خانہ جنگیوں کی روک تھام

Print Friendly, PDF & Email

موسم بہار تک میانمار (برما) میں جمہوریت نواز تحریک بنیادی طور پر فروری میں اقتدار پر قبضہ جمانے والی فوجی قیادت کے خلاف خاصے پُرامن انداز سے احتجاج کررہی تھی۔ مگر پھر موسمِ گرما کے دوران فوجی قیادت نے جب تشدد کی راہ اپنائی تب شہریوں کے سیکڑوں چھوٹے مگر مسلح اور پُرعزم گروہوں نے بہت تیزی سے ابھر کر ملک بھر میں فوجی قافلوں پر حملے کرنا اور بھرپور مزاحمت کرنا شروع کردی۔
بیٹسی ہوزے اور پیس میڈی نے جو کچھ دکھایا ہے اُس کے مطابق کسی بھی ملک میں فوجی قیادت کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد شہریوں کی طرف سے مزاحمتی تحریک بالعموم اِسی طریقے سے شروع ہوتی ہے۔ ایسا اُسی وقت ہوتا ہے جب کسی بھی نوع کی بیرونی مدد نہ مل رہی ہو۔
جب پُرامن مظاہرین کسی حد تک تشدد پر مائل ہوتے ہیں تب فوجی حکومتیں بالعموم زیادہ سختی کے ساتھ کریک ڈاؤن کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں تشدد کا دائرہ پھیلتا ہے اور سیاسی خرابی کا گراف بلند ہوتا جاتا ہے۔ یہ کیفیت شدت یا زور پکڑتے پکڑتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔
اقوام متحدہ عجیب الجھن میں ہے۔ اقوام متحدہ کی کریڈینشلز کمیٹی میانمار کی فوجی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ٹالتی رہی ہے۔ ہاں، میانمار کے فوجی حکمرانوں کے خلاف کوئی بھی واضح اقدام کرنے سے اقوام متحدہ اس لیے مجتنب رہی ہے کہ اُنہیں چین اور روس کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ اب تک کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کے پھوٹ پڑنے سے قبل کسی بھی نوع کی کارروائی سے گریزاں رہی ہے۔ اسی طور شہریوں کو نشانہ بنانے کے عمل کی روک تھام میں بھی اُسے اب تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی کہنا پڑے گا کہ میانمار کے حوالے سے کچھ نہ کرنے پر اقوام متحدہ کو زیادہ مطعون نہیں کیا جاسکتا۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی مداخلت سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ کسی بڑے انسانی المیے کے رونما ہونے کی راہ روکنے کے لیے پہل کرے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے ساتویں باب کی رُو سے ایک ادارے کی حیثیت سے کسی بھی ملک میں براہِ راست مداخلت ممکن یا آسان اس لیے نہیں کہ بڑی طاقتوں کے مفادات کام کررہے ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اُسی طور کام کرسکتی ہے جس طور وہ کام کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔ یہ سوچنا محض سادہ لوحی ہے کہ اقوام متحدہ کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کی روک تھام کے لیے تیزی سے براہِ راست کوئی کارروائی کرسکتی ہے یا کرے گی۔ بعض حالات میں لوگ اقوام متحدہ سے غلط یا بہت زیادہ توقعات وابستہ کربیٹھتے ہیں اور سیاسی اعتبار سے اُس کی ناطاقتی کے ذریعے کے بارے میں غلط رائے قائم کرتے ہیں۔
کسی بھی انسانی المیے کی روک تھام کے لیے جب مداخلت ناگزیر ہو تب تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری یا R2P کا نظریہ اس قدر لچک دار ہے کہ سلامتی کونسل کی باضابطہ منظوری کے بغیر بھی امداد فراہم کی جاسکتی ہے۔ مگر خیر اس طریق پر عمل کرنے کے بھی چند فوائد، تو چند نقصانات ہیں، کیونکہ روس اور چین کی طرف سے مخالفت یا مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی طاقت بنیادی حقوق کی آڑ لے کر مداخلت کرسکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے منشور کی نفی ہو نہ ہو، اُس کی توقیر میں تو کمی واقع ہوتی ہی ہے۔
جہاں ناگزیر ہو وہاں کسی بڑے انسانی المیے کی راہ مسدود کرنے کے لیے مداخلت کی جاسکتی ہے بہ شرطِ کہ کئی فریق اس کام میں شریک ہوں۔ کوسووا میں معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی مداخلت اِسی ذیل میں آتی ہے۔ اس کے لیے سلامتی کونسل کی طرف سے منظوری کا انتظار نہیں کیا گیا تھا۔ اِسی طور لیبیا میں بھی مداخلت کی گئی تھی۔ یوکرین میں روس کی مداخلت بھی اِسی ذیل میں آتی ہے۔ عراق میں امریکہ کا ایکشن اور اس کے نتیجے میں چِھڑنے والی جنگ دونوں کو اِسی کھاتے میں رکھا جائے گا۔ ویسے ان تمام کارروائیوں کو وسیع تر تناظر میں اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہی کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ بہرکیف، کہیں بھی شدید ظلم و ستم کو روکنے کا معاملہ سلامتی کونسل کی منظوری کا متحاج نہیں۔
تحفظ کی ذمہ داری والا نظریہ اصلاً تو بہت سے معاملات پر غور و خوض کے بعد کارروائی کا متقاضی ہے، مگر اس حوالے سے عام طور پر طاقت کے استعمال ہی کو اولیت دی جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جنگ کی صورت میں جو جانی نقصان ہوسکتا ہے اُسے ٹالنے میں کامیابی مل سکتی ہے؟ یا یہ کہ حکومت کی تبدیلی یقینی بنانے اور بڑے پیمانے کے انسانی المیے کو روکنے کی کوشش کی صورت میں اُس کے مقابلے میں کم نقصان ہوگا جو صورتِ حال کو برقرار رہنے دینے کی صورت میں ہوسکتا ہے؟ یا یہ کہ مداخلت نہ کیے جانے کی صورت میں دو ممالک کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہو۔ مثلاً دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہو تو کیا معاملے کو یونہی چھوڑ دیا جائے؟ مثلاً سابق امریکی صدر بارک اوباما نے 2011ء میں شام میں کسی بڑے انسانی المیے کی روک تھام یقینی بنانے کے لیے مداخلت کی تجویز پیش کی تھی، یا پھر اُس سے قبل کارروائی کی تجویز جب بشارالاسد کی حامی فوج شہریوں پر ’’محض‘‘ بیرل بم گرا رہی تھی، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شروع نہیں کیا گیا تھا۔ جب داعش نمودار ہوئی اور روس بھی شام میں موجود تھا تب کوئی بھی بڑی کارروائی خاصی دشوار ہوگئی۔
کسی بھی ملک میں عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری تو متعلقہ ریاست کی ہے۔ میانمار میں عوام کو حقیقی تحفظ فراہم کرنا وہاں کی فوجی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اور تو اور، امریکہ بھی اپنے ہاں عوام کو حقیقی اور مطلوب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جنوبی سرحدوں پر پناہ گزینوں کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا تو نہیں۔ چین میں بھی سنکیانگ کا صوبہ بنیادی حقوق کے حوالے سے پریشان کن صورتِ حال کا حامل رہا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کسی بڑی خرابی کو دور کرنے کا عزم ظاہر کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی روایت بھی قائم کی جانی چاہیے۔
کسی بھی ملک میں حکومت کے خلاف کام کرنے والے مسلح گروہوں کو امن پسند گروہوں کے مقابلے میں عالمی برادری سے زیادہ عسکری مدد مل جاتی ہے، جبکہ پُرامن جدوجہد کرنے والے گروہوں کے لیے اپنا دفاع بھی بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں وہ کسی اور کے لیے جدوجہد کہاں کرسکتے ہیں؟
عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر ریاست پر زور دے کہ وہ اپنے ہاں تمام شہریوں کو ہر اعتبار سے مکمل تحفظ فراہم کرے۔ اس حوالے سے کسی بھی ریاست کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کا آپشن بھی موجود ہے۔ یہ کام عالمی برادری کسی حد تک اطمینان بخش طریقے سے کررہی ہے۔ امریکہ اور چین نے میانمار کی فوجی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لے کر اپنے حصے کا کام کرنے کی اچھی کوشش کی ہے۔ اسی طور افغانستان کی امداد روک کر طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے (یونیسیف، ترقیاتی پروگرام اور ترقیاتی فنڈ برائے نسواں وغیرہ) بھی یہ کام اچھی طرح کررہے ہیں۔ یہ تمام ادارے کسی بھی ملک کو ترقیاتی امداد اس بات سے مشروط کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں بنیادی حقوق کا خیال رکھے اور تمام شہریوں کا مکمل تحفظ یقینی بنائے۔ جن ریاستوں میں بنیادی حقوق کے حوالے سے ڈھانچا کمزور ہے اُن کی خصوصی مدد بھی کی جاتی رہی ہے تاکہ وہ اپنے معاملات کو درست کریں۔
سیویرائن آتیسیرے (Severine Autesserre) کی کتاب ’’دی فرنٹ لائنز آف پیس‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے ہائی پروفائل یعنی اشرافیہ کے ذریعے چلائے جانے والے قیامِ امن کے اقدامات پر تو بہت زیادہ خرچ کرتی ہے مگر کسی بھی متاثرہ ملک یا خطے میں عام شہریوں کی مدد کرنے کے حوالے سے بہت کم خرچ کرتی ہے۔ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ عالمی برادری جو اقدامات کرتی ہے وہ کسی ملک یا خطے کے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ کبھی کبھی خود جمہوری عمل ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اگر کسی ملک میں سلامتی اور سیاست کے حوالے سے کسی بڑی خرابی کو روکنے کے نظام یا طریقِ کار میں کوئی خرابی ہے تو بس یہ کہ وہاں حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف پُرامن جدوجہد کرنے والے شہری گروہوں اور تحریکوں کی سلامتی یقینی بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو جب کوئی نہیں سنتا اور عالمی برادری بھی اُن کی پُرامن جدوجہد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی تب وہ ہتھیار اٹھاکر اپنے ہی سیکورٹی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کرتے ہیں تاکہ عالمی برادری اُن کی طرف دیکھے، اُن کے مسائل سُنے اور اُن کی مدد کرے۔ عالمی سطح پر پائی جانے والی بے نیازی اور بے حسی ہی کسی بھی ملک میں حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔
کسی بھی ملک میں سفاکی اور بے رحمی روکنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اپنے طریقِ کار میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اگر جمہوریت کو فروغ دینا ہے، عدمِ تشدد کی راہ پر چلنے والوں کو نوازنا ہے اور خانہ جنگیاں روکنا ہیں تو کسی بھی ملک میں بروقت اقدام کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، تاکہ بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع روکا جاسکے۔ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے سڑکوں پر آکر پُرامن جدوجہد کرنے والوں کا تحفظ کسی بھی صورت ممکن بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی ملک میں فوجی حکومت کے اقدامات کی بنیاد پر اُس ملک پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ تو عوام ہی آتے ہیں۔ اُن کے لیے جینا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ملک میں اقتدار پر قابض ہوجانے والی فوجی حکومت کو سزا دینے کی صورت میں سزا دراصل اُس ملک کے شہریوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔ جو لوگ ہتھیار نہیں اٹھاتے اُن کی زیادہ مدد کی جانی چاہیے، مگر جو کچھ ہورہا ہے وہ اِس کے برعکس ہے۔
میانمار آج خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ دو ڈھائی ماہ پہلے تک ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ شہری گروہ پُرامن جدوجہد کررہے تھے۔ اُن کی کوشش تھی کہ حکومت اُن کی بات سنے، اُن کے حقوق تسلیم کرے اور عام آدمی کے لیے زندگی دشوار نہ کرے۔ اگر تب میانمار کے شہریوں کے لیے بعض نو فلائی زون بنائے جاتے اور انہیں امداد فراہم کی جاتی تو حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کو تشدد میں لتھڑنے سے روکا جاسکتا تھا۔ یہ طریقہ 1991ء میں عراقی کردستان میں خاصا کارگر ثابت ہوا تھا۔
کسی بھی ملک میں پُرامن جدوجہد کے تشدد کی طرف رواں ہونے سے پہلے ہی بیرونی مداخلت کے ذریعے معاملات کو درست کیا جاسکتا ہے۔ چند ممالک یا بڑے عالمی ادارے مل کر اپنے ہی ملک میں بے گھر ہوجانے والوں کی مدد کرکے معاملات کو درست کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا نظام اور طریقِ کار موجود ہے۔ خانہ جنگی کی طرف بڑھنے والے کسی بھی ملک میں لوگوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے پڑوسی ممالک بروقت اقدامات کے ذریعے اپنی اور پریشان حال لوگوں کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ طالبان کی دوبارہ آمد سے کچھ ہی قبل ایران اور تاجکستان نے معاملات کی نوعیت بھانپتے ہوئے ہزاروں افغان شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دے کر ایک بڑے انسانی المیے کی راہ خوب مسدود کی۔
سیاسی حالات کی خرابی سے دوچار کسی بھی ملک یا خطے سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا کسی بھی اعتبار سے مشکل ہے نہ سیاق و سباق سے ہٹ کر۔ بوسنیا ہرزیگووینا میں بھی ایسا ہوا تھا۔ شام میں بھی بعض غیر سرکاری امدادی تنظیموں نے تباہ حال علاقوں کے شہریوں کی مدد کی تھی۔ اس کرۂ ارض کے شمالی حصے میں کئی ممالک حالات کی خرابی کا شکار ہیں اور بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کا مسئلہ کھڑا ہوچکا ہے۔ کوئی ایسا میکنزم تیار کیا جانا چاہیے کہ معاملات بروقت نمٹائے جائیں اور کسی بھی ملک کو بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی آمد جیسے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ سب کچھ ایسا آسان نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ حالات کی خرابی کا شکار ہونے والے ممالک میں آمر چند ایسی شرائط بھی منواسکتے ہیں جن کے مان لینے سے وہاں اپوزیشن اور جمہوریت نواز جماعتوں اور گروہوں کا خاتمہ ہوجائے۔
عالمی برادری کسی بھی ملک میں فوجی حکومت کے خلاف پُرامن جدوجہد کرنے والے گروہوں کی مدد کے ذریعے معاملات کو بڑے پیمانے کی مداخلت کی منزل تک پہنچنے سے روک سکتی ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری میانمار میں ایک سنہرا موقع ضائع کررہی ہے۔

Share this: