ثقافی شناخت اور زبان

Print Friendly, PDF & Email

زبان کا عام فہم اور پیش پا افتادہ تصور یہ ہے کہ یہ روزمرہ کی ضرورتوں سے لے کر انسان کی تخیلی اور علمی سرگرمیوں کے اظہار و ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ یہ تصور زبان کو ایک ایسے ظرف کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنے مظروف سے الگ تھلگ رہتا ہے، اس کا کام محض ترسیل ہے، ترسیلی مواد سے اس کے دامن کے بھیگنے یا چاک ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اگر ہم ترسیلی مواد کو سماجی اور ثقافتی حقیقت کا نام دیں تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ سماجی و ثقافتی حقیقت کی ترسیل کے عمل میں زبان کے دامن پر اس حقیقت کا کوئی چھینٹا نہیں پڑتا، لہٰذا کسی سماج میں اگر ایک زبان کی جگہ دوسری زبان لے لے تو ثقافتی مواد کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اسے اپنی ترسیل کے لیے ایک نیا ظرف مل جائے گا۔ اس امر سے یہ بدیہی نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ثقافتی شناخت کی تشکیل میں زبان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ مگر کیا واقعی؟
زبان کے مذکورہ عام فہم تصور کا سب سے بڑا نقص یہی ہے کہ اس میں زبان کو ایک ظرف سمجھا جاتا ہے جس کا کام ترسیلِ مواد ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زبان بہ یک وقت ظرف اور مظروف ہے۔ زبان بلاشبہ سماجی و ثقافی حقیقت کا ابلاغ کرتی ہے، مگر یہ حقیقت بھی خود زبان کے اندر وجود رکھتی اور زبان کے وسیلے سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر ہم زبان سے مراد نمائندگی کا ایک اشاراتی نظام لیں تو کسی ثقافتی حقیقت یا نفسیاتی مظہر کا تصور زبان کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں کوئی ثقافتی و نفسیاتی حقیقت ایسی نہیں جو کسی نہ کسی علامت یا اشارے کے بغیر ظاہر ہوسکے، نیز یہ ممکن نہیں کہ وہ اس علامت یا اشارے کی ’’حدود‘‘ سے باہر جست لگائے اور ہم اس کی بابت کسی غیر لسانی ذریعے سے آگاہ ہوسکیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری دنیا کی حد اور نوعیت وہی ہے جو ہماری زبان کی ہے، لہٰذا ثقافت کا رشتہ پانی اور برتن کا نہیں گوشت اور ناخن کا ہے۔ جس طرح ناخن گوشت سے جدا ہوکر مُردہ ہوجاتا ہے اسی طرح ثقافت سے الگ ہونے کے بعد زبان پر مُردنی چھا جاتی ہے، اور اگر کسی ثقافت پر کوئی دوسری زبان مسلط کردی جائے تو وہ ثقافت زرد پڑ جاتی ہے، وہ حاشیے پر چلی جاتی اور اپنی داخلی اور حقیقی تخلیقی قوتوں کے اظہار سے قاصر ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی انسانی گروہ کی ثقافتی شناخت کا سب سے اہم مظہر زبان ہے۔ زبان، ثقافت کا چہرہ ہے۔
(ناصر عباس نیر)

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

علامہ بسا اوقات غفلت اور بے عملی میں ڈوبی ہوئی اپنی قوم کو جگانے کے لیے غصے اور جلال کا مظاہرہ بھی کرتے ہیںتو اگلے لمحے یہ بتا دیتے ہیں کہ میرے کلام کی تلخی دراصل اس کڑوی دوا کی طرح ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مریض کو شفا نصیب ہوتی ہے، اور اسی طرح بعض اوقات کسی مہلک زہر کا مقابلہ بھی ایسے اجزا پر مشتمل دوا سے کیا جاتا ہے جو زہر کو کاٹ کر بے اثر کر دیتی ہے اور اسے تریاق کہا جاتا ہے۔

Share this: