کوآپریٹو مارکیٹ آتش زدگی کیا دوسرا سانحہ بلدیہ ٹاؤن ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

کراچی میں آتش زدگی کے واقعات معمول کی بات ہوگئے ہیں۔ سانحہ بلدیہ اور اس کے بعد کئی واقعات جن میں کورنگی فیکٹری کا سانحہ کل کی ہی بات ہے، کہ ایک اور واقعہ ہوگیا۔ کراچی کے معروف تجارتی علاقے صدر میں قائم کوآپریٹو مارکیٹ میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں، جس کے نتیجے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لےلیا۔ مارکیٹ میں آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کا عملہ حسبِ روایت اپنی کارکردگی دکھانے سے قاصر رہا اور دیر سے پہنچا۔
کوآپریٹو مارکیٹ واقعہ دوسرا سانحہ بلدیہ ٹاؤن ہے جس میں بلڈر اور قبضہ مافیا ملوث ہیں۔ تاجروں نے الزام عائد کیا ہے کہ مارکیٹ کو کیمیکل ڈال کر آگ لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں 10 منٹ میں آگ ساری مارکیٹ میں پھیل گئی۔
کوآپریٹو مارکیٹ کے ایک دکان دار نے بتایا کہ وہ 50 سال سے اس مارکیٹ میں کاروبار کررہے ہیں، اتوار کے روز دوپہر ایک بجے کے الیکٹرک کا عملہ کام کررہا تھا، ان کے جانے کے بعد 3 اور 4 بجے کے درمیان مارکیٹ کی پہلی منزل پر ہلکا دھواں اٹھا، اور پانچ سے ساڑھے پانچ بجے تک آگ نے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ پانی کی کمی کی وجہ سے کبھی ایک گلی تو کبھی دوسری گلی جاتا رہا، اور اسی وجہ سے کبھی آگ جلتی تھی تو کبھی بجھتی رہی اور یہ سلسلہ پیر تک جاری رہا۔
ایک اور تاجر نے نجی چینل کو بتایا کہ گودام بھی جلے ہیں، مارکیٹ 90 فیصد جل چکی ہے، اب تاجر مارکیٹ سے اپنا بچا کھچا سامان نکال رہے ہیں۔ ایک مقامی تاجر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑا نقصان ہوگیا، مگر کوئی پوچھنے نہ آیا، عمارت کے اندر آگ بجھانے کا کام جاری ہے اور دھواں اب بھی موجود ہے۔
کوآپریٹو مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ بلڈر نے 1990ء سے عمارت مکمل نہیں کی تھی، عمارت میں پارکنگ پر بھی تنازع تھا۔ تاجروں نے نقصان کا تخمینہ 5 سے 10 ارب روپے بتایا ہے۔
کمشنر کراچی کا ایک اور حادثے کے بعد روایتی ییان میں کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کی سربراہی میں صدر کی تمام مارکیٹوں کا سروے کیا جائے گا اور جو رولز موجود ہیں ان پر عمل درآمد کرایا جائے گا، اور کہیں بھی کمی بیشی ہے اُسے ختم کرایا جائے گا تاکہ عمارتوں میں ایک نظام موجود ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ صرف باتیں ہیں، شہر کو برباد کرنے میں ان اداروں اور انتظامیہ کے کرپٹ مافیا کا ہاتھ ہے۔
اس واقعے کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور تاجروں سے ملاقات کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوآپریٹو مارکیٹ صدر میں آتشزدگی کے متاثرہ سیکڑوں دکان داروں کو فوری طورپر بحالی کے لیے معقول معاوضہ اداکرے، شارٹ سرکٹ کا کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی، واقعے کی درست تحقیقات کرائی جائے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی غصے میں آنے کے بجائے یہ بتائیں کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے کیوں پہنچا؟ اور پہنچنے کے باوجود آگ پر قابو کیوں نہیں پایا گیا؟ وزیراعلیٰ سندھ خود یہاں کا دورہ کریں اور متاثرین کو معاوضے اور زرِ تلافی کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے متاثرہ دکان داروں سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت تاجروں کی جانب سے بجلی کے بل اور ٹیکس معاف کرنے کے مطالبے کو بھی تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ، چھے سو دکانیں جلی ہیں، متاثرہ لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں، فوری سروے کرکے ان کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔ فائر بریگیڈ کا کام ہے کہ ڈھائی سے تین منٹ میں پیشہ ورانہ مہارت و صلاحیت استعمال کرتے ہوئے آگ بجھانے کی کوشش کرے، لیکن گاڑیاں جب پہنچی ہیں تو ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا جس کے نتیجے میں یہ آگ پھیلتی چلی گئی۔ ان اداروں میں کام کرنے والوں کی درست طریقے سے ٹریننگ ہو اور سیاسی بھرتیاں نہ ہوں تو یہ ادارے صحیح طور پر اپنا کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکاروں نے رات بھر لوگوں کی مدد کی ہے، جو ہم سے ہوسکتا تھا ہم نے کیا ہے۔ ہمارے رضاکار ریاستی اداروں کا بدل نہیں۔ حکومتی اداروں کا کام ہوتا ہے کہ حادثوں کی صورت میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکومتی شخصیات کو یہاں کا دورہ کرنا چاہیے، یہ کہنا درست نہیں کہ تیس چالیس دکانیں جلی ہیں۔ آکر دیکھیں تو سہی، کتنے بڑے پیمانے پر یہ آگ لگی ہے۔ صرف بیانات دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری منعم ظفر خان، آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد، ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔

Share this: