نثار عثمانی مرحوم، جرات ،عاجزی اور دانشورانہ روایت کا استعارہ

Print Friendly, PDF & Email

یہ اگست 1981ء کی ایک خنک صبح تھی اور دن تھا اتوار کا۔ میں اپنے ایک محسن اور مہربان بزرگ کے ساتھ ملک کے نامور صحافی جناب اے ٹی چودھری کے گھر ماڈل ٹائون لاہور پہنچا، جو انگریزی صحافت کا ایک بڑا نام تھے۔ اے ٹی چودھری (ابوطالب چودھری مرحوم) کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور وہ اپنی خواب گاہ میں آرام کررہے تھے۔ مجھے ساتھ لانے والے مہربان اور محسن کے ساتھ چودھری صاحب کی بے تکلفی اور دوستانہ مراسم تھے۔ چنانچہ انہوں نے ہمیں اپنے ذاتی کمرے میں ہی بلالیا۔ سلام دعا اور خیر خیریت کے بعد باتیں چل رہی تھیں۔ میں دونوں بزرگوں کی باتیں پورے انہماک سے سن رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھ آنے والے بزرگ، چودھری صاحب کے سرہانے رکھی ہوئی ایک تصویر کو بار بار دیکھ رہے ہیں۔ اُن کی آنکھوں سے تجسس صاف ظاہر تھا۔ چودھری صاحب نے بھی شاید یہ بات نوٹ کرلی تھی۔ کچھ دیر کے توقف کے بعد اُن بزرگ نے رکتے رکتے پوچھا: چودھری صاحب یہ تصویر کس کی ہے؟ چودھری صاحب نے جواب دینے کے بجائے اُلٹا سوال کردیا کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اُن بزرگ نے کہا کہ یہ میرے استاد ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے ضلع مظفر نگر یوپی میں قائم کردہ اسلامیہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب۔ چودھری صاحب نے تشکر اور فخر کے ملے جلے تاثر کے ساتھ بتایا کہ یہ ان کے والد ہیں۔ دونوں بزرگ اُٹھ کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، اور اس بات کی تصدیق کرتے ہوئی چودھری صاحب بتانے لگے کہ مظفر نگر کے بعد والد گرامی (ان کا نام بتاتے ہوئے) کانپور کے مسلم اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوکر چلے گئے تھے۔ چودھری صاحب یہ جملہ مکمل ہی کرپائے تھے کہ معاً دروازہ کھلا اور ملازم جناب نثار عثمانی کو ساتھ لے کر اندر داخل ہوا، جوچودھری صاحب کا جملہ سن چکے تھے۔ سلام کرتے ہی بولے کہ میں بھی کانپور مسلم اسکول میں پڑھا ہوں۔ اے ٹی چودھری کے ہاتھ میں موجود تصویر دیکھ کر وہ فوراً ہی اپنے استادکوپہچان گئے۔ میرے ساتھ آنے والے بزرگ جو نثار عثمانی کے پہلے سے شناسا تھے، بولے کہ میں بھی کانپور اسکول میں کچھ عرصہ پڑھا ہوں، لیکن وہاں کبھی آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ دراصل دونوں کے اس اسکول میں قیام کا زمانہ مختلف تھا۔ اس دوران چودھری صاحب نے بتایا کہ وہ والد صاحب کے تبادلے کی وجہ سے کانپور آگئے تھے اور انہوں نے بھی اسی اسکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ عثمانی صاحب نے بتایا کہ نامور صحافی لیڈر منہاج برنا بھی کچھ عرصہ اس اسکول میں پڑھے ہیں۔ محفل میں موجود تمام افراد ایک خوشگوار حیرت کا شکار تھے کہ ایک ہی اسکول کے تین طالب علم اور ایک ہی استاد کے شاگرد ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ سماجی تعلقات کے رشتے میں بندھے ہونے کے باوجود یہ سب کچھ نہیں جانتے تھے۔ مگر آج چودھری صاحب کی علالت کے باعث یہ انکشاف ہوا اور تینوں کے درمیان ایک نئے اور مضبوط رشتے کا اضافہ ہوگیا۔ اس محفل میں جماعت اسلامی کے رہنما، معروف ادیب و دانشور اور بعد میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے سید اسعد گیلانی بھی شامل ہوچکے تھے۔ انہوں نے تینوں افراد کے تعلقات میں مزید اضافے اور اُن کے استادِ محترم کے لیے مغفرت کی دعا کرائی۔ اس طرح یہ محفل تجدیدِ تعلقات کے ایک خوشگوار احساس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ محفل ختم ہوئی تو نثار عثمانی نے اپنے اسکوٹر کو کک لگائی اور سب کو ہاتھ ہلاتے ہوئے روانہ ہوگئے۔ یہ تھا میرا اُن سے پہلا بالمشافہ آمنا سامنا۔ اُن کا تذکرہ میں جناب پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن سے کلاس روم میں سنتا رہتا تھا، وہ عثمانی صاحب کا احترام سے ذکرکرتے اور اکثر طلبہ و طالبات کو صحافتی رہنمائی کے لیے اُن سے رابطے کی ہدایت کرتے۔ ڈان میں اُن کے مضامین، خبریں اور کالم بھی اکثر میری نظر سے گزرتے جو اُن کی جرأتِ اظہار اور معاملہ فہمی کے شاہکار ہوتے۔ میں 1981ء میں روزنامہ جنگ میں آیا تو یہ نثار عثمانی صاحب کی ٹریڈ یونین سیاست اور شہری و انسانی حقوق کی جدوجہد کا سب سے سنہری مگر مشکل دور تھا۔ ’مساوات‘ بحالی تحریک میں جدوجہد کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد وہ پی ایف یو جے کے دو دھڑوں میں تقسیم ہوجانے کے صدمے سے گزر رہے تھے۔ دوسری جانب مارشل لا کے جبر میں انسانی و شہری حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے دست و بازو بنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود صدر ضیاء الحق اُن کے ساتھ بے تکلفی، احترام اور ہلکے پھلکے مزاح پر مبنی رویہ اپناتے۔ لاہور ایئرپورٹ پر ان کی بریفنگ صدر اور عثمانی صاحب کے درمیان نوک جھونک اور دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوتی۔ اُس زمانے میں کرکٹ کی اصطلاحات سیاست میں بھی در آئی تھیں۔ صدر ضیاء الحق ان اصطلاحات کا بہت اچھا استعمال کرتے، وہ بریفنگ روم میں آتے ہی السلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہتے ’’جی عثمانی صاحب اٹیک شروع کریں‘‘، اور خود بیٹنگ پوزیشن پر آجاتے۔ وہ تحمل کے ساتھ عثمانی صاحب کی تنقید اور سخت ریمارکس پر مبنی سوالات سنتے اور اُن کا اس سے بھی زیادہ اچھے انداز میں جواب دیتے۔ خود عثمانی صاحب بھی اِس کے معترف تھے، اور اپنی نجی محفلوں میں اعتراف کرتے کہ انتہائی صبروتحمل کے حامل اس شخص (ضیاء الحق) کو شکست دینا بڑا مشکل ہے۔ ضیاء الحق سے اس بے تکلفی کے باوجود وہ شہری آزادیوں، جمہوری اقدار کی بحالی اور آزادیِ اظہار کے معاملے میں اُن کے سخت ناقد تھے۔ خود ضیاء الحق بھی اُن کی اس تنقید کو خوش دلی سے قبول کرتے تھے۔ اس دوران میں مَیں جنگ ورکرز یونین لاہور میں سرگرم ہوا، اور لاہور پریس کلب کی بحالی کی تحریک شروع ہوئی تو جناب عثمانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اپنے تمام تر انکسار کے باوجود وہ ہم جیسوں کو کم ہی لفٹ کراتے تھے۔ انہوں نے جنگ گروپ کے مالکان اور جنگ ورکرز یونین کے درمیان معاملات طے کرانے کی بھی کوشش کی مگر اس میں انہیں زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔ وہ صاف ستھرے کردار کے حامل اور جدوجہد کے آدمی تھے، اور صلہ و ستائش کی خواہش کے بغیر جدوجہد کے قائل تھے۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کے شہر الٰہ آباد میں اسی سال پیدا ہوئے جس سال قابض برطانوی حکومت نے برصغیر کے پریس کو محکوم کرنے کے لیے پریس ایکٹ نافذ کیا تھا۔ یہ 1931ء کا سال تھا۔ نثار عثمانی نے اپنی ابتدائی تعلیم ہندوستان میں ہی حاصل کی۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہجرت کرکے بہاولپور آگئے اور وہاں بطور اسکول ٹیچر عملی زندگی میں قدم رکھا۔ بعد میں لاہور منتقل ہوگئے۔ یہاں انہوں نے علمِ سیاسیات میں ماسٹرز کیا اور دیال سنگھ کالج میں پڑھانا شروع کردیا۔ 1953ء میں روزنامہ ڈان میں اسٹرنگر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی، اور جب ڈان نے لاہور میں اپنا مکمل بیورو قائم کیا تو نثار عثمانی صاحب یہاں بیورو چیف ہوگئے۔ وہ 1991ء میں ریٹائر ہوئے لیکن خصوصی نمائندے کی حیثیت سے اخبار سے وابستہ رہے۔ نثار عثمانی 1960ء کے ایوب دور میں ایک ترقی پسند صحافی کے طور پر اُبھرے، اور اپنے صحافتی کیریئر کے آغاز میں ہی پریس کے جابرانہ قوانین کے خلاف جدوجہد میں شریک ہوگئے۔ وہ کئی بار پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل اور صدر منتخب ہوئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ حکومتوں پر بے خوف تنقید پر نثار عثمانی کو متعدد بار سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ مساوات بحالی تحریک میں ان کی قربانیاں نمایاں تھیں۔ ایوب دور، بھٹو حکمرانی اور پھر جنرل ضیاء الحق کی مارشل لا کی دہائی میں جمہوریت، انسانی حقوق اور پریس کی آزادی کے لیے اُن کی آواز اخبار کے کالموں میں گونجتی رہی۔ اس معاملے میں وہ منتخب حکومتوں سے بھی بے پروا تھے۔ نثار عثمانی اپنے آخری ایام تک اخلاقی صحافت کے عملی ماہر رہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس میں نثار عثمانی اور منہاج برنا کی جوڑی صحافتی اور حکومتی حلقوں میں بہت مشہور ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں انہوں نے ویج بورڈ ایوارڈ کے لیے جدوجہد کی۔ وہ خود اس ایوارڈ کے رکن رہے۔ نثار عثمانی جرأت، عاجزی اور دانش ورانہ دیانت کا استعارہ تھے۔ وہ جمہوری حقوق کے لیے نڈر جنگجو ثابت ہوئے اور صحافی برادری کے معاشی اور پیشہ ورانہ حقوق کے لیے جدوجہد میں آگے آگے رہے۔ نثار عثمانی صاحب کو کئی بار دیگر صحافیوں کے ساتھ فوجی عدالتوں نے گرفتار کیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔ وہ نامور آزادی پسند جنگجو اور صحافی، مولانا حسرت موہانی کے پیروکار تھے۔ اُن ہی کی طرح ایک متقی اور وفادار انسان تھے لیکن اپنے سیاسی نظریات میں پُرجوش سیکولر ہی رہے۔ اپنے نظریات کے باوجود صحافت میں وہ ایک معتبر اور قابلِ احترام صحافی مانے جاتے تھے اور صحافیوں کی ٹریڈ یونین میں انہیں ایک جرأت مند لیڈر کی حیثیت حاصل تھی۔ اُن کی موت (4ستمبر 1994ء) صحافیوں کے لیے ایک دھچکا تھی کہ اُن کے بعد صحافتی ٹریڈ یونین عملاً ختم ہوگئی۔ لاہور پریس کلب نے اپنے وسیع آڈیٹوریم کا نام نثار عثمانی آڈیٹوریم رکھ کر اُن کی شخصیت اور نام کو عملی خراجِ تحسین پیش کیا ہے جو ہمیشہ عامل صحافیوںکو اُن کی یاد دلاتا رہے گا۔

Share this: