نجکاری کے15سال ۔۔۔”کے ای ایس سی“ سے ”کے الیکٹرک“ کا سفر

سو سال سے زائد قدیم قومی اہمیت کا حامل ادارہ کے ای ایس سی جسے ایک نجی کمپنی کو فروخت اور اس کا نام تبدیل کرکے کے الیکٹرک رکھ دیا گیا ہے۔ کراچی سمیت شہر میں واقع دفاعی اہمیت کی حامل اہم تنصیبات اور ادارے جنہیں کے الیکٹرک بجلی فراہم کرتی ہے،ان میں پاکستان آرمی، نیوی، ائیر فورس، کراچی ائیرپورٹ، کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہ، کراچی کو پانی فراہم کرنے والے ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز گھارو، دھابیجی، اور کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے علاقے اوتھل، ویندر اور بیلہ کو بھی بجلی کے الیکٹرک فراہم کرتی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل کے ای ایس سی کو انڈین کمپنی ایکٹ 1882 کے تحت 13 ستمبر 1913ء میں بطور نجی ادارے کے قائم کیا گیا۔ بجلی کے ماہرین نے سمندر کے کنارے واقع ساحلی شہر اور ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لیے تانبے کے تار کا استعمال کیا، کیونکہ اس دھات سے بجلی اور حرارت بڑی آسانی سے گزر سکتی ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1952ء میں حکومتِ پاکستان نے اکثریتی شیئرز خرید کر اس کا انتظامی کنٹرول حاصل کیا۔ 1953ء سے1980ء تک بجلی کی پیداوار میں745 میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا۔1991ء میں بجلی کی پیداوار بڑھ کر1723 میگا واٹ تک جا پہنچی۔ 1994ء تک کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا یہ سرکاری ادارہ ایک منافع بخش ادارہ تھا، اور اس نے اس سال 5 ارب روپے سے زائد منافع کمایا تھا۔1991ء میں امریکہ نے پاکستان میں بھی آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے پاکستان کے قومی اداروں کی نج کاری کرنے کی کوششوں کو مزید تیز کردیا۔ اسی تناظر میں کے ای ایس سی کی نجکاری کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ نجکاری کمیشن (پی سی) کو گورنمنٹ کے نجکاری پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے، فنانس ڈویژن کی ایک ذیلی شاخ کے طور پر 22 جنوری 1991ء کو قائم کیا گیا۔ 1994ء میں بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کو بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی اور کے ای ایس سی کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا گیا۔ پاکستان میں بجلی کے جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن نظام کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کا قیام 1997ء میں عمل میں لایا گیا۔ اس کا مقصد بجلی کے ٹیرف کی منظوری، بجلی کمپنیوں کو لائسنس کا اجرا اور بجلی صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 1999ء سے2005ء تک کے ای ایس سی کا کنٹرول پاکستان آرمی نے سنبھالا۔ اس عرصے کے دوران بھی ادارے کے حالات میں بہتری نہ آسکی۔ حکومت نے کراچی میں بجلی بحران پر قابو پانے اور کے ای ایس سی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اسے نجکاری کے بعد نجی ادارے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دلائل دئیے کہ نجی کمپنی بوسیدہ ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے اور جنریشن میں اضافے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری کرے گی۔ ادارے کو بہتر انداز میں چلا کر اس کے آپریشن اور مینٹی نینس اخراجات میں کمی کرے گی اور سستی بجلی کراچی کے شہریوں کو فراہم کی جائے گی۔ کراچی سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو گا اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں گی۔ کے ای ایس سی کو ہر سال سبسڈی کی صورت میں ایک بڑی رقم کی فراہمی قومی خزانے پر بوجھ بن گئی ہے، نج کاری کے بعد اسے سبسڈی بھی نہیں دینی پڑے گی۔

نجکاری کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے 2002ء میں نیپرا نے سات سال کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف منظور کیا۔ ملٹی ایئر ٹیرف کے اہم نقاط مندرجہ ذیل تھے:
٭ملٹی ایئر ٹیرف نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر نافذالعمل ہو گا۔
٭سات سالہ مدت کے دوران بجلی کے ٹیرف میں ردوبدل نہیں کیا جا سکتا۔
٭جبکہ نجی کمپنی کو ایک حد سے زیادہ منافع کمانے کی صورت میں کلاء بیک کی مد میں صارفین کو پیسے واپس کرنے ہوں گے۔
حکومت نے نجکاری سے پہلے کے ای ایس سی کی مالیاتی بہتری کے پروگرام (FIP) کے تحت ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 186 ملین ڈالر کی خطیر رقم بھی خرچ کی۔ جبکہ کی ای ایس سی پر مختلف بینکوں کی 22ارب روپے کی واجب الادا رقم بھی قومی خزانے سے ادا کی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 2005ء میں کے ای ایس سی کی نجکاری کے دوران سعودی عرب کے ایک بزنس گروپ کنوز الوطن نے کے ای ایس سی کے 73 فیصد شیئرز کی 20.4 ارب روپے بولی لگائی۔ حیرت انگیز طور پر سب سے زیادہ بولی دینے کے باوجود کنوزالوطن نے رقم جمع نہیں کروائی اور خریداری کے عمل سے پیچھے ہٹ گیا۔ 14نومبر 2005ء کو حکومتِ پاکستان اور کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ کے درمیان نجکاری معاہدہImplementation Agreement)IA) طے پایا۔ 19 نومبر 2005ء کو سعودی عرب کی الجموعیہ ہولڈنگ کمپنی، کویت کے نیشنل انڈسٹریز گروپ اور حسن ایسوسی ایٹس پر مشتمل کمپنیوں کے کنسورشیم نے 15.53ارب روپے کے عوض کے ای ایس سی کے 73 فیصد شیئرز حاصل کرکے انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ کے ای ایس سی کا انتظام چلانے کے لیے کمپنی کے نئے خریدار نے کے ای ایس پاور لمیٹڈ (KS Power Ltd)کے نام سے Cayman Islands میں کمپنی رجسٹرڈ کرواکر الجموعیہ ہولڈنگ کمپنی اور کویت کی نیشنل انڈسٹریز ہولڈنگ کے 60 فیصد شیئرز کے ایس پاور کو منتقل کردیئے، اور نئی انتظامیہ کو بجلی کی جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لیے29 نومبر 2005ء کو نیپرا کی جانب سے سات سالہ ملٹی ایئر ٹیرف دیا گیا۔ سات سال یعنی 2005ء سے2012ء کے دوران نیپرا قوانین کے تحت ٹیرف میں ردوبدل نہیں کیا جاسکتا تھا۔
کے ای ایس سی کی نجکاری غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر کی گئی۔ اس کی نجکاری کے لیے نہ ہی پارلیمنٹ اور نہ ہی دستور کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) سے منظوری لی گئی۔ نجکاری کے وقت کے ای ایس سی کے 9.6 ارب شیئرز جو کہ کُل شیئرز کا 73 فیصد تھے، ان کو فی شیئر صرف 1.65 روپے کے حساب سے 15.85 ارب روپے میں فروخت کردیا گیا، جبکہ مارکیٹ میں کے ای ایس سی کی فی شیئر قیمت 9 روپے تھی۔ قومی اثاثے کے ای ایس سی کو اس کی اصل مالیت سے10 گنا کم قیمت میں فروخت کرکے قومی خزانے کو 70 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جبکہ نجکاری کے بعد بھی حکومت پاکستان نے 13.6ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کا نظام بہتر بنانے اور بجلی کی جنریشن میں اضافہ کرنے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری کرنے میں نئی کمپنی ناکام رہی، بلکہ نجکاری کے تین سال گزر جانے کے باوجود اپنے ذرائع سے بجلی کے پیداواری یونٹس میں اضافے کے بجائے7 فیصد کمی کردی، اور مالی سال 2008ء میں کمپنی 16 ارب روپے خسارے میں چلی گئی- ابراج گروپ نے 15 اکتوبر 2008ء کو کے ایس پاور لمیٹڈ کے اکثریتی شیئرز خرید کر کے ای ایس سی(KESC)کا کنٹرول سنبھالا۔ ابراج گروپ، الجموعیہ ہولڈنگ کمپنی اور نیشنل انڈسٹریز گروپ بنیادی طور پر کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ جبکہ آف شور کمپنی کے ایس پاور لمیٹڈ کے مین آئی لینڈ (cayman islands) میں رجسٹرڈ ہے۔
آف شور کمپنی ابراج گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے 2005ء کے نجکاری معاہدے (Implementation agreement) میں 2009ء میں غیر قانونی تبدیلیاں کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ بجلی کے ٹیرف میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ 2009ء میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کیے جانے والے غیر قانونی نجکاری معاہدے میں کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیے جانے کی صورت میں کے الیکٹرک پر واجب الادا ماضی، حال اور مستقبل کے سارے قرضے حکومتِ پاکستان کے ذمے ہونے کی شق بھی شامل کردی گئی۔ نیپرا کے سات سالہ (2005-2012) ملٹی ائیر ٹیرف میں اس دوران کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی تھی، لیکن نیپرا نے کے الیکڑک کے ٹیرف میں غیر قانونی اضافہ کرکے اسے 462 ارب کا فائدہ پہنچایا۔ اضافی ملازمین کے نام پر 15 پیسے فی یونٹ اضافہ کرکے 35 ارب روپے سے زائد رقم کراچی کے صارفین سے وصول کی گئی، جبکہ نجکاری کمیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساڑھے سات ہزار ملازمین کو بھی ملازمت سے برطرف کردیا گیا مگر اضافی ملازمین کے نام پر 15 پیسے فی یونٹ صارفین سے وصول کیے جاتے رہے۔ 2005ء کے نجکاری معاہدے میں کیے جانے والے غیر قانونی ردوبدل کے خلاف نیپرا کے دو ارکان مقبول احمد اور خواجہ شوکت علی کنڈی نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور نیپرا فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ درج کرواتے ہوئے کہا کہ نجکاری معاہدے 2005ء کی شرائط کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ملٹی ایئر ٹیرف کی بنیاد پر ہی نجکاری معاہدہ ہوا جسے Implementation Agreement (IA) کی صورت میں کے ای ایس سی کی انتظامیہ، نجکاری کمیشن، وفاقی وزارت پانی و بجلی، حکومتِ پاکستان نے قبول کرتے ہوئے دستخط کیے۔ لہٰذا ٹیرف میں کسی بھی قسم کا ردوبدل 2012ء تک نہیں کیا جاسکتا۔
پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے2008 ء میں کے الیکٹرک کو ملک کی باقی سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی طرز پر NTDC کے ذریعے بجلی9 روپے فی یونٹ کے بجائے4 روپے فی یونٹ قیمت پر دے کر ابراج گروپ کو نوازا، جبکہ یہ سہولت تو 2005ء تک سرکاری کے ای ایس سی کو بھی حاصل نہ تھی۔ اس طرح کے الیکٹرک نے NTDC سے سستی بجلی خرید کر کراچی کے صارفین کو مہنگے داموں بجلی فروخت کرکے نہ صرف خوب منافع کمایا بلکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔کے الیکڑک کو اپنے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے NTDC کی جانب سے 650 میگاواٹ بجلی پانچ سال کے لیے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک نئے پلانٹس لگا کر بجلی پیدا کرنے کے بجائے سستی بجلی NTDC سے حاصل کرکے مہنگے داموں کراچی کے شہریوں کو فراہم کرتی اور اپنے بجلی کے پلانٹس منافع زیادہ کمانے کی خاطر دانستہ بند یا ان کی استعدادی گنجائش سے کم چلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کے الیکڑک کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔
کے ای ایس سی کی نجکاری کے غیر شفاف عمل اور ابراج گروپ کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے نجکاری معاہدے میں 2009ء میں غیرقانونی ردو بدل کرکے کراچی کے صارفین اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے خلاف جماعت اسلامی کراچی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن (Con. P-59/2015) دائر کی جو کئی سال گزرجانے کے بعد بھی التواء کا شکار ہے۔ اسی طرح کے ای ایس سی کی لیبر یونین نے بھی 2005ء میں اس کی نجکاری کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن (Con.P-1511/2005) دائر کی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے ستمبر 2013ء میں وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) کو سرکاری تحویل میں لے کر ان ذمہ دار حکام کے خلاف مقدمات درج کرے جنہوں نے کے ای ایس سی کے نجی مالکان کے ساتھ مل کر غیر قانونی معاہدے کرکے حکومتی خزانے کو 110 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔
نجکاری معاہدے میں 2009ء میں غیر قانونی ردو بدل کے نتیجے میں کے الیکٹرک پر NTDC کی 72 ارب روپے کی واجب الادا رقم وصول کرنے کے بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی کے الیکٹرک کو حکومت کی طرف سے سرکاری بیل آوٹ پیکیج کی صورت میں 31 ارب روپے کی چھوٹ دے کر نوازا گیا، جبکہ اس کا سارا بوجھ قومی خزانے اور کراچی کے صارفین پر ڈال دیا گیا۔ جبکہ NTDC کے باقی ماندہ 41 ارب روپے کی واجب الادا رقم میں سے 21.2 ارب روپے کراچی کے صارفین سے بجلی کے ٹیرف میں 41.33 روپے کا اضافہ کرکے نہ صرف وصول لیے گئے بلکہ یہ غیر قانونی اضافہ مستقل کرکے مزید 20 ارب روپے ناجائز وصول کیے جسے آج تک واپس نہیں کیا گیا۔ اس طرح بجائے ادا کرنے کے صارفین سے اضافی 20 ارب روپے وصول لیے گئے۔2005ء میں ہونے والے نجکاری معاہدے پر نجکاری کمیشن، حکومت پاکستان اور کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ الجموعیہ کے درمیان دستخط ہوئے۔ جبکہ 2009ء میں ترمیمی نجکاری معاہدے میں نجکاری کمیشن پاکستان کو سائیڈ لائن لگا کر غیر قانونی طور پر وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی نے حکومت پاکستان کی جانب سے دستخط کیے، جبکہ قانونی طور پر نجکاری کمیشن کو ہی ترمیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہیے تھے، کیونکہ اصل نجکاری معاہدہ 2005ء میں کے ای ایس سی کی نئی انتظامیہ اور نجکاری کمیشن پاکستان کے درمیان ہوا تھا، اور نجکاری کمیشن ہی نجکاری معاہدے میں اصل دستخطی تھا۔ لہٰذا ترمیمی معاہدے پر بھی نجکاری کمیشن کے دستخط ہونا لازمی تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے موجودہ معاون خصوصی برائے توانائی، اور کے الیکٹرک کے سابق چیئرمین تابش گوہر کے دور میں ہی بجلی کے تیز میٹر لگائے گئے، تانبے کے تار اتارکر بیچے گئے اور سلور کے تار لگائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں گرمی اور ہوا کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث آئے دن سلور کے تار ٹوٹ جانے کے باعث گھنٹوں بجلی غائب ہونا معمول بن گیا ہے۔ تابش گوہر کے دور میں ہی کے الیکٹرک کے عملے کو ادارے کی طرف سے ای میل کے ذریعے اوور بلنگ کرنے کے لیے ہدایات جاری کی گئی۔ اضافی بجلی کے بلوں کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور ان ناجائز بلوں کی وصولی کے لیے سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو ریکوری افسران تعینات کیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کے الیکٹرک مختلف طریقوں سے اووربلنگ کے ذریعے ہر ماہ اضافی 6 ارب روپے کراچی کے شہریوں سے وصول کرتی ہے، جس کی بنیاد اضافی میٹر ریڈنگ کے ذریعے زائد بل، ایوریج بل، بقایا جات، بجلی چوری کا جھوٹا الزام لگاکر زائد بل، جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ہیں۔ تابش گوہر کے دور میں ہی بجلی کے فرنس آئل کے پلانٹس کو دانستہ بند یا ان کی استعدای گنجائش سے کم چلایا گیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 2015ء میں سابق وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف نے اسمبلی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سال 2009ء میں کے الیکٹرک کے نجکاری معاہدے میں غیرقانونی تبدیلیاں کرکے ابراج گروپ کو زبردست فائدہ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، کے الیکٹرک وفاق سے 650 میگاواٹ سستی بجلی لے کر مہنگی فروخت کرتا ہے جبکہ اپنے فرنس آئل کے پلانٹس کو بند رکھ کر کراچی میں لوڈشیڈنگ کرتا ہے، اس کے نتیجے میں وہ سالانہ اربوں روپے منافع کما رہا ہے جبکہ حکومت کو ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی بھی دینی پڑتی ہے۔2017ء میں اکائونٹنٹ جنرل پاکستان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک نے بجلی چوری اور T&D نقصانات کی مد میں کراچی کے صارفین سے 14.5 ارب روپے اضافی وصول کیے، جبکہ IPPs نے اپنے پلانٹس کو ان کی استعدادی پیداواری گنجائش سے دانستہ طور پر کم چلا کر قومی خزانے کو 28 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔
اہم بات یہ ہے کہ نوازشریف کی حکومت نے بھی ان غیر قانونی تبدیلیوں کے اعتراف کے باوجود کے الیکٹرک کے معاملات درست کرنے کے بجائے کے الیکٹرک کی سرپرستی جاری رکھتے ہوئے نہ صرف اسے اربوں روپے کی سالانہ سبسڈی فراہم کی بلکہ 2016ء میں نیپرا کے ملٹی ایئر ٹیرف میں کے الیکٹرک کی جانب سے مانگا جانے والا من مانا ٹیرف نہ ملنے پر وفاقی حکومت نے وزارتِ توانائی پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو ایک خط کے ذریعے ٹیرف میں اضافے کے لیے دبائو ڈالا۔ جبکہ کئی مواقع پر کے الیکٹرک نے گیس نہ ملنے کا بہانہ بناتے ہوئے کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کی تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سوئی سدرن گیس کمپنی پر دبائو ڈالتے ہوئے بغیر کسی معاہدے کے گیس کی خرید و ٖفروخت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے واجبات ادا کیے بغیر کے الیکٹرک کو فراہم کی جانے والی روزانہ گیس کی مقدار میں اضافہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں کراچی کے صنعتی علاقوں میں گیس کی قلت کے باعث لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی جس سے صنعتی پیداوار کو زبردست نقصان پہنچا۔ تابش گوہر کے دور میں ہی کراچی کے غریب اور متوسط علاقوں میں بجلی چوری کا بہانہ بناکر12 سے 18 گھنٹے روزانہ طویل لوڈشیڈنگ کا آغاز کیا گیا۔ جبکہ نیپرا قوانین کے مطابق جو صارف اپنا بل وقت پر ادا کرتا ہے اُس کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ میٹر کی پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ہر ماہ کراچی کے صارفین سے میٹر رینٹ وصولی کا آغاز کیا گیا۔ بجلی کے ٹیرف میں بینک چارجز شامل ہونے کے باوجود ہر ماہ علیحدہ سے بھی ڈبل بینک چارجز وصول کیے گئے۔ میٹر رینٹ کے 11 ارب روپے اور ڈبل بینک چارجز کی مد میں 13 ارب روپے سے زائد غیر قانونی اضافی رقم کراچی کے صارفین سے وصول کی گئی۔ نجکاری معاہدے اور نیپرا ملٹی ائیر ٹیرف کے مطابق کلاء بیک کی مد میں کے الیکٹرک کو کراچی کے صارفین کو 42 ارب روپے واپس کرنے ہیں۔ کے الیکٹرک نے یہ رقم واپس کرنے کے بجائے سندھ ہائی کورٹ سے اس کے خلاف بھی اسٹے آرڈر لے رکھا ہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں سابق وفاقی سیکریٹری برائے بجلی یونس ڈھاگہ نے نیپرا چیئرمین کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دس سال کے دوران کے الیکڑک نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے غلط اعداد وشمار کی بنیاد پر 62 ارب روپے اضافی وصول کیے۔ انہوں نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر 62 ارب روپے کی اووربلنگ کو ختم کرکے کراچی کے صارفین کو رقم واپس دلائے- مگر نوازشریف کی حکومت نے یونس ڈھاگہ کا فوری طور پر وفاقی وزارت توانائی برائے بجلی سے تبادلہ کرکے انہیں وفاقی وزارت تجارت کا سیکریٹری بنادیا اور کے الیکٹرک کی کراچی کے صارفین سے 62 ارب روپے کی اووربلنگ کے معاملے کو دبادیا گیا۔ نیپرا نے اپنی سالانہ اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ میں کے الیکٹرک کی کارکردگی کے بارے میں لکھا کہ کے الیکٹرک نیپرا کی طرف سے دئیے گئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ کے الیکٹرک کی کارکردگی ملک کی سرکاری بجلی کمپنیوں سے بھی بدتر ہوگئی ہے، جبکہ کے الیکٹرک ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔ کے الیکٹرک کو ترمیم شدہ معاہدے کے تحت 2009ء سے 2012ء تک تین سال کے اندر بجلی کی جنریشن، ٹرانسمیشن، اور ڈسٹری بیوشن میں 361 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے بجلی کی پیداوار میں 1300میگاواٹ اضافہ کرنا تھا، جس میں کے الیکٹرک مکمل ناکام رہی۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق کے الیکڑک بجلی کی پیداوار میں صرف 350 میگاواٹ اضافہ کرسکی، کراچی سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی نہ ہوسکا، جبکہ کے الیکٹرک کے بجلی کے بوسیدہ نظام کے باؑعث بارش کا پہلا قطرہ پڑنے اور درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہونے پر فالٹ آنے کے سبب فیڈر ٹرپ ہوجاتے ہیں، جن کو بحال کرنے میں 12 سے 18 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ہر سال بارش کے دوران بجلی کے پولز میں ارتھنگ سسٹم نہ ہونے کے باعث درجنوں شہری کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔
اکتوبر2016ء میں ابراج گروپ کا 16 ارب میں خریدی گئی ’’کے الیکٹرک‘‘ شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کو ایک کھرب 77 ارب میں فروخت کا معاملہ طے پایا۔ کے الیکٹرک کی فروخت سے قبل ابراج گروپ کو نجکاری کمیشن سے نیشنل سیکورٹی کلیرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ مگر کے الیکٹرک پر SSGC کے 107 ارب روپے اور NTDC کے 198 ارب روپے واجب الادا ہیں، جب تک کے الیکٹرک 305 ارب روپے ان کمپنیوں کو واپس نہیں کرتی نجکاری کمیشن نیشنل سیکورٹی کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرسکتا۔ اسی تنازع کے باعث پانچ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود شنگھائی الیکٹرک اور ابراج گروپ کے درمیان کے الیکٹرک کی فروخت کا معاملہ مکمل نہیں ہوسکا۔
کے ای ایس سی کی نجکاری کے 16سال گزر جانے کے بعد بھی کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار میں خودکفیل نہ ہوسکی۔ اپنے ذرائع سے بجلی کے پیداواری یونٹس میں صرف 11فیصد کا اضافہ کیا۔
اس کا سارا دار و مدار NTDCاورIPPs سے حاصل کردہ بجلی پر رہا، جبکہ کراچی میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس دوران صارفین کی تعداد میں بھی صرف 6.4 فیصد کا اضافہ ہوا، اور اس کی ریکوری بھی 100 فیصد سے کم رہی۔ سرکاری کے ای ایس سی کو نجکاری سے پہلے 2005ء میں ڈیڑھ ارب روپے سالانہ سبسڈی دی گئی، جبکہ نجکاری کے بعد نجی کمپنی ہونے کے باوجود کے الیکٹرک کی سبسڈی بڑھتے بڑھتے97ارب روپے سالانہ تک پہنچ گئی۔
آپریشن اینڈ مینٹی نینس اخراجات 2005ء کے مقابلے میں2019 ء میں4 ارب روپے سالانہ سے بڑھ کر60 ارب روپے سالانہ ہوگئےجو کہ1200 گنا زیادہ ہیں۔ کے الیکٹرک نیپرا کی طرف سے دئیے گئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات میں کمی کے ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، مگر جادوگری دکھاتے ہوئے حیرت انگیز طور پر سال 2016ء میں اس نے ریونیو میں 357 فیصد اضافے کے ساتھ32 ارب روپے منافع،سال 2019 ءمیں ریونیو میں 600 فیصد اضافے کے ساتھ17 ارب سے زائد کا منافع کمایا۔ بجلی کی پیداوار اور صارفین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے، بل کی ریکوری بھی سو فیصد نہ ہوسکنے اور نیپرا کی طرف سے دئیے گئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات بھی ہدف کے مطابق کم نہ ہونے کے باوجود کے الیکٹرک کے بڑھتے ہوئے ریونیو اور منافع کی اصل جادوگری کی بنیاد اووربلنگ، جعلی سہ ماہی اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور ٹیرف کا بہت زیادہ ہونا ہے۔
نیپرا رپورٹ 2019ء میں کے الیکٹرک کی گزشتہ تین سال کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ کے الیکٹرک اپنے پاور پلانٹس دانستہ استعدادی گنجائش سے کم (Underutilized) چلاتی ہے۔ کے الیکٹرک صارفین کی مختلف کیٹیگری (Low Loss Areas, High Loss Areas, Very High Loss Areas)کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کر لوڈشیڈنگ کے ذریعے بجلی کی فراہمی معطل رکھتی ہے جو کہ غیر قانونی عمل اور نیپرا کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ کے الیکٹرک کا موجودہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک اوور لوڈڈ اور اضافی بجلی گزارنے یا اُٹھانے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ اس کی ٹرانسمیشن لائنیں بھی اوور لوڈڈ ہیں جس کی وجہ سے آئے دن ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہوجانے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوجاتی ہے۔ اپنے سسٹم میں خامیوں اور کمزوری کے باعث اپنے ذرائع سے سستی بجلی کی پیداوار اور دیگر ذرائع سے سستی بجلی اپنے ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے حاصل نہ کرنے کی صلاحیت کے الیکٹرک کی ناکامی ہے۔ نیپرا رپورٹ کے مطابق سال 2019ء کی بارشوں کے دوران کے الیکٹرک کی غفلت و لاپروائی کے باعث 19 سے زائد لوگ کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے، جس کی وجہ کے الیکٹرک کے بجلی کے نظام میں حفاظتی اقدامات کے لیے ارتھنگ سسٹم کا نہ ہونا تھا جو کہ نیپرا کے حفاظتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ سال 2020ء میں بھی بارش کے دوران کئی انسانی جانیں کے الیکٹرک کی لاپروائی اور کرنٹ لگنے سے ضائع ہوئیں۔ نجکاری کو 16سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی کراچی کے شہریوں پر لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہے، جبکہ نیپرا نے بھی کے الیکٹرک کو من مانے ٹیرف کے ذریعے مہنگی بجلی اور اووربلنگ کے ذریعے کراچی کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کا کھلا لائسنس دے رکھا ہے۔ کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی ملک کی باقی سرکاری بجلی کمپنیوں کی نجکاری میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ نیپرا اپنی اتھارٹی کے الیکٹرک پر قائم اور اپنے قوانین پر عمل درامد کروانے میں عملاً ناکام ثابت ہوا ہے اور کراچی کے صارفین کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکا جو کہ اس کی بنیادی ذمہ داری اور نیپرا ادارہ قائم کرنے کی ایک بنیادی وجہ تھی۔ نیپرا جو فیصلے صارفین کے حق میں دیتا ہے، کے الیکٹرک ان فیصلوں کے خلاف عدالت کے ذریعے اسٹے آرڈر حاصل کرلیتی ہے اور نیپرا کی قانونی ٹیم اسٹے آرڈر کو خارج کروانے کے لیے عملاً کچھ نہیں کرتی، اور کراچی کے شہریوں پر ہونے والے مظالم پر نیپرا اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاء بیک (CLAW BACK) کی مد میں 45 ارب سے زائد رقم کراچی کے شہریوں کو آج تک نہیں مل سکی۔ 16سال گزرجانے کے بعد بھی کراچی سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ ہوسکا اور ادارے کی کارکردگی ملک کی سرکاری بجلی کمپنیوں سے خراب ہے۔ بلوں کی وصولیاں 100 فیصد کے بجائے88 فیصد ہیں، اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات بھی22 فیصد سے کم نہ ہوسکے،جس کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہوجاتی ہے اور ہر سال ادارے کو دی جانے والی بڑھتی ہوئی سبسڈی سے قومی خزانے پر مالی بوجھ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ورلڈبینک کی مئی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق ”کے الیکٹرک کراچی کے صارفین کو بجلی کی معیاری خدمات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جبکہ صنعتی صارفین بھی مہنگی بجلی سے پریشان ہیں’’۔ کراچی کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے NTDC کے پاس سستی اور اضافی بجلی موجود ہے، مگر اسے حاصل کرنے کے لیے کے الیکٹرک کو اپنے ٹرانسمیشن سسٹم کی گنجائش بڑھانے کے لیے 500KV کی ٹرانسمیشن لائن بچھا کر NTDC سے منسلک کرنا تھی، جو کہ کے الیکٹرک کی جانب سے سرمایہ کاری نہ کرنے کے سبب 2008 ء سے التواء کا شکار ہے۔جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت اور آپریشن و مینٹی نینس پر بڑھتے ہوئے اخراجات پر بھی کے الیکٹرک قابو نہ پاسکی، جس کے باعث ماہانہ فیول اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر مہنگی ہوتی بجلی متوسط شہریوں کے قوتِ خرید سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ تاجر و صنعت کار بھی مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافے سے پریشان ہوگئے ہیں جس کا برا اثر ملکی برآمدات پر مسلسل کمی کی صورت میں پڑ رہا ہے۔ جبکہ کے الیکٹرک کی سبسڈی میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے جو حکومت کے لیے گردشی قرضے کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، جس کے باعث معیشت پر بھی برا اثر پڑرہاہے جس سے مزید مہنگائی جنم لے رہی ہے۔
موجودہ منظرنامے میں کے الیکٹرک کے سابق چیئرمین تابش گوہر کا وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر اچانک سامنے آنا بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت 2009ء کی طرح ابراج گروپ کو سرکاری بیل آوٹ پیکیج کی صورت میں اس پر واجب الادا رقم سرکاری خزانے سے ادا کرکے کلین چٹ فراہم کردی جائے گی، تاکہ ابراج گروپ 16ارب میں خریدی گئی ’’کے الیکٹرک‘‘ شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کو ایک کھرب 77 ارب میں فروخت کرکے ملک سے فرار ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ تابش گوہر نے بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی ڈویژن نیپرا کو خط لکھ کر دبائو ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ نیپرا کے الیکٹرک کے مقابلے میں دیگر کمپنیوں کو بجلی کے ڈسٹری بیوشن لائسنس دینے سے باز رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کے الیکٹرک کی 16 سالہ کارکردگی سے مطمئن ہے تو پھر نجکاری کے ثمرات صرف کراچی تک ہی کیوں محدود کررکھے ہیں؟ وہ اسلام آباد سے لے کر کوئٹہ تک کی سرکاری بجلی کمپنیوں کی نجکاری کیوں نہیں کرتی؟ اور اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی خود اس کام میں رکاوٹ بن گئی ہے تو پھر فوری طور پر ایک کمیشن بناکر کے الیکٹرک کا 16 سالہ فرانزک آڈٹ کروا کر رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔