوچکے ہیں، اور عام شہریوں خصوصاً دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں جو عسکریت پسندوں کے انتقام کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 31 مئی کو بولان کے علاقے مارواڑ میں ایف سی کے اویس کیمپ پر بی ایل اے کے حملے میں 12ایف سی اہلکار قتل ہوئے۔ گزشتہ چار ماہ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایف سی پر متعدد حملے ہوچکے ہیں جن میںچالیس سے زائد ایف سی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر حملے ہرنائی، بولان، سبی اور مکران میں ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے سیکڑوں اہلکار دہشت گرد حملوں میں جانیں گنوا چکے ہیں تو اُن کے ورثا کس کے سامنے احتجاج کریں؟کیا وہ ان سیاسی تنظیموں کے خلاف احتجاج کریں جن کے مؤقف نے کسی نہ کسی طرح ان تنظیموں کو تقویت دی ہے؟ایک فیشن عدالتی کمیشن کا بھی بن چکا ہے، ہر ایک منہ اٹھا کر عدالتی کمیشن کے قیام کی تکرار کررہا ہوتاہے۔

Share this: