”افغانستان کے بدلتے حالات.. .پاکستان اور خطے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات“

Print Friendly, PDF & Email

افغانستان کے حالات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہے۔ 15 اگست کو کابل کی فتح کے بعد جہاں عام تاثر یہ تھا کہ طالبان ان پے درپے فتوحات اور خاص کر کابل کی اچانک اور غیر متوقع فتح کے بعد مخالفین کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیاں کریں گے، وہاں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ طالبان کابل کی فتح کے فوراً بعد اپنی حکومت کا اعلان کردیں گے۔ لیکن یہ دونوں اندازے تادم تحریر غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ 19 اگست سے اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد سے طالبان کے بارے میں اب تک نہ تو کسی بھی علاقے سے قتل عام اور اپنے مخالفین سے انتقام لینے کی اطلاع آئی ہے، اور نہ ہی ان کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین سے کوئی بدلہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ طالبان کی وسعتِ قلبی کا اندازہ جہاں طالبان کی موجودگی کے باوجود کابل میں ان کے سیاسی مخالفین سابق صدر حامد کرزئی اور شمالی اتحاد کے دیگر سابق راہنمائوں کے تاحال کابل میں نہ صرف موجود رہنے سے لگایا جاسکتا ہے، بلکہ حیران کن طور پر یہ سب طالبان کی متوقع مخلوط حکومت میں شراکت کے بھی دعوے دار ہیں۔ اس صورت ِحال کے تناظر میں بعض تجزیہ نگار پنجشیر میں سابق نائب صدر امراللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی جانب سے مزاحمت کے اعلان اور ان کو ممکنہ طور پر بھارت اور خطے کی دیگر طالبان مخالف قوتوں کی جانب سے ملنے والی پشت پناہی سے طالبان کے مسائل میں اضافے کے خدشات ظاہر کررہے تھے، لیکن آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے دورئہ کابل اور ان کے اس دورے کے تیسرے روز طالبان کے ہاتھوں پنجشیر کی فتح سے اب بظاہر طالبان کا کوئی مضبوط مخالف میدان میں موجود نہیں ہے، لیکن جب تک ان کی جانب سے حکومتی ڈھانچے کا اعلان نہیں ہوتا تب تک افغانستان کے حالات کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔ اس تمام صورتِ حال کا سب سے تشویش ناک پہلو ہر گزرتے دن کے ساتھ عام افغانوں میں بھوک، بیماری، بے روزگاری اور خوف و بے یقینی جیسے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہونا ہے۔ اس صورت ِحال کو عام افغان کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اور طالبان کو برسراقتدار آئے ہوئے تین ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت سازی میں جو مشکلات پیش آرہی ہیں ان کے اسباب کیا ہیں؟ اس حوالے سے گزشتہ روز انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز پشاور کے زیراہتمام اسلامی جمعیت طلبہ کے اشتراک سے ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس سے سینئر صحافی، بی بی سی کے نامہ نگار اور مشرق ٹی وی کے سابقہ ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز محمود جان بابر، کابل سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رحمت اللہ مجاہد اور راقم الحروف نے تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ محمود جان بابر پاکستان کے اُن چند صحافیوں میں شامل ہیں جو حال ہی میں کابل کا دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں۔ انھوں نے افغانستان کی تازہ ترین صورت حال پر منعقدہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے حالیہ دورئہ کابل کے دوران اگر ایک طرف ایک غیر جانب دار صحافی کے طور پر کابل کے حالات جاننے کا موقع ملا تو دوسری طرف انہیں بطور ایک صحافی بھارت، ترکی، روس، امریکہ اور برطانیہ کے نشریاتی اداروں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے اور کابل کے حالات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان میڈیا چونکہ موجودہ حالات میں یا تو نان فنکشنل ہے، یا پھر حالات سے لاتعلق ہوچکا ہے، اس لیے اِس وقت کابل میں اطلاعات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ افغان میڈیا چونکہ سابقہ حکومتی سیٹ اَپ کا حصہ تھا اس لیے اس سے منسلک لوگ یا تو زیر زمین ہیں، یا پھر وہ موجودہ حالات میں خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے ایک خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ افغان میڈیا کے بچے کھچے لوگ اب بھی اندرونِ خانہ سابقہ حکومت کے لیے نہ صرف نرم گوشہ رکھتے ہیں بلکہ ان کو سپورٹ بھی کررہے ہیں۔
محمود جان بابر نے بتایا کہ پشاور میں ایک ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز کے طور پر مجھے یہاں کئی افغان طلبہ کو انٹرن شپ دینے کا موقع ملتا رہا ہے، اس لیے جب میں کابل جا رہا تھا تو میرا خیال تھا کہ وہاں میرے یہ صحافی شاگرد مجھے ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور میرے ساتھ میرے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ہر ممکن تعاون کریں گے، لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ مجھ سے ملنے سے کتراتے رہے۔ کابل میں اپنے قیام کے دوران میں نے افغان معاشرے کو اشرف غنی اور اب طالبان کے برسراقتدار آنے کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔ میں ان دونوں ادوار کا ایک تقابلی جائزہ لینے کی کوشش بھی کرتا رہا، میں جس بات سے بہت حیران بلکہ پریشان تھا وہ افغانوں کا جہازوں کے ساتھ لٹک کر ملک سے فرار کی کوشش کرنا تھا۔ میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ آخر یہ لوگ اتنا بڑا رسک لے کر اپنے ملک سے کیوں فرار ہونا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب مجھے یہ ملا کہ افغانستان جو پہلے ہی سے معاشی مسائل کا شکار تھا اور جس میں امریکی موجودگی کی وجہ سے ایک مخصوص طبقہ ہی خوشحال تھا، اب طالبان کے آنے کے بعد جہاں اس طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد بیرونِ ملک جانے کے لیے بے قرار تھے، وہاں معاشرے کی ایک بڑی آبادی خوشحال مستقبل کی تلاش میں اس موقع کو نعمتِ غیر مترقبہ سمجھ کر ہر حال میں افغانستان سے انخلاء کے خواہش مند تھی۔ اصل میں ان لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ اور یورپ جانے کا اس سے بہترین موقع پھر کبھی نہیں مل سکتا، لہٰذا اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ باہر جانے کے خواہش مندوں کا خیال تھا کہ چونکہ ملک کا سب سے موثر طبقہ چاہے وہ کاروباری لوگ ہوں یا سرکاری محکموں میں کام کرنے والے… وہ سب ملک یا تو چھوڑ چکے ہیں یا چھوڑنے والے ہیں، اس لیے اب ان کے لیے یہاں کام کرنے کی کوئی چوائس نہیں بچی۔ اسی احساس کے ساتھ یہ سب لوگ افغانستان سے بھاگنے کے چکر میں ہیں۔ میں نے حتی الوسع کوئی ایسی چیز یا شخصیت ڈھونڈنے کی کوشش کی جو افغانوں کے وطن سے انخلاء میں رکاوٹ بن سکے، لیکن کوشش کے باوجود مجھے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی، اور نہ ہی افغانوں نے ایسی کسی چیز کی نشاندہی کی جس کی وجہ سے انہیں وطن سے بھاگنے سے روکنے پر مجبور کیا جاسکتا۔ افغانوں کے ملک سے انخلاء کی ایک اور بڑی وجہ ملک میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کو بھی قرار دیا جارہا تھا۔ طالبان سے پہلے اشرف غنی حکومت میں کرپشن کے علاوہ لوٹ مار اور بدامنی اپنے عروج پر تھی جس سے عام لوگ، خاص کر مراعات یافتہ طبقہ بہت تنگ تھا۔
طالبان کی موجودہ قیادت اور ماضی کے طالبان میں پائے جانے والے فرق کے بارے میں محمود جان بابر نے بتایا کہ اس مرتبہ طالبان کافی بدل چکے ہیں۔ ماضی کے برعکس اب گاڑیوں میں لوگ کھلے عام میوزک سن رہے تھے۔ بازاروں میں خواتین کی آمد ورفت بھی جاری تھی، ان پر مجھے کوئی قدغن نظر نہیں آئی، بلکہ اب تو طالبان کابل شہر کے وسط میں ان کے احتجاج کو بھی برداشت کررہے ہیں۔ ٹی وی چینلز میں بھی خواتین تھوڑے بہت پردے کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں بالعموم تمام افغانوں میں ناراضی پائی جاتی ہے، بعض کھل کر اس کا اظہار کرتے ہیں جبکہ بعض دبے الفاظ میں پاکستان کو کوستے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر افغانی اپنے مسائل کا ذمہ دار سب سے زیادہ پاکستان کو قرار دیتے ہیں جو یقیناً ہم سب کے لیے تشویش اور تکلیف کی بات تھی۔ ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ عام افغانوں کو سب سے زیادہ شکوہ بھی پاکستان سے ہے اور وہ پاکستان سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہی ان کو بچا سکتا ہے، خطے کا کوئی اور ملک کسی بھی مصیبت میں پاکستان سے بڑھ کر ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ بعض لوگ تو یورپ اور امریکہ سے بھی زیادہ پاکستان میں بسنے اور وہاں جانے کے متمنی نظر آئے، کیونکہ ان کے رشتے دار یہاں مقیم ہیں اور یہاں انہیں زندگی کی وہ تمام سہولیات دستیاب ہیں جو اور کہیں نہیں ہیں۔ افغانوں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کو افغانوں کے لیے ویزے کی شرائط ختم کرنی چاہئیں اور ماضی کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں وہ پاکستان سے یہ رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ افغانستان میں حالات خراب ہونے کے باوجود اشیائے ضروریہ نہ صرف دستیاب ہیں بلکہ ان کے نرخ پاکستان سے بھی کم ہیں، حالانکہ وہاں حکومتی سیٹ اَپ نہیں ہے اور ایک خلاء کی کیفیت ہے، لیکن پھر بھی بازاروں میں نرخ کنٹرول میں ہیں جو میرے لیے بڑے تعجب کی بات تھی۔
رحمت اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افغان طالبان میں اس وقت کئی دھڑے ہیں جن میں ایک دوحہ کا سیاسی دھڑا ہے جس کی قیادت ملا عبدالغنی برادر اور عباس ستانکزئی کررہے ہیں، دوسرا مجاہدین کا وہ دھڑا ہے جو حقانی نیٹ ورک اور ملا محمد عمر کے بیٹے ملا یعقوب کی قیادت میں جنگی میدان میں فتوحات حاصل کررہا ہے۔ دوحہ کا سیاسی دھڑا دنیا کے ساتھ چلنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جس نے فتح کابل سے پہلے چین، روس، ایران اور پاکستان سمیت امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کو پُرامن اور ماضی سے بدلے ہوئے افغانستان کی یقین دہانیاں کرائی ہیں، جبکہ طالبان کا سخت گیر رویہ رکھنے والا دھڑا نہ صرف ماضی کی طرح شرعی قوانیں پر سختی سے عمل درآمد پر زور دے رہا ہے بلکہ وہ اپنے مخالفین کو کچھ زیادہ رعایت دینے کے حق میں بھی نہیں ہے۔ سیاسی دھڑا مخالفین کے ساتھ کسی حد تک مخلوط حکومت بنانے پر آمادہ نظر آتا ہے، البتہ جہادی دھڑا ایسے کسی بھی سیٹ اَپ کا سخت مخالف ہے۔ طالبان پر پاکستان کے حوالے سے ایک دبائو یہ بھی ہے کہ انھوں نے دوحہ معاہدے میں دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لہٰذا وہ اپنے اس معاہدے کی پاس داری کے پابند ہیں، بصورتِ دیگر انہیں سخت بین الاقوامی دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طالبان کے برسراقتدار آنے سے پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک سے دو طرفہ تجارت کا موقع ملے گا۔ اشرف غنی کے دور میں پاکستان ان سہولیات سے یکسر محروم تھا، البتہ بھارت اور ایران اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے تھے۔ لہٰذا طالبان کے آنے کے بعد پاکستان ان کی موجودگی سے ہر ممکن معاشی اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میںٓ آجائے گا، جس سے خطے میں نہ صرف ایک نیا اقتصادی اور سیاسی بلاک بننے کی راہ ہموار ہوگی، بلکہ خطے میں عرصہ دراز سے پائی جانے والی بے اطمینانی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ ڈائیلاگ سے آئی آر ایس کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل اور وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمٰن قریشی نے بھی خطاب کیا۔

Share this: