پانامہ کے بعد پنڈورا کا ڈھنڈورا

Print Friendly, PDF & Email

آف شور کمپنیوں میں جائز یا ناجائز سرمایہ لگانے، اثاثے بنانے، منی لانڈرنگ یا ٹیکس چوری کے حوالے سے پانامہ لیکس کے مقابلے میں پنڈورا پیپرز سامنے آنے پر عوامی سطح پر کوئی طوفان نہیں اٹھا لیکن حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے خلاف سیاسی جنگ کے لیے من پسند مواد ضرور مل گیا- پنڈورا پیپرز میں چونکہ زیادہ نمایاں نام عوامی نمائندوں یا اُن کے قرابت داروں کے ہیں لہٰذا اسی لیے سیاست میں تلخی بڑھی ہے، اور اب سیاسی رہنمائوں کے مابین سوال جواب کے سیشن ہورہے ہیں۔ وزیراعظم نے فوری جواب دیتے ہوئے تین رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی سیل قائم کردیا ہے جس کی نگرانی وزیراعظم انسپکشن کمیشن کرے گا، اور ایف آئی اے، نیب اور ایف بی آر کے ذریعے تحقیقات ہوں گی۔ تحقیقات کا طریقہ وزارتِ قانون طے کرے گی، جو وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں کام کررہی ہے۔ وہ تمام افراد جن کے نام سامنے ہیں اور انہوں نے اثاثے ظاہر کیے ہوئے ہیں اُن کے لیے چھوٹ ہوگی، جبکہ دیگر کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔ منی لانڈرنگ کی صورت میں معاملہ ایف آئی اے کے پاس جائے گا، اور جو شخص پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوگا اُس کے خلاف ٹیکس چوری کا کیس ایف بی آر کو بھجوایا جائے گا۔ تحقیقاتی سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام پاکستانیوں سے جواب طلبی کرے گا، اورآف شور کمپنیوں کے سرمائے کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے گی، تاہم اصل نگرانی وزارتِ قانون ہی کرے گی۔
جہاں تک پنڈورا پیپرز کا تعلق ہے ان میںغلطیوں، تضادات اور مبالغہ آرائی کا جائزہ لیے بغیر ہی سیاسی جماعتوں نے پوائنٹ اسکورنگ کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے، اور حکومت نے بھی جان چھڑانے کے لیے تحقیقاتی سیل قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جب کہ سیاسی پس منظر کے حامل جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں اُن میں بیشترخود کو بے قصور قرار دے رہے ہیں۔ اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے توتحقیقات کا سرکاری اعلان اور وزارتِ قانون کی نگرانی ایک مضحکہ خیز عمل لگتا ہے، اور اس کا حال بھی وہی ہوگا جو احتساب کا ہوا ہے۔ تحقیقاتی سیل کس کو چھوڑے گا اور کسے اپنے نشانے پر رکھے گا؟ اس کا کوئی علم نہیں، تاہم حکومت کے ہاتھ ایک ہتھیار ضرور آگیا ہے، اسی لیے تحقیقات کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔ اس معاملے میں سب سے اہم نکتہ جنید صفدر کا ہے، جن کے بارے میں خبر نجی ٹی وی چینل نے سرکاری ٹی وی کے ذریعے سے دی۔ سرکاری ٹی وی کہہ رہا ہے کہ ہم نے خبر نشر ہی نہیںکی۔ اس معاملے نے بھی حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ مریم نواز نے کہاکہ جنید کے خلاف لیکس میں ایسا کوئی الزام نہیں، نہ ہی اس کا نام اس دستاویز میں ہے۔ انہوں نے یہ خبر چلانے پر چینل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔ اب حکومتی حلقے بھی تصدیق کرتے ہیں کہ مریم نواز کے بیٹے کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود تحقیقاتی سیل کا قیام اچھا فیصلہ ہے، تاہم اس کے ارکان میں صرف سرکاری نمائندوں کا ہونا اہم سوال ہے۔ تحقیقات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ کم و بیش چار سال قبل پانامہ پیپرز منظرعام پر لائے گئے تھے، جن میں پاکستان کے446 شہریوں کے نام تھے۔ پانامہ پیپرز میں نام آنے والوں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ ہوا، مگر سابق وزیراعظم نوازشریف، جن کا نام بھی پانامہ پیپرز میں نہیں تھا، وہ اقامہ میں دھر لیے گئے، اور عوامی نمائندگی کے عہدے سے نااہل ہوکر قید کی سزا بھی پائی اور وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ پانامہ پیپرز کو چار سال ہوگئے ہیں، ان میں جن لوگوں کے نام تھے وہ آج تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔
تحقیقاتی صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے ’پنڈورا پیپرز‘ کے نام سے ایک تحقیق شائع کی ہے، جس میں دنیا بھر کی اعلیٰ شخصیات کے مالیاتی رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ پنڈورا پیپرز 12 ملین دستاویزات کا ایک لیک ہے جو چھپی ہوئی دولت، ٹیکس سے بچنے اور بعض صورتوں میں دنیا کے کچھ امیر اور طاقتور افراد کی جانب سے منی لانڈرنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ 117 ممالک میں 600 سے زائد صحافیوں کو 14 مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی فائلز کی جانچ کرنے کے بعد یہ پیپرز جاری کیے گئے ہیں۔ اس تنظیم کے ساتھ کون کون لوگ کام کرتے ہیں، ان میں کتنے بھارتی ہیں جنہیں پاکستان سے تعصب برتنے کے سوا کچھ نہیں آتا، اور ان میں کتنے ہیں جو بیرونی ملکوں کے خفیہ اداروں کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کے اپنے بھی عزائم ہوتے ہیں، جیسا کہ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ یہ ڈیٹا واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے حاصل کیا ہے جو ذرائع ابلاغ کے 140 سے زائد اداروں کے ساتھ مل کام کررہی ہے۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ اس تنظیم کی اپنی کریڈیبلٹی کیا ہے؟ یہ کس کے لیے کام کرتی ہے؟ ویسے تو پنڈورا پیپرز 2016ء میں شائع ہونے والے پانامہ پیپرز کا فالو اپ ہیں، پاکستان کی سیاسی دنیا پانامہ پیپرز کا حشر اور نتیجہ دیکھ چکی ہے۔ پنڈورا پیپرز دنیا کے 38 مختلف شعبوں میں کاروبار کرنے والے 14 مختلف سروسز فراہم کرنے والوں کی جانب سے لیک ہونے والی دستاویزات ہیں، جبکہ ان میں کچھ ریکارڈز 1970ء کی دہائی کے بھی ہیں۔ ان دستاویزات میں زیادہ تر ریکارڈ 1996ء سے 2020ء تک کے ہیں۔ اب پانامہ کے چار سال بعد پنڈورا پیپرز کے نام سے ایک نیا اسکینڈل سامنے لایا گیا ہے جس میں سات سو پاکستانی شہریوں کے نام ہیں۔ پانامہ پیپرز اور اب پنڈورا پیپرز کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ پانامہ پیپرز اُس وقت سامنے لائے گئے جب امریکی فوج افغانستان سے نکل چکی ہے اور اسے اپنے ملک میں شدید تنقید اور بحرانی صورتِ حال کا سامنا ہے، بلکہ سینیٹ میں ایک ایسا بل پیش کردیا گیا ہے جسے افغانستان ’’کاؤنٹرٹیررازم، اوورسائٹ اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ2001ء سے لے کر 2020ء کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔ مجوزہ بل کی منظوری کی صورت میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو کانگریس کی کمیٹی کے سامنے ایک رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس میں 2001ء سے 2021ء کے دوران طالبان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے افراد اور ممالک کی تفصیل ہوگی۔ دوسری طرف چین اس خطے میں اپنی معیشت پھیلانے کے لیے سی پیک بچھانے میدان میں اتر چکا تھا۔ یہ پنڈورا پیپرز اور پانامہ کو اگر امریکی مفادات اور مقاصد کے ساتھ جوڑ کر دیکھا اور پرکھا جائے تو نئے حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ جس تنظیم نے یہ پیپر لیک کیے ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لیے اس جیسے وسائل چاہئیں، تب کہیں جاکر گریبان چاک کیا جاسکتا ہے، ورنہ پاکستان میں تو یہ تماشا لگا رہے گا۔ پنڈورا لیکس کے انکشافات آئی سی آئی جے کی نئی ہمہ گیر عالمی تنظیم کی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ دیکھا جائے کہ اس کام کے لیے اسے وسائل کون دے رہا ہے؟ دنیا بھر کے 6 سو صحافیوں کی ٹیم کیا مفت میں کام کررہی ہے؟ پنڈورا پیپرز کے نام سے جاری اس تحقیق میں کئی ملکوں کے حکمرانوں اور اشرافیہ کے مشکوک آف شور فنانشل سسٹم کو بے نقاب کیا گیا، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ آف شور کمپنیاں کیوں کھولی جاتی ہیں، اقوام متحدہ کیوں دنیا میں ایسی جنت تعمیر کرنے کا موقع دے رہی ہے جہاں ملٹی نیشنل کاروباری اداروں، اہلِ اقتدار اور دولت مند، مشہور اور طاقتور لوگوں کو ٹیکس بچانے اور اپنا سرمایہ چھپانے کا موقع ملتا ہے؟ رپورٹ سے سات سو پاکستانیوں کی بھی آف شور کمپنیوں کا پتا چلا ہے جن میں وفاقی کابینہ کے بعض وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ یا ان کے متعلقین، سیاست دان، ریٹائرڈ سول و فوجی افسران اور ارب پتی اہلِ ثروت یا ان کے خاندانوں کے افراد بھی شامل ہیں۔ آئی سی آئی جے کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ تحقیق 14آف شور سروسز فرمز کی ایک کروڑ 19 لاکھ خفیہ فائلوں سے لیک کی ہے۔ اگر اس کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ پاکستان کے سارے تحقیقاتی ادارے اس تنظیم کے سامنے ناکام اور نااہل ہیں کہ جو ان پاکستانیوں کی بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں، لین دین اور خرید و فروخت سے بالکل ہی ناآشنا رہے، یا پھر ان اداروں نے اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں۔ اب حکومت نے تحقیقات بھی انہی اداروں کے سپرد کی ہیں جو اس معاملے میں نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ پنڈورا پیپرزجاری کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی کہ آف شور کمپنیاں ضروری نہیں کہ غیر قانونی کاروبار ہی کرتی ہوں، ان کا استعمال قانونی بھی ہوسکتا ہے، لیکن ایسے افراد اور فرمیں ان میں بہت دلچسپی لیتی ہیں جو ان کے ذریعے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہیں۔ تحقیقی رپورٹ کے الفاظ میں ’’عوامی شخصیات کے لیے ایسی کمپنیوں کا مالک ہونا انتہائی متنازع بات ہے، کیونکہ جس طرح کی طاقت اور اختیارات ان کے پاس ہوتے ہیں ان کا غلط استعمال غیرقانونی ذرائع سے دولت کمانے کے لیے کیا جا سکتا ہے، اس کے نتیجے میں یہ پیسہ بیرون ملک جمع کیا جاتا ہے، اور ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے‘‘۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے غلط کام اب زیادہ ہونے لگے ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں بتایا گیا ہے کہ آف شور بزنس سے لندن میں جائدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان، جنہوں نے پانامہ پیپرز میں نوازشریف اور اُن کے خاندان کا ذکر آنے پر اسے اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا تحفہ قرار دیا تھا، اب زمان پارک کے ایک ایڈریس کا ذکر آیا تو کہہ رہے ہیں کہ ایک ہی کالونی میں دو گھروں کا ایڈریس ایک جیسا ہے۔ یہ ایڈریس وہی ہے جو وزیراعظم کے گھر کا ہے۔ حکومت صرف وضاحت کررہی ہے، یہ نہیں کہہ رہی کہ تحقیق کی جائے گی کہ ایسا کیوں ہوا اور کون ذمہ دار ہے؟ پنڈورا لیکس میں حکومت میں شامل متعدد وزراء کے نام بھی آئے ہیں، لہٰذا اب صاف و شفاف تحقیقات حکومت کا امتحان ہے۔

Share this: