جواز سزا

Print Friendly, PDF & Email

ایک دفعہ سلطان الپ ارسلان سلجوتی (1063ھ۔ 1772ء) کھانا کھانے بیٹھا تو باورچی کے ہاتھ سے ڈونگہ چھلک گیا اور تھوڑا سا شوربہ اس کے کپڑوں پر گر پڑا۔ بادشاہ نے اس غضب سے دیکھا کہ اسے اپنی موت کا یقین ہوگیا۔ اس نے شوربے سے بھرا ہوا ڈونگہ بادشاہ کے سر پر الٹ دیا۔ ملازموں نے اسے پکڑلیا اور دوسرے دن دربار میں پیش کیا۔ بادشاہ نے کہا: ’’تمہارا پہلا جرم تو معاف ہوسکتا تھا کہ وہ اتفاقی تھا لیکن تمہاری دوسری حرکت کا جواز کیا ہے؟‘‘
کہا: ’’ظل الٰہی مجھے پہلے ہی جرم سے یقین ہوگیا تھا کہ مجھے موت کی سزا ملے گی، لیکن ڈر یہ تھا کہ لوگ آپ کو ظالم کہیں گے، اس لیے میں نے اپنے گناہ کو سنگین تر بنالیا تاکہ موت کا کچھ تو جواز نکل آئے اور آپ کے عدل و انصاف پر حرف نہ آنے پائے“۔ یہ انوکھی دلیل سن کر بادشاہ نے اسے معاف کردیا اور ساتھ ہی چالیس ہزار درہم بھی عطا کیے۔
(ماہنامہ چشم بیدار۔مارچ 2018ء)

Share this: