اعلیٰ عدلیہ کا نیا پنڈورا باکس

اسلام عدل کا علَم بردار ہے کہ عدل خود خالقِ کائنات کی صفات میں سے ہے۔ قرآن وحدیث میں جابجا عدل قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۂ المائدہ کی آیت 8 میں ارشادِ ربانی ہے ’’کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ نزدیک ہے‘‘۔ پھر سورۂ انعام کی آیت 152 میں حکم فرمایا گیا ہے کہ ’’اور جب بات کرو، انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتے دار ہی کا کیوں نہ ہو‘‘۔ اور سورۂ النساء آیت 135 میں تو معاملے کے ایک ایک پہلو کو کھول کھول کر نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتے داروں ہی پر کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو، اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی، یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘۔ عدل کی اس سے زیادہ اہمیت اور کیا ہوگی کہ مسلمان کو اپنی ذات، والدین اور رشتے داروں کو نقصان پہنچتا اور دشمن کو فائدہ پہنچتا دیکھنے کے باوجود عدل کو نہ چھوڑنے بلکہ ہر حال میں اس پر قائم رہنے کا حکم مالکِ حقیقی کی جانب سے دیا گیا ہے۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں بھی ہمیشہ عدل کا بول بالا رکھا گیا۔ ایک مال دار قبیلے کی فاطمہ نامی خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی تو طبقاتی تفاوت کے عادی معاشرے میں ایک ہل چل مچ گئی، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے سفارشیوں کی کوئی بات یہ کہہ کر ماننے سے انکار فرما دیا کہ اگر میری لختِ جگر فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ اسلامی تاریخ بھی مسلمان ججوں کے سنہری فیصلوں سے تابناک ہے، عدل کی اس سے بہتر مثال کہاں تلاش کی جائے کہ اسلامی عدالت خلیفۂ وقت کی بات ایک یہودی کے مقابلے میں تسلیم کرنے سے اس لیے انکار کردیتی ہے کہ خلیفہ کا گواہ اس کا بیٹا یا خونیں رشتے دار ہے۔
مملکتِ خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام بھی کلمہ طیبہ کی اساس پر وجود میں آیا تھا، یہ بدقسمتی الگ ہے کہ پون صدی گزر جانے کے باوجود آج بھی اسے ’’ریاست مدینہ‘‘ بنانے کے محض زبانی دعوے ہی جاری ہیں۔ ہماری عدالتِ عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کا شمار بھی ملک کے باوقار اور محترم آئینی اداروں میں ہوتا ہے، جن کا نصب العین بھی قرآن حکیم کی سورہ المائدہ کی آیت 8 کے اس حصے سے ماخوذ ہے کہ اِعْدِ لَو ھُوَاقْرَبُ لِلْتَقْوٰی‘‘۔مگر اعلیٰ عدلیہ کے اس محترم آئینی ادارے کو جس طرح بدنام کیا جارہا ہے، جس بے رحمی سے اس کی بھد اُڑائی جارہی ہے، اس کی داستان بہت تکلیف دہ ہے۔ اس طرزِعمل نے آئین اور قانون سے محبت رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے دلوں میں اعلیٰ عدلیہ کے لیے موجود احترام اور تقدس کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے اور ملک کے نظامِ عدل پر باشندگانِ پاکستان کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کے سابق منصفِ اعلیٰ رانا ایم شمیم کی جانب سے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سابق منصفِ اعلیٰ ثاقب نثار پر الزامات کا ایک نیا پنڈورا بکس کھولا گیا ہے، انہوں نے لندن میں رجسٹر کرائے گئے ایک حلفیہ بیان کے ذریعے الزام عائد کیا کہ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعلیٰ کی حیثیت سے جولائی 2018ء میں عدالتِ عالیہ کے ایک جج کو ہدایت دی کہ ’’میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کو عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہیے۔‘‘ اس پورے حلف نامے کی تفصیلات کی اشاعت کے بعد ذرائع ابلاغ کے رابطہ کرنے پر جناب ثاقب نثار کی جانب سے اس الزام کی تردید اور جناب رانا شمیم کی جانب سے تصدیق اور اپنے حلف نامے کے درست ہونے پر اصرار سامنے آیا ہے۔ عدلیہ کی عزت اور وقار کے پیش نظر بہتر ہوتا کہ اس سنگین معاملے کو عدلیہ ہی کی سطح پر تحقیق و تفتیش اور حکمت و دانش کے ذریعے نمٹا دیا جاتا، مگر ہوا یہ ہے کہ دونوں سابق منصفینِ اعلیٰ کی حمایت اور مخالفت میں حکومت اور نواز لیگ کے وابستگان خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں، یوں قوم کو عدل کی فراہمی کا یہ نہایت حساس مسئلہ بری طرح سیاست کی نذر ہوچکا ہے، اور ملک کے پہلے سے خستہ حال نظامِ انصاف کی چولیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں دونوں جانب سے جس کا مؤقف بھی درست ثابت ہو، نتیجہ تباہی اور فقط تباہی ہے، کہ مدعی اور ملزم دونوں اپنی اپنی سطح کی عدلیہ کے سابق منصفِ اعلیٰ ہیں۔
جس شدید بحرانی کیفیت سے ہماری اعلیٰ عدلیہ بلکہ ملک کے کم و بیش تمام اہم ادارے گزر رہے ہیں، اس کا واحد یقینی اور شافی علاج یہی ہے کہ سیاسی مناصب پر انتخاب کے لیے آئین کی دفعات باسٹھ اور تریسٹھ پر عمل درآمد کو لازم ٹھیرایا جائے۔ اسی طرح عدلیہ ہو یا دوسرا کوئی قومی ادارہ، ان سب میں ذمہ داریاں تفویض کرتے وقت دیگر تمام پیشہ ورانہ اور غیر پیشہ ورانہ اہلیتوں کے علاوہ فرد کے ذاتی کردار، امانت و دیانت، دین داری، تقویٰ اور خوفِ خدا کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے، کہ اس کے بغیر اداروں کی اصلاح ممکن ہے نہ نظام کی بقا۔ (حامد ریاض ڈوگر)