نفاذ قومی زبان کی ناکامی

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں اردو زبان کے بطور قومی زبان نفاذ کا مسئلہ صرف جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے یا حکم سے مخصوص نہیں، اور نہ قائداعظم کے اس اعلان سے مخصوص ہے جو انھوں نے ڈھاکا کے اجتماعِ عام میں بڑے واشگاف الفاظ میں دیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ بلکہ اس واشگاف بیان سے بھی قبل تحریکِ پاکستان کے دوران پاکستان میں اردو زبان کے بطور قومی زبان نفاذ کا فیصلہ تو مسلم لیگ کے اجلاسوں میں بھی کھلے لفظوں میں ہوتا رہا، گویا قیامِ پاکستان سے پہلے یا تصورِ پاکستان کے اظہار کے وقت سے ہی ایک واضح فیصلے کی صورت اختیار کرچکا تھا جس کی قائداعظم کے اعلانِ ڈھاکا اور آئینِ پاکستان میں اس سے متعلق شق میں اردو کے بطور قومی زبان نافذ کیے جانے کے اندراج سے تقویت اور توثیق ہوتی رہی ہے کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہوگی۔ یہ اور بات ہے کہ ہماری حکومتوں اور ان کے ذمے داران نے اپنے غلامانہ ذہنوں کے ذریعے، اور نوکر شاہی کےزیراثر اس بارے میں نہ کبھی سنجیدگی اختیار کی، نہ اس اہم اور بنیادی قومی تقاضے کو اہمیت دی اور اس کے نفاذ کی بابت کوئی مثبت و مؤثر اقدامات کیے۔ چناں چہ اس فیصلے کے آغاز سے جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے (8 ستمبر 2015ء) کے جاری ہونے تک محض ایک کوشش کو استثنیٰ حاصل ہوا جو جنرل ضیاالحق نے کی، اور بڑے اخلاص اور سنجیدگی سے ممکنہ حد تک اردو کے نفاذ کی مخلصانہ کوششیں کیں۔ نفاذ کے معاملات طے کرنے اور حل کرنے کے لیے ”مقتدرہ قومی زبان“ کا قیام اور اس کے توسط سے نفاذِ اردو کے لیے سفارشات یا تدریجی کوششوں بشمول دفتری اصطلاحات اور لائحہ عمل کی تیاری کا حصول اور دیگر متعدد اقدامات ضیاالحق کی قابلِ رشک اور امید افزا کوششیں تھیں۔ لیکن بالآخر نوکر شاہی نے ضیاالحق کے عزائم، ارادوں اور کوششوں کو شکست دے دی، جو اس ملک کے چند بڑے المیوں اور افسوس ناک سانحات میں سے ایک ہے۔
ضیاالحق کے دور کے گزرنے کے بعد نفاذِ اردو کے بارے میں محض جسٹس جواد ایس خواجہ کا واحد اقدام ہے جو نفاذِ اردو کے تعلق سے قومی تقاضوں کے عین مطابق ہے، اور جس سے امید بندھتی تھی کہ اس فیصلے کے بعد اب نوکر شاہی اور دیگر متعلقہ افسران، محکمے و ادارے سنجیدگی سے نفاذِ اردو کے لیے عدالتی احکامات کی پاس داری اور اردو کے نفاذ کے لیے بلا روک ٹوک اقدامات کریں گے۔ لیکن یہ عدالتی حکم بھی ہر ہر سطح پر اور ہر ہر شعبے میں عدم توجہی، حکم عدولی، بلکہ ایک لحاظ سے مخالفت کا نشانہ بنا ہے اور بن رہا ہے، جس میں نچلی سطح کے افسروں سے لے کر وزیراعظم اور صدرِ مملکت تک سب سرکاری ذمے داران شامل ہیں۔ یہاں تک کہ اس رویّے اور عمل میں جھوٹ اور منافقت بھی نمایاں ہے جس میں وزیراعظم عمران خان کے نفاذِ اردو کے حق میں بیانات بھی ڈھکے چھپے نہیں جو اُن کے دیگر دعووں کی طرح سیاسی بیان بازی سے مختلف نہیں ہوتے۔
ایسی صورت اور ایسے رویوں میں کہ جہاں قومی تقاضوں اور قوم کی دیرینہ خواہش اور مطالبوں سے قطع نظر واضح عدالتی حکم کی بھی کوئی اہمیت نہ ہو، وہاں آج کل نفاذِ اردو کے لیے سرگرم حلقوں، اداروں، جماعتوں اور ان کی سرگرمیوں اور مطالبوں کی کیا قدر و اہمیت ہوگی، اور وزیراعظم کے رویّے کو دیکھتے ہوئے کوئی عمالِ حکومت یا سرکاری افسر و وزیر اور محکمہ اس طرف کیوں توجہ دے گا!
میں دیکھ رہا ہوں کہ جواد ایس خواجہ صاحب کے حکم کے بعد ہمارے دردمند اور مخلص عوامی حلقوں اور اداروں نے نفاذِ اردو کے لیے بے لوث سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں، اور نہایت سرگرمی سے اربابِ اختیار سے مطالبات شروع کررکھے ہیں، جس میں متواتر شدت پیدا ہونے کے باوجود کسی افسر و وزیر اور محکمے کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی ہے، اور لگتا ہے کسی پر کوئی اثر ہی نہیں ہورہا ہے۔ اس لیے اب میں سمجھتا ہوں کہ مطالبات کی اس طرح کی کوششیں اب بے معنی اور بے اثر لگ رہی ہیں، چاہے اخبارات کے صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں، جلسے، جلوس اور احتجاج سڑکوں اور میدانوں تک پہنچ جائیں لیکن ارباب اختیار پر کوئی اثر ہی نہ ہورہا ہو، تو اب مناسب ہوگا کہ ان ساری کوششوں کے بجائے اب صرف راست اقدام ہی کچھ اثر شاید پیدا کرسکے، اور ارباب اختیار کچھ اس جانب توجہ دیں اور نفاذِ اردو کے بارے میں کچھ مناسب پیش رفت ہوسکے۔
یہ راست اقدام یوں ہوسکتے ہیں کہ یا تو:
1- ایوانِ صدر کے سامنے دھرنا دیا جائے
2- بنی گالہ کا گھیراؤ کیا جائے
3-سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے، اور ساتھ ہی:
4۔وزارت ِقانون اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سامنے بھوک ہڑتال کی جائے۔
مجھے یقین ہے کہ ان اقدامات سے حکومت کے اربابِ اختیار ضرور توہینِ عدالت کا نوٹس لیں گے اور امکان ہے کہ نفاذِ اردو کے معاملے میں کوئی مثبت پیش رفت ہو۔ ورنہ کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ نفاذِ اردو کے مطالبات پر مبنی آج کل جاری ساری عوامی جدوجہد، مطالبات اور احتجاج کا کوئی مثبت نتیجہ نکل سکے، جس میں عوام کو گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل ناکامیوں اور مایوسیوں ہی کا سامنا ہے۔ اس کے مقابلے میں عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کو پذیرائی مل سکے اور ارباب اختیار اس فیصلے کے نفاذ کے لیے سنجیدہ ہوسکیں۔ ورنہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص اور ادارہ جو نفاذِ اردو کے مطالبے کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ تن سرگرم اور مستعد ہے، یوں ہی اپنی توانائیاں اور قوت و وسائل صرف کرتے رہیں گے، اور یہ ایک آخری آس بندھی رہنے کے باوجود نتیجہ کچھ نہ نکلے گا اور یہ ایک بہت بڑا قومی المیہ ہوگا۔

Share this: