وٹامن ڈی کیا ہوتے ہیں، کیوں ضروری ہیں؟

Print Friendly, PDF & Email

دھوپ انسان کے لیے قدرت کاتحفہ اور وٹامن ڈی کا خزانہ ہے

”ڈاکٹر صاحب! یہ وٹامن ڈی کا کیا قصہ ہے؟ میرا بھی کم، بچوں کا بھی کم، اور میرے شوہر کا بھی کم۔ چھوٹا والا رات کو پاؤں دبواتا ہے، میری کمر میں درد رہتا ہے، حالانکہ پورے دو سال دودھ پیا ہے چھوٹے نے۔“
پڑھی لکھی خاتون نے سوال کیا جو کہ اسکول میں پڑھاتی بھی ہیں۔
”کمزور ہے، وزن نہیں بڑھ رہا، قد نہیں بڑھ رہا،
رات میں پاؤں پٹختی ہے، ہاتھ پاؤں میں کھنچائو رہتا ہے۔“
اس قسم کے اکثر سوالات روزانہ کئی مائیں پوچھتی ہیں۔
اکثر لوگ متوازن غذا اور صحت مند غذا سے متعلق غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔ وٹامنز کن غذاوں سے حاصل ہوتے ہیں لوگ اس سے متعلق جاننا نہیں چاہتے، اس کے بجائے شارٹ کٹ چاہتے ہیں۔ ”بھوک کی کوئی دوا دے دیں“ یا ”ملٹی وٹامن لکھ دیں“ جیسے مطالبات ڈاکٹر سے ضرور کرتے ہیں۔
وٹامن کیا ہوتے ہیں، کیوں ضروری ہیں، اور کیسے جسم کو حاصل ہوتے ہیں… اس پر آج بات کرتے ہیں۔ اور سب سے پہلے وٹامن ”ڈی“ کا ذکرِ خیر۔
اللہ تعالیٰ نے جسم کی ضرورت کے مطابق بہت سارے اجزاء انسانی غذا میں شامل کردئیے ہیں، اور فطری ماحول کو اس طرح ترتیب دیا جو انسان کی زندگی اور اس کی نشوونما میں مدد کرے۔ وٹامن ڈی بھی رب العالمین کی مہربانیوں میں سے ایک ہے۔
ماں کے پیٹ سے لے کر جوان ہونے تک، اور پھر بڑھاپے تک وٹامن ڈی انسانی ضرورت ہے۔ اس کا سب سے بڑا کام انسانی ہڈیوں پر کیلشیم کی تہہ کو جمانا ہے، یعنی ہماری ہڈیوں پر جو کیلشیم جمع ہوتا ہے جس سے ہماری ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں وہ وٹامن ڈی کی وجہ سے ہے۔
وٹامن ڈی کیلشیم اور فاسفورس کے توازن کو انسانی جسم میں قائم رکھتا ہے۔
ماں کے پیٹ میں بچے کی ہڈیوں کی تشکیل میں کیلشیم اور فاسفورس کا کلیدی کردار ہے، اور وٹامن ڈی اس کو متوازن کرنے والا وٹامن ہے۔ اگر ماں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو تو اس کے آنے والے بچے کی ہڈیاں کمزور ہونے کا قوی خدشہ ہوتا ہے۔
بچے کی پیدائش کے بعد اگر ماں میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو بچے کو ماں کا دودھ کم ملے گا۔ اس طرح کی صورت حال میں وٹامن ڈی کی بچے کو فراہمی باہر سے ڈراپس کی صورت میں بہت ضروری ہے، ورنہ بچے کی ہڈیاں کمزور اور ٹیڑھی ہوجاتی ہیں، اور بعض اوقات ہڈیاں کمزور ہونے کی وجہ سے جلدی جلدی ٹوٹ بھی سکتی ہیں۔
بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہونے والی بیماری ریکٹس (Rickets) کہلاتی ہے۔ اور وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیوں پر کیلشیم کم جمع ہوتا ہے اور ہڈیاں کمزور، ہڈی کی ساخت میں تبدیلی اور وہ ٹیڑھی ہوسکتی ہیں۔
وٹامن ڈی اگر مستقل کم رہے، یا عمر کے ابتدائی حصے میں کم ہو تو ہڈی کے بڑھنے کی رفتار کم رہتی ہے اور بچہ اپنے جینیاتی قد کے مقابلے میں کم لمبائی حاصل کرپاتا ہے۔ اگر وٹامن ڈی مسلسل کم مقدار میں رہے تو بڑھاپے میں ہڈیوں کے بیشتر مسائل کی وجہ بنتا ہے۔
وٹامن ڈی جسم میں ہڈیوں سے ہٹ کر کیا کام کرتا ہے، یہ آج کل ریسرچ کا مرکزی موضوع ہے۔
اب تک کی معلومات کے مطابق وٹامن ڈی انسانی سیل کی بڑھوتری، اس کی خصوصیات اور تقسیمِ کار میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں عضلات (Muscles) کے کام میں بھی یہ معاون ہے، اور اعصابی نظام(Nervous System) کے کام میں بھی اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ کہ اب تک بہت سارے اہم مشاہدات کا باقاعدہ کوئی ثبوت نہیں، مگر چونکہ وٹامن ڈی کے ریسیپٹر(Receptors) جسم کے مختلف سیلز میں پائے گئے ہیں اس لیے خیال یہ کیا جاتا ہے کہ اس وٹامن کا رول جسم میں ہڈیوں سے ہٹ کر بھی اہم ہے۔
یہ کہاں سے حاصل ہوتا ہے اور جسم میں کیسے مختلف مراحل سے گزر کر اپنا کام کرتا ہے، یہ بھی بہت دلچسپ ہے۔
مچھلی وٹامن ڈی کی فراہمی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے، مچھلی بھی وہ جو چکنائی والی ہو۔ اس کے علاؤہ گوشت، انڈہ اور دودھ بھی وٹامن ڈی فراہم کرتے ہیں۔
دھوپ انسان کے لیے قدرت کا بہت بڑا تحفہ اور وٹامن ڈی کا خزانہ ہے۔ اگر صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے کے درمیان دھوپ میں کم از کم دس منٹ ایسے گزارے جائیں کہ چہرے، ہاتھوں اور ٹانگوں پر سورج کی کرنیں جنہیں(باقی صفحہ 41پر)
UVB (Ultraviolet B) شعاعیں کہا جاتا ہے، لگیں تو خاصا وٹامن ڈی میسر آتا ہے۔
مگر سردیوں کے موسم میں، ڈارک جلد والوں کو سن اسکرین کے استعمال کے ساتھ دھوپ سے وٹامن ڈی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
اس لیے وٹامن ڈی کے دیگر ذرائع زیادہ قابلِ ذکر ہیں جن میں مچھلی بھی شامل ہے۔ حاملہ خواتین اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے والی ماں کے لیےمچھلی کے استعمال کی کوئی ممانعت نہیں، ہمارے معاشرے میں اسے خوا مخواہ کا ایک مسئلہ بنایا ہوا ہے۔
چلیں دوبارہ وٹامن ڈی کی مزید بات کرتے ہیں۔
چونکہ اس وٹامن کی قدرتی فراہمی مخصوص غذاؤں میں ہے، اس لیے جو لوگ خالص سبزی خور ہوتے ہیں وہ، اور بوڑھے لوگ خاص طور پر اس کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو روزانہ کم از کم 400 یونٹ وٹامن ڈی کی ضرورت ہے اگر اس کا وٹامن ڈی کا لیول جسم میں کم از کم بین الاقوامی معیار سے بہتر ہے۔ اور اگر کم ہے تو اس کو زیادہ مقدار میں استعمال کی ضرورت ہے جو کہ ڈاکٹر اس کی مجموعی صورت حال اور ضرورت کے مطابق تجویز کرسکتے ہیں۔
وٹامن ڈی جسم میں چربی والے سیلز میں جمع ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق اُن دنوں میں جب سورج یا دیگر ذرائع سے میسر نہ ہو، استعمال ہوتا ہے۔
جہاں اس کی کمی جسم کے لیے ٹھیک نہیں، وہیں اس کی زیادتی بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے یہ درست نہیں ہوگا کہ آپ بلا ضرورت اس کو استعمال کرتے رہیں۔ اس کی زیادتی کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں، اس لیے توازن میں ہی بہتری ہے۔

Share this: