پاکستان میں آئندہ برسوں میں فالج چوتھی بڑی بیماری بن جائیگی

جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو جہاں کئی سہولتیں فراہم کی ہیں، وہاں اس کے خوف ناک صحت کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ جیسے جیسے ہماری زندگی میں حرکت اور چلنا پھرنا کم ہورہا ہے، سہل پسندی بڑھ ہے ویسے ویسے کئی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ان میں سے ایک بیماری فالج ہے جس کا شکار ماضی کے مقابلے میں آج بہت زیادہ لوگ ہورہے ہیں۔
محققین کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں فالج کے مرض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اور اس کی بڑی وجہ صحت مند طرزِ زندگی کا نہ ہونا ہے۔ اسی شعور اور آگاہی کے لیے پوری دنیا میں کام ہورہا ہے، اور اسی سلسلے میں ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن کے تحت اِس سال عالمی یومِ فالج کو ”منٹ زندگی بچا سکتے ہیں“ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے تحت تین روزہ دسویں قومی کانفرنس برائے فالج کا انعقاد ہوا جس میں ڈاکٹرز اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
کانفرنس میں کئی سیشن تھے جس میں ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے فالج کے علاج پر روشنی ڈالی اور پورے ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ کانفرنس کے عوامی آگاہی سیشن سے ماہرین ِ اعصاب و دماغ پروفیسر ڈاکٹر واسع شاکر، ڈاکٹر عبدالمالک، ڈاکٹر عارف ہریکر، ڈاکٹر بشیر سومرو، ڈاکٹر انجم فاروق، ڈاکٹر زاہد لطیف، معروف عالم دین مولانا ساجد جمیل، سینئر صحافی عامر اشرف، حامدالرحمٰن اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس سیشن میں بتایا گیا کہ پاکستان میں آئندہ برسوں میں فالج چوتھی بڑی بیماری بن جائے گی جس کو روکنے کے لیے دل کی بیماریوں کی طرح فالج کو بھی میڈیکل ایمرجنسی قرار دیا جائے، سرکاری اسپتالوں میں برین اٹیک سینٹر قائم کیے جائیں اور عوام کو اس مرض سے بچاؤ کی آگاہی دی جائے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں 45 سال تک کی عمر کے لوگوں میں فالج کے حملے کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستانیوں کو دنیا بھر کے مقابلے میں 10برس پہلے فالج کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ ماہرین نے روزانہ کم ازکم 30 منٹ کی واک پر زور دیا۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً چار لاکھ اور روزانہ ایک ہزار سے زائد افراد فالج کے حملے کا شکار ہورہے ہیں، جن میں سے تقریباً چار سو افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ دو سو سے تین سو افراد روزانہ مستقل معذوری کا شکار ہورہے ہیں جو ایک تشویش ناک صورت حال ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی اور ماحولیاتی آلودگی فالج کی اہم وجوہات ہیں۔ فالج کورونا سے دس گنا زیادہ مہلک ہے۔ اس مرض پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر آگاہی اور سرکاری سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے عملی، ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرز نے علامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فالج کی علامات میں بولنے کی صلاحیت متاثر ہونا، چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا، ٹانگ کا کمزور یا سُن ہوجانا، چکر آنا، چال میں لڑکھڑاہٹ، اچانک بینائی متاثر ہونا، یادداشت کا کھونا، اچانک تیز سردرد یا بے ہوش ہوجانا و دیگر شامل ہیں۔ فالج کے خطرے کو کم کرنے کےلیے بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھیں، خون میں چربی کی مقدار کم کریں، غذا میں بڑے گوشت اور چکنائی سے پرہیز کریں، جبکہ مہینے میں کم از کم 15دن 30منٹ کی واک کی جائے تو فالج کے خطرے کو 20فیصد کم کیا جاسکتا ہے۔
وہ لوگ جن کا جسمانی وزن نارمل سے زیادہ ہے، یا وہ جو تمباکو نوشی کرتے ہیں، اور ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض اور مستقل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگ، اور وہ لوگ جن کی عمر پچاس سال سے زائد ہو، یا وہ لوگ جن کے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا ایک کنڈیشن جسے ایٹریل فبریلیشن کہتے ہیں موجود ہو، یہ سب فالج کے حملے کے زیادہ رسک پر ہوتے ہیں۔
یہ ایک قاتل مرض ہے، اس کی شرح میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اگر کسی کو فالج ہو بھی جائے تو وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے ٹوٹکوں سے کام لیتا ہے۔ بلوچستان میں تو اس کے علاج کے لیے چلہ کشی کی جاتی ہے۔ ہمیں قومی سطح پر اس مرض سے آگاہی کے لیے کوشش کرنی چاہیے، سرکاری سطح پر اس مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے عملی ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فالج کے حوالے سے ٹیلی اسٹروک کے آغاز کی ضرورت ہے۔ جب تک اس مرض کے حوالے سے عوام میں آگاہی نہیں ہوگی مرض قابو میں نہیں آئے گا۔اگر اس مرض کی بروقت تشخیص کرلی جائے تو معذوری سے بچا جا سکتا ہے۔اس وقت دنیا میں فالج موت کی دوسری اہم وجہ بن چکا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس مرض کے حوالے سے اپنی کنفیوژن دور کرنی ہے،آگاہی کے ذریعے ہی اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں فالج کا یونٹ ہی قائم نہیں، جو نیورولوجسٹ ہیں انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے حوالے سے نہ حکومت سوچتی ہے اور نہ عوام میں آگاہی ہے۔ میڈیا فالج کی آگاہی کے لیے اپنے دائرے میں کام کررہا ہے۔ اس مرض کے حوالے سے ٹاک شوز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فالج سے روزانہ 400افراد ہلاک ہوتے ہیں، اگر یہی تعداد بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی ہو تو بریکنگ نیوز چل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کے بعد سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے۔ سیاسی اور سماجی طور پر آج ہر شخص پریشان ہے، کئی بیماریوں کا علاج خود مریض کے پاس ہوتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، ڈاکٹرز کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ تھوڑا سا وقت نکال کر اس حوالے سے ویڈیو بناکر آگاہی فراہم کریں۔ صحت سے متعلق آگاہی کے لیے این جی اوز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ پاکستان میں ایک ڈیڑھ لاکھ این جی اوز مختلف سیکٹرز میں کام کررہی ہیں۔
اس موقع پر معاشرے میں صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے والے ڈاکٹرز، صحافیوں اور سوشل ایکٹیوسٹ کو شیلڈز بھی دی گئیں۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک اہم کانفرنس تھی جس کے منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں، لیکن ساتھ ہی ضرورت اس بات کی ہے کہ آگاہی کے اس پیغام کو کسی خاص دن تک محدود نہ کیا جائے اور شہر و دیہات ہر جگہ اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک خطرناک لیکن قابل علاج بیماری ہے، اور لوگوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ فالج سے نوجوان افراد زیادہ متاثر ہورہے ہیں، اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے بلڈ پریشر بھی چیک کروانا چاہیے۔