تسامحات یاغلطیاں

Print Friendly, PDF & Email

۲۴۔یہ نکتہ زیادہ اہم تو نہیں لیکن توجہ مبذول کروانا مقصود ہے کہ حصۂ نظم میں علامہ اقبال ؒ کی ایک نظم ’’مردِ مسلماں‘‘ اور ایک قطعہ’’تن بہ تقدیر‘‘ شامل کیا گیا ہے۔ یہ نظم اور قطعہ ان کے مجموعے ’’ضربِ کلیم‘‘ سے لیے گئے ہیں۔ ایک ہی مجموعے سے دونوں نظمیں لینا سمجھ میں نہیں آتا۔
٭جدید دور میں انٹرنیٹ کے استعمال سے تقریباً ہر شخص واقف ہے۔ اس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت سے بھی سب باخبر ہیں۔ اس کے ذریعے دنیا جہان کی معلومات صرف ایک لمحے کی دوری پر ہوتی ہیں، لیکن اسی انٹرنیٹ پر جھوٹی خبروں اور غلط فہمیوں کا بھی بڑا ذخیرہ موجود ہے، ایسے میں انٹرنیٹ سے معلومات لیتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ لیکن نصاب کا جائزہ لینے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں سب سے اہم کردار وکی پیڈیا اور دیگر ویب سائٹس نے ادا کیا ہے۔
۲۵۔ سبق ’’تھر کی نادیہ کمانچی‘‘ کی مشق میں ’’مرکب مصادر‘‘ کی تعریف لفظ بہ لفظ وکی پیڈیا سے لی گئی ہے، یہی نہیں، اس کی مثالیں بھی وہی دی گئی ہیں جو وہاں درج ہیں اور ان کی ترتیب بدلنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔ (ص ۸۹)
۲۶۔ پریم چند کے تعارف میں ان کی پیدائش کا شہر’’بنارس‘‘ اور وفات کا شہر’’وارانسی‘‘ لکھا گیا ہے۔(ص ۴۳)
یہ معلومات بھی وکی پیڈیا سے لفظ بہ لفظ لے لی گئی ہیں اور یہ دیکھنے یا غور کرنے کی بھی زحمت نہیں کی گئی کہ وارانسی اور بنارس ایک ہی شہر کے نام ہیں، بلکہ اس شہر کا تیسرا نام کاشی بھی ہے۔ شکر ہے کہ تعارف میں صرف پیدائش اور وفات کا ذکر ہے۔ اگرسوانح بھی ہوتی تو ممکن ہے یوں لکھا جاتا کہ ’’پریم چند ’’بنارس‘‘ میں پیدا ہوئے، زندگی کے آخری سال ’’کاشی‘‘ میں گزارے اور ’’وارانسی‘‘ میں انتقال ہوا۔‘‘
۲۷۔ پروین شاکر کی آزاد نظم ’’مشورہ‘‘ کا مآخذ ’’سخن سرا‘‘ لکھا گیا ہے۔ یہ ایک ویب سائٹ ہے جہاں سے ان کی نظم کو لیا گیا ہے، جب کہ یہ نظم ان کے پہلے شعری مجموعے ’’خوشبو‘‘میں شامل ہے[۲۵]۔ اور ان کی کتابوں کے علاوہ ان کی کلیات بھی ہر لائبریری میں دستیاب ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ نصاب میں شامل نظموں کو ویب سائٹ سے لیا جارہا ہے۔
٭ عام طور پر غزلیات کی تعریف میں بتایا جاتا ہے کہ غزل کا ہر شعر الگ مفہوم رکھتا ہے، یہی تعریف کتاب میں بھی شامل ہے(ص ۱۵۹)، لیکن نصاب میں منیر نیازی کی وہ غزل شامل کی گئی ہے جو موضوعاتی یا غزلِ مسلسل ہے۔ اس غزل کے بجائے کسی دوسری غزل کا انتخاب کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ انٹرمیڈیٹ کی سطح پر غزل کی تعریف بیان کرتے ہوئے غزل کے اشعار کی کم از کم تعداد پانچ بتائی جاتی ہے، اسی نسبت سے پچھلے نصاب میں تمام غزلیں پانچ یا پانچ سے زیادہ اشعار پر مشتمل تھیں۔ لیکن نئے نصاب میں شامل منیر نیازی کی چار اشعار پر مشتمل غزل شامل کی گئی ہے، جب کہ یہ مکمل غزل پانچ اشعار پر مشتمل ہے اور اس کا ایک شعر یہ بھی ہے:
کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں
گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں
مذکورہ شعر سمیت پوری غزل ایک ہی مزاج کی ہے لیکن یہ شعر نا معلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا۔
٭ساقی جاوید کی نظم ’’چاند میری زمیں‘‘ میں سوال نمبر ۱ کے حصہ (الف) میں پوچھا گیا ہے کہ اس نظم کی ہیئت کا نام لکھیے؟ (ص۱۵۲)
جب کہ اس نظم کو جس طرح نصاب میں شامل کیا گیا ہے وہ نظم کی کسی بھی ہیئت میں نہیں سما سکتی۔ وہ نظم گیت کے طور پر لکھی گئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گیت سن کر ہی شامل کی گئی ہے۔ اسی نظم کے سوال نمبر ۱ کے حصہ (ج) میں پوچھا گیا ہے کہ: ’’زمین اور چاند کا استعارہ کس چیز کے بارے میں ہے؟‘‘ (ص ۱۵۲)
جب کہ مصرعے’’چاند میری زمیں، پھول میرا وطن‘‘ کی مناسبت سے سوال میں زمین کی جگہ ’پھول‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ (یعنی پھول اور چاند کا استعارہ کس چیز کے بارے میں ہے۔)
٭مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے ’’تھر کی نادیہ کمانچی‘‘ کی مشق میں سوال نمبر ۳ میں سبق کے محاورات لکھنے اور ان کے جملے بنانے کا سوال ہے؟ (ص۸۹) جب کہ سوال نمبر ۵ میں پھر جملوں کے استعمال کا سوال دیا گیا ہے۔ جب محاورات کے جملے بنانے کا سوال دے دیا گیا تو الگ سے الفاظ کے جملوں کا سوال کیوں شامل کیا گیا؟
یہی صورتِ حال ابنِ انشاء کے مضمون ’’ایک انار صد بیمار‘‘ میں دہرائی گئی ہے۔ یہاں سوال نمبر ۳میں جملے بنوائے گئے ہیں، جب کہ سوال نمبر ۶ میں’’سبق میں شامل محاورات لکھنے اور انھیں جملوں میں استعمال کرنے کا کہا گیا ہے‘‘ (ص ۱۰۸)۔ ایک ہی مشق میں دو مرتبہ جملوں کا سوال پوچھنا غیر مناسب ہے۔
٭ نصاب میں شامل سفرنامہ نگار تو بے شک اردو کے بہترین سفرنامہ نگاروں میں سے ایک ہیں، لیکن ان کے سفرناموں کے انتخاب میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ مستنصر حسین تارڑ کے شاملِ نصاب سفرنامے ’’تھر کی نادیہ کمانچی‘‘ میں چند سطروں کے بعد تاثراتی کہانی محسوس ہوتی ہے، جس میں سفر یا اس سے متعلق کوئی بات شامل نہیں۔ جب کہ قمر علی عباسی کے سفرنامے’’ملکہ بلقیس کا محل‘‘ میں سفرنامے کا وہ حصہ شامل کیا گیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے اس قصے پر مشتمل ہے جس کا ذکر قرآن ِپاک میں بھی موجود ہے۔ اس منتخب حصے میں ہد ہد کی زبانی شہرِ سبا کے سفر کے تصوراتی بیان کے سوا سفرنامے کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ یعنی سفرناموں کے نام پر تاثراتی تحریریں نصاب میں شامل ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭ نصاب میں شامل نظم و نثر کے ہر حصے کی مشق الگ الگ دی گئی ہیں، یہاں تک کہ آزاد نظموںکی مشقیں بھی علیحدہ علیحدہ دی گئی ہیں، جب کہ احمد فراز اور منیر نیازی کی غزلوں کی مشق کو ایک ساتھ دیا گیا ہے، جس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔
مندرجہ بالا غلطیوں کے علاوہ اگر اس کتاب کے پروف کی غلطیاں دیکھیں تو اس کے لیے علیحدہ دفتر درکار ہوگا۔
میرے خیال میں نصابی کتب کی تیاری میں پہلا مرحلہ ان قواعد و ضوابط اور اصولوں کی پابندی ہے جس کے تحت نثری یا شعری حصہ نصاب میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ پہلے باقاعدہ ان قواعد کو سامنے رکھا جائے اور اس کے مطابق نصاب تیار کیا جائے۔ اس کتاب کی تیاری میں بھی ایسی بہت سی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں جس سے مؤلفین اور مرتبین میں کوئی مشاورت یا باہمی تعاون دکھائی نہیں دیتا۔ شاعروں، ادیبوں کے تعارف سے ان کی تصانیف اور مآخذ تک میں کوئی خاص(باقی صفحہ 41پر)
ربط یا تسلسل نہیں ہے۔ مصنفین؍ مؤلفین اور مرتبین میں کافی نام شامل ہیں جو اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں اس طرح کی اتنی ساری غلطیوں کا سامنے آنا بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ املا یا پروف کی غلطیاں تو درگزر کی جا سکتی ہیں لیکن میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پورا نصاب مذکورہ شخصیات کے ہاتھوں سے گزرا ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ چند غیر متعلقہ افراد سے نصاب تیار کروایا گیا ہے، اسی لیے اس نصاب میں اتنی بہت سی خامیاں ایک ساتھ جمع ہوگئی ہیں۔
یہ درست ہے کہ یہ کتاب آزمائشی بنیادوں پر اشاعت کے لیے پیش کی گئی ہے، اور اساتذہ کی نشاندہی پر ان غلطیوں کی درستی کردی جائے گی، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ توآنکھیں بند کرکے کتاب مرتب کرے اور غلطیوں کی درستی کی ذمہ داری اساتذہ پوری کریں۔ پہلے نصابی کتب معیار کی علامت سمجھی جاتی تھیں جن میں غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی تھیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ مذکورہ خامیوں کو دور کرتے ہوئے ایسا جامع نصاب مرتب کیا جائے جو تحقیقی یا نصابی غلطیوں سے پاک ہو۔
……٭٭٭……
حواشی
[۲۴]سید کاظم جعفری ’’کون کہتا ہے کہ موت آئی تو میں مر جاؤںگا‘‘، مشمولہ: روزنامہ دنیا،۲ جولائی،۲۰۱۴ء۔
[۲۵]ملاحظہ ہو: خوشبو، پروین شاکر، (لاہور:غالب پبلشرز، ص ۱۳۸؛ اور دیکھیے، ماہِ تمام (کلیات)، پروین شاکر،(دہلی: فرید بکڈپو،۱۹۹۷ء)، ص ۱۴۱

Share this: