کیا پاکستان افغانستان میں امریکہ کی شکست کا ذمہ دار ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

امریکہ کی سینیٹ میں طالبان کی حمایت کرنے والے اداروں اور ممالک پر پابندیوں کا بل پیش کردیا گیا ہے۔ یہ بل 22 ری پبلکن سینیٹرز کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت ایسے تمام ممالک، اداروں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی ہر قسم کی اقتصادی، مالی اور فوجی امداد بند کردی جائے جن کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ رپورٹ دیں کہ انہوں نے 2001ء سے 2020ء کے دوران طالبان کی حمایت کی ہے، یا انہیں کسی قسم کی امداد فراہم کی ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ادارے پاکستان کے بارے میں رپورٹ دیں کہ اس نے اشرف غنی کی حکومت کو گرانے کے سلسلے میں کوئی کردار ادا کیا ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے پنج شیر میں طالبان کی فتح میں کوئی کردار ادا کیا ہو تو اس کی شہادت مہیا کی جائے۔ امریکہ کی سینیٹ میں یہ بل ری پبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے پیش کیا ہے۔ اسے افغانستان کے لیے انسدادِ دہشت گردی، نگرانی اور احتساب بل کا نام دیا گیا ہے۔
افغانستان میں امریکہ اور اُس کے 48 اتحادیوں کی شکست چڑیا کے ہاتھوں ڈائناسار، اور چیونٹی کے ہاتھوں ہاتھی کی شکست ہے۔ چنانچہ امریکہ کیا، پورے مغرب کے لیے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی شکست کو تسلیم کرنا مشکل ہورہا ہے، اس لیے وہ قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران طبقے نے جس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے، پاکستان کو ہمیشہ امریکہ کے لیے قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی سینیٹ میں پیش کیے گئے بل کا اصل ہدف پاکستان ہی ہے۔ امریکہ اسٹیٹ ایکٹرز کی بات کرے یا نان اسٹیٹ ایکٹر کی… ملبہ دونوں صورتوں میں پاکستان پر ہی گرایا جائے گا۔ لیکن کیا واقعتاً پاکستان افغانستان میں امریکہ کی شکست کا ذمہ دار ہے؟
تاریخ کے سلسلے میں بڑی طاقتوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے، اور امریکہ تو ایک ایسی سلطنت ہے جسے تاریخ سے نفرت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے تاریخ میں اتنے جرائم کیے ہیں کہ اگر امریکہ تاریخ کے علم کو شعور کا حصہ بنا لے تو اس کے دو ہی نتائج نکلیں گے۔ یا تو پورا امریکہ شدتِ غم سے پاگل ہوجائے گا، یا پھر انہیں خود سے نفرت ہوجائے گی۔ تاریخ کے سلسلے میں امریکہ کا حافظہ اچھا ہوتا تو اُسے یاد ہوتا کہ افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں سلطنتِ برطانیہ آئی اور بری طرح ناکام ہوئی۔ اُس کا صرف ایک فوجی واپس جا سکا، اور وہ بھی اس لیے کہ وہ افغانستان میں انگریز فوجیوں کے حشر کی داستان اہلِ وطن کو سنا سکے۔ افغانستان میں سوویت یونین آیا اور پٹ کر گیا، یہاں تک کہ اُس کا نظریہ سوشلزم ختم ہوگیا اور سوویت یونین کا جغرافیائی وجود تحلیل ہوگیا۔ چنانچہ امریکہ کا تاریخی شعور پختہ ہوتا تو وہ کبھی افغانستان پر چڑھائی نہ کرتا۔ امریکہ کو افغانستان پر چڑھائی کی دعوت پاکستان نے نہیں دی تھی۔ امریکہ خود اپنی مرضی سے افغانستان آیا تھا۔ امریکہ کی افغانستان کے خلاف جارحیت کی پشت پر اس کا تکبر تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور تھا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ دانش ور فوکویاما نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد تاریخ کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا۔ اُس کا اصرار تھا کہ معاصر تاریخ امریکہ اور سوویت یونین کی کشمکش کا رزمیہ تھی۔ یہ کشمکش ختم ہوگئی تو تاریخ کا بھی اختتام ہوگیا۔ فوکویاما نے اپنی کتاب End of The History And The Last Man میں لکھا کہ اب دنیا کے پاس کرنے کے لیے صرف ایک ہی کام رہ گیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ مغربی اقدار اور Ideals سے خود کو ہم آہنگ کرے۔ مغرب انسان کی خدائی کا اعلان کرتا ہے تو دنیا کو بھی انسان کی خدائی کے آگے سرِتسلیم خم کردینا چاہیے۔ مغرب مادر پدر آزادی کی بات کرتا ہے تو پوری دنیاکو بھی یہی کرنا چاہیے۔ مغرب جمہوریت کا راگ الاپتا ہے تو باقی دنیا کو بھی مغربی جمہوریت کی بھینس کا دودھ پینا چاہیے۔ چنانچہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ نے خود کو زمینی خدا سمجھنا شروع کردیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اب اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں۔ چنانچہ امریکہ نے کسی جواز کے بغیر افغانستان کے خلاف ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا تو روس اور چین جیسی طاقتوں نے بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی، اور دنیا کے 48 ممالک افغانستان میں امریکہ کی مدد کے لیے آگے آگئے۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں خود آیا، اُسے پاکستان نے افغانستان آنے کی دعوت نہیں دی تھی۔
نائن الیون ہوا تو امریکہ سخت غصے میں تھا۔ ہم نے خود دیکھا کہ ’’فوکس نیوز‘‘ پر امریکی سی آئی اے کے دو سابق سربراہ اور دو سابق وزرائے خارجہ تشریف فرما ہیں، اور ان کے مابین اس امر پر کامل اتفاقِ رائے ہے کہ اگر نائن الیون کے ردعمل میں امریکہ کو افغانستان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنا پڑے تو اسے ایسا کر گزرنا چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ کو اُس کا تکبر افغانستان لایا۔ پھر اس کے ’’غصے‘‘ نے اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے امریکہ کا تکبر خلق کیا، نہ اس کا غصہ ایجاد کیا ،اور نہ ہی نائن الیون میں پاکستان کا کوئی کردار تھا۔
امریکہ نے افغانستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اُسے پاکستان کی مدد کی ضرورت پڑی، چنانچہ امریکہ نے جنرل پرویزمشرف کے سامنے سات مطالبات رکھے۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ جنرل پرویز ان سات مطالبات میں سے صرف تین چار مطالبات مانیں گے، باقی مطالبات کو وہ رد کردیں گے۔ مگر جب امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی دی تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر لرزہ طاری ہوگیا، اور اُس نے امریکہ کے ساتوں مطالبات کو تسلیم کرلیا۔ امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے تو پاکستان نے فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کردیے۔ امریکہ نے لاجسٹک سپورٹ مانگی تو پاکستان نے لاجسٹک سپورٹ امریکہ کو فراہم کردی۔ امریکہ نے خفیہ معلومات کے تبادلے کا خیال ظاہر کیا تو پاکستان اس پر بھی آمادہ ہوگیا۔ امریکہ نے اپنے اتحادی سے ڈرون حملوں کی اجازت مانگی تو پاکستان کے حکمرانوں نے لبیک کہا۔ امریکہ نے طالبان اور القاعدہ کے افراد مانگے تو وہ امریکہ کے حوالے کردیے گئے۔ یہ ایک شرمناک صورتِ حال تھی۔ جنرل پرویز اور پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کا سودا کرلیا تھا اور اقبال اور قائداعظم کے ورثے پر تھوک دیا تھا۔ لیکن امریکہ کے لیے تو یہ صورتِ حال آئیڈیل تھی۔ امریکہ جو چاہتا تھا اُسے مل گیا تھا۔ پاکستان امریکہ کا ایک بھی مطالبہ رد کرتا تو امریکہ یہ کہہ سکتا تھا کہ چونکہ پاکستان نے ہمارا فلاں مطالبہ نہیں مانا تھا اس لیے امریکہ کو افغانستان میں شکست ہوگئی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جنرل پرویزمشرف نے امریکہ کی جو خدمت کی، اس کی وجہ سے جارج بش اور ٹونی بلیئر جیسے مغربی رہنما جنرل پرویزمشرف کو ’’مدبر‘‘ کہا کرتے تھے۔ جنرل پرویزمشرف امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے لیے اتنے اہم تھے کہ اسرائیل کا صدر رات کو سونے سے پہلے جنرل پرویز کی زندگی اور سلامتی کے لیے دعا کرتا تھا۔ مگر اب امریکہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کی وجہ سے افغانستان میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ کی اندھی غلامی کی وجہ سے پاکستان میں خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا ہوئی، اور اس خانہ جنگی میں ہم نے 75 ہزار افراد کی قربانی دی۔ پاکستان کی معیشت کو امریکہ کی وارآن ٹیرر کی وجہ سے 125 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اب امریکہ اس امر کی تحقیق کررہا ہے کہ کہیں پاکستان نے طالبان کی مدد تو نہیں کی؟
امریکہ نے افغانستان میں دو چار سال نہیں، 20 سال جنگ کی ہے۔ یہ اتنا طویل عرصہ ہے کہ اگر پاکستان چاہتا بھی تو طالبان کی مدد پر پردہ نہیں ڈال سکتا تھا، مگر امریکہ نے گزشتہ 20 سال میں کبھی پاکستان سے یہ نہیں کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ بے وفائی کررہا ہے۔ امریکہ نے اس طویل مدت میں پاکستان سے “Do More” تو سیکڑوں مرتبہ کہا، مگر یہ کبھی نہیں کہا کہ پاکستان امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کررہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران امریکہ کے ’’پالتو‘‘ ہیں۔ وہ امریکیوں سے بڑھ کر امریکہ کے وفادار ہیں۔ پھر ان پر امریکہ کی ہیبت اتنی طاری ہے کہ وہ امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کر ہی نہیں سکتے۔ امریکہ پاکستان کے تمام فوجی اور سول حکمرانوں کو جانتا ہے، ان کی کمزوریوں سے آگاہ ہے۔ امریکہ جنرل ضیاء الحق کو اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کی مدد سے راستے سے ہٹا سکتا ہے تو وہ کیا نہیں کرسکتا؟ پاکستان کے حکمران یہ تمام باتیں جانتے ہیں، چنانچہ گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان کے کسی حکمران نے امریکہ کے مفادات کے خلاف کام نہیں کیا، اس لیے امریکہ کے پاس پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کا کوئی جواز نہیں۔
یہ امر بھی راز نہیں کہ امریکہ نے 20 سال کے بعد خود طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا۔ طالبان جنگ جیت چکے تھے اور وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں تھے، چنانچہ امریکہ نے پاکستان سے کہاکہ وہ طالبان پر مذاکرات کے لیے دبائو ڈالے۔ اور پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ طالبان اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات کریں، مگر طالبان نے انکار کردیا، اور امریکہ نے طالبان کے انکار کو تسلیم کرتے ہوئے خود طالبان سے مذاکرات کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا آئیڈیا پیش کیا۔ انہیں یہ پٹی پاکستان نے نہیں پڑھائی تھی۔ جوبائیڈن چاہتے تو انخلا سے انکار کرسکتے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں ایسا تاثر دیا بھی، مگر پھر وہ مکمل انخلا پر آمادہ ہوگئے۔ چنانچہ امریکی انخلا کے سلسلے میں بھی پاکستان نے خود کوئی ’’سازش‘‘ نہیں کی۔ امریکہ نے دوحہ سمجھوتے پر دستخط کیے، اُسے پاکستان نے دوحہ سمجھوتے پر دستخط کے لیے مجبور نہیں کیا، چنانچہ امریکہ دوحہ سمجھوتے کے حوالے سے بھی پاکستان کو مطعون نہیں کر سکتا۔ امریکہ افغانستان آرہا تھا تو اُس کے ایک ہاتھ میں عسکری طاقت تھی اور دوسرے ہاتھ میں ڈالروں کی برسات تھی۔ عسکری طاقت سے امریکہ انسانوں کو جسمانی موت مارتا ہے، اور ڈالر سے وہ انسانوں کی روح اور ان کا ضمیر خریدتا ہے۔ مگر افغانستان میں نہ امریکہ کی عسکری طاقت چلی، اور نہ ڈالر کی قوت امریکہ کے کام آئی۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی عسکری طاقت اور ڈالر کو غیرمؤثر نہیں بنایا۔
امریکہ اور یورپ کے ماہرین کی ذہانت اور تجزیے مشہورِ زمانہ ہیں۔ امریکہ افغانستان میں 20 سال تک مغرب کی بہترین ذہانت اور تجزیوں کو بروئے کار لاتا رہا، مگر مغرب کی اجتماعی ذہانت اور اجتماعی دانش بھی امریکہ کے کچھ کام نہ آئی۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ مغرب کی اجتماعی ذہانت اور اجتماعی تجزیاتی اہلیت کو پاکستان نے کند نہیں کیا۔ یہ طالبان کی قوتِ ایمانی، شوقِ شہادت اور جذبۂ جہاد تھا جس نے امریکہ کی ہر چیز پر پانی پھیرا، مگر امریکہ اس بات کا اعتراف کرنے کے بجائے پاکستان پر اپنی شکست کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں آیا تھا تو خدائی لہجے میں کلام کررہا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ کسی کی کبریائی کو چلنے نہیں دیتا، چنانچہ اس نے افغانستان میں امریکہ کی کبریائی کے بھی پرخچے اڑا دیے۔ پاکستان کے حکمرانوں میں اگر جرأت ہوتی تو وہ امریکہ کو اردو کا ایک شعر ’’گفٹ‘‘ میں بھیج دیتے۔ وہ شعر یہ ہے:
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

Share this: