ڈاکٹر عبدالقدیر خان (مرحوم )کی یاد میں

Print Friendly, PDF & Email

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ زندگی میں انسان بہت سے اُتارچڑھاؤ، صدمات اور خوشیوں کو قریب سے دیکھتا اور برداشت کرتا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور حوادث اس قدر گہرے اور دُوررس اثرات کے حامل ہوتے ہیں کہ حیرت اور صدمے کے الفاظ ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ اس کیفیت میں بالخصوص اپنے دوستوں، رفیقوں اورمحترم شخصیتوں کی جدائی بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔10اکتوبر 2021ء کو پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان جناب عبدالقدیرخان کا انتقال ہوا تو لوحِ ذہن پر واقعات و حوادث کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اُبھر آیا۔یہ 1952ء کی بات ہے، جب میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا ناظم تھا۔ تب، کھوکھراپار کے راستے، بے سروسامانی کے عالم میں بھوپال سے ہجرت کرکے آنے والے ایک درازقامت طالب علم سے ملاقات ہوئی، جس کی شرافت، نجابت اور شائستگی کا نقش پہلی ملاقات ہی میں ثبت ہوگیا۔ یہ نوجوان طالب علم ڈی جے سائنس کالج میں ایف ایس سی میں زیرتعلیم تھا اور والدین و اساتذہ کی دینی تربیت کے باعث، جمعیت کے رفقا سے قریب تر ہوگیا۔ آگے چل کر یہی نوجوان ڈاکٹر اے کیوخان کے نام سے پاکستان کے جوہری پروگرام کا سرتاج بنا۔اُس زمانے میں عبدالقدیر خان کی وابستگی جمعیت کے اجتماعات میں شرکت، ہمارے ترجمان Student’s Voice کی اشاعت و ترویج، مستحق طالب علموں کی تعلیمی مدد اور سماجی سرگرمیوں میں ہم قدم ہونے تک تھی۔ اسی دوران ایک روز انھوں نے مجھ سے کہا: ’’میں جمعیت کا رُکن بننا چاہتا ہوں‘‘۔ میں نے اُن کے ذوقِ مطالعہ کو جاننے کے باوجود یہ کہا کہ ’’نصاب رکنیت کی مزید کتب کا مطالعہ کرلیجیے‘‘۔ تاہم، بعد میں وہ تنظیم میں اور زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے، لیکن جمعیت کی اجتماعی سرگرمیوں سے اپنے زمانۂ طالب علمی میں وابستہ رہے۔ تعلیم مکمل کرکے پہلے مقامی طور پر کراچی میں ملازمت کی اور بعد میں بیرونِ پاکستان چلے گئے۔
ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے احوالِ زندگی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ لیکن یہاں میں اُن کے بارے میں اُن کی زندگی کے چند ایسے اوراق پیش کرنا چاہتا ہوں ، جو لکھنے والوں کی نظروں سے بالعموم اوجھل رہے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف کے دورِ حکومت میں سب سے پہلے 2001ء میں ڈاکٹر صاحب کو ایٹمی پروگرام سے متعلق قومی ادارے KRL کی سربراہی سے سبک دوش کرکے صدر کا مشیر مقرر کیا گیا۔ مگر 31جنوری 2004ء کو انھیں اچانک اس منصب سے الگ کرکے نظربند کردیا گیا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انھیں امریکہ کے حوالے کیے جانے کی باتیں منظرعام پر آئیں۔ڈاکٹرصاحب کو نظربند کرنے کے بعد، ان کی کردارکشی کی مہم چلائی گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور کیسے ہوا؟ چونکہ یہ معاملہ بہت نازک ہے، اس لیے اپنی روایت سے ہٹ کر، سینیٹ آف پاکستان میں اپنی چند تقریروں کے اقتباسات، سینیٹ کے ریکارڈ سے پیش کر رہا ہوں، جن سے معاملے کی نزاکت کی تفہیم ممکن ہوسکے گی۔
16 فروری 2004ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا تھا: ’’یہ معاملہ محض 4 فروری (2004ء) کو ڈاکٹر اے کیو خان کے ٹیلی وژن پر ’اعترافی بیان‘ کے عمل تک محدود نہیں ہے۔ آپ یہ دیکھیے کہ کس طرح 2001ء میں ڈاکٹر اے کیو خان کو ان کے منصب سے فارغ کرکے صرف مشیر کی نمائشی حیثیت دی گئی۔ تب یہ پہلا اشارہ تھا کہ ہوا کا رُخ کیا ہے۔ درحقیقت نائن الیون کی مناسبت سے معاملہ صرف یہی نہیں ہوا کہ اس کے چند روز بعد ہم نے اپنے ایئرپورٹ، زمینیں اور فضائیں امریکہ کے لیے کھول دی تھیں، بلکہ ہم نے امریکہ کو موقع دیا تھا کہ ہماری ایٹمی صلاحیت کے بارے میں وہ جو کچھ ہم سے کہلوانا چاہتا ہے، یا جہاں لے جانا چاہتا ہے، اس کے لیے ہم پر دبائو ڈال سکے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ اس سے قبل ’ڈی بریفنگ‘ (De-briefing) کا معاملہ شروع کیا گیا تھا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ڈی بریفنگ صرف جاسوسوں کی ہوتی ہے، لیکن ہم نے اس اصطلاح کو اپنے اُن محسنوں کے لیے استعمال کیا ہے، جو اس ملک کی سلامتی و خودمختاری اور اس کے دفاع کو مؤثر بنانے کے لیے ہرقیمت پر قربانی دیتے ہیں۔ پھر ’ڈی بریفنگ‘ کے اس نام نہاد عمل کو بھی ہم نے بالاقساط کیا۔ پہلے تو دو سائنس دانوں کو اُٹھایا اور کہا کہ ’’اے کیوخان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ لیکن پھر جس شخص نے اس ملک پر سب سے بڑا احسان کیا اور جس نے اس کے لیے بڑی قربانیاں دیں، اُس کو تسلسل سے تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ سارے اقدامات نہایت ہی اہانت اور ذلت آمیز طریقے سے کیے گئے۔ یہ مسئلہ اپوزیشن یا محض حکومت کا بھی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ حکومت، فوج، پارلیمنٹ ہم سب کا مشترک معاملہ ہے۔ اس ملک کا تحفظ اور اس کی ایٹمی دفاعی صلاحیت کا تحفظ ہی نہیں اس صلاحیت کی ترقی بھی ہمارا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ اس لیے کہ دفاعی صلاحیت ایک منجمد نہیں بلکہ متحرک تصور ہے۔ اس پر حالات کی مناسبت سے نظرثانی کرنی پڑتی ہے، وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے ہوئے اس کے لیے تحقیق و ترقی کا انتظام ناگزیر اور ضروری ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے سائنس دانوں کا تعاون اور ضروری وسائل کی فراہمی اور وہ تمام طریقے اختیار کرنا ضروری ہیں، جو دُنیا کی پابندیوں کے باوجود ہم نے اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ماضی میں بھی کیے ہیں اور آئندہ بھی کرنے پڑیں گے۔ یہ بڑی زیادتی اور بڑا ظلم ہے جو آپ ان محترم سائنس دان کے ساتھ کررہے ہیں۔ جو شخص باہر کی ایک بڑی تنخواہ چھوڑ کر اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر، اپنے ملک کو بچانے کے لیے آیا، وہ بلاشبہ سائنس دانوں اور انجینئروں کی ایک ٹیم کا حصہ ہے۔ اس ٹیم میں جو جوہری قائد تھے، ان کا نام ڈاکٹر اے کیوخان ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ آپ ایک طرف اس کے منہ پر طمانچہ مارتے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ یہ میرا ’ہیرو‘ ہے۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟ میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان اقدامات کے نتیجے میں فوجی قیادت اور عوام کے درمیان بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ اے کیوخان اور ان کے ساتھی سائنس دان قوم کے ہیرو اور محسن ہیں۔ آج تک وژن یہ تھا کہ سائنس دان، اے کیو خان اور فوجی قیادت ساتھ ساتھ ہیں اور سب احترام کی نظر سے دیکھے جارہے تھے، لیکن آج آپ نے ان کے درمیان ایک تصادم پیدا کرکے پوری قوم کے سامنے اس وژن کو منتشر کردیا ہے۔“
29اکتوبر2004ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا: ’’28اکتوبر 2004ء کے روزنامہ پاکستان آبزرور ،[اسلام آباد] میں ڈاکٹر اے کیوخان پر فالج کے حملے کی بڑی پریشان کن خبر شائع ہوئی ہے اور جو تفصیلات ہمارے سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر اے کیوخان متعدد خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں اور گزشتہ سات ماہ سے اپنے گھر پر نظربند ہیں۔ انتہائی ہائی بلڈپریشر اور شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور ان کا وزن32پونڈ کم ہوگیا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک قومی اثاثہ اور ہمارے محسن ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ ان پر کیا الزامات لگائے گئے ہیں اور ان الزامات کی حقیقت یا پس منظر کیا ہے، اور کون کیا کھیل کھیل رہا ہے؟ اس وقت میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی اثاثہ ہیں اور ان کو اس طریقے سے نظربند رکھنا اور معقول علاج معالجے کی سہولتیں نہ دینا، ایک قومی جرم ہوگا۔ اس لیے دردمندی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم یہ مسئلہ پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر اُٹھائیں۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ اسے پوری اُمتِ مسلمہ کے ایک مسئلے کے طور پر لیں، اس لیے کہ ڈاکٹر خان صرف پاکستان کا نہیں پوری اُمتِ مسلمہ کا اثاثہ ہیں۔ ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ اپنی جگہ، لیکن ان کی جان بچانا، ان کو مناسب سہولتیں دینا، اور حبس اور گھٹن کی کیفیت سے نکالنا جس میں وہ گرفتار ہیں، ہماری ذمہ داری ہے۔ میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور قوم کے جذبات کا احترام کرے۔ بیرونی حکومتوں کے اپنے مفادات ہیں۔ جوہری افزودگی کے حوالے سے کس کس نے کیا کیا ہے، یہ آپ کو معلوم ہے۔ اب تو یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ بھارت اس میں ملوث ہے۔ دوسری جانب آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ شمالی کوریا اپنے وسائل سے اس کام کو کررہا ہے لیکن ایک خاص اسکینڈل کے ذریعے شمالی کوریا کے ساتھ ہمیں ملوث کیا جارہا ہے۔ تاہم، میں مطالبہ کروں گا کہ حکومت اس ایوان میں ہمارے سامنے سارے حقائق رکھے۔“
12مئی 2006ء کو سینیٹ میں مَیں نے یہ بیان دیا: ’’میں ایک نہایت ہی اہم قومی مسئلے کے بارے میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اس مسئلے کا تعلق پاکستان اور اُمتِ مسلمہ کے محسن ڈاکٹر اے کیوخان سے ہے۔ اس سلسلے میں ان کو بار بار کی تفتیش، تذلیل اور سیکورٹی کے نام پر ان کے سماجی، خاندانی تعلقات، ان کی ملاقاتیں، حتیٰ کہ اپنی اولاد اور ان کی نواسیوں تک سے ملاقات کو روکا جارہاہے۔ پھر یہ اطلاع آئی کہ ان کو دھمکایا گیا ہے کہ آپ کو قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا، اور پھر گیسٹ ہائوس کے گیٹ کے پاس ایک کمرہ خصوصیت سے اس طرح سے بنایا گیا کہ وہ کسی جیل خانہ سے کم نہیں۔ وہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتے۔ یہ ساری چیزیں ہورہی تھیں کہ پھر یہ اطلاع آئی کہ ان کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ ’’ہم نے ڈاکٹر اے کیوخان کی رہائش کے باہر جو مشین لگائی ہے یہ ان کی حفاظت کے لیے ہے‘‘۔ اور یہ کہ ’’ان سے ملنے کے لیے کوئی نہیں آسکتا‘‘۔ مزید یہ کہ ’’بیوی اور شوہر وہاں رہ رہے ہیں اور ان سے صرف ان کی بیٹی مل سکتی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ نواسی کو کیوں نہیں آنے دیا جاتا؟ کیا وہ اپنے نانا کو مارنے کے لیے کوئی اسلحہ، کوئی ہتھیار لائے گی؟ چلیے میں سیکورٹی کے لیے نگرانی کے ایک نظام کی ضرورت مان لیتا ہوں، لیکن مسئلہ ہے ملاقاتوں سے منع کرنے کا، ذہنی اذیت اور قیدِ تنہائی کا، اور طرح طرح کی اُن دھمکیوں کا جو ڈاکٹر صاحب کو دی جارہی ہیں۔ یہاں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جنرل پرویزمشرف نے دی گارڈین [لندن] کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں سرعام یہ بات کہی ہے کہ ’’اے کیوخان کا مسئلہ ختم ہوگیا‘‘۔ اس سے پہلے انھوں نے یہ بات کہی ہے کہ ’’ان پر صرف ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے، ملک میں نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے‘‘۔ [فوجی ترجمان] شوکت سلطان صاحب نے یہ بات بھی کہی ہے کہ ’’ان کے اعزہ ان سے مل سکتے ہیں‘‘۔ لیکن میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ان کے قریبی اعزہ، حتیٰ کہ ان کی بہن اور بھائی تک کو ملنے نہیں دیا گیا۔ گزشتہ دنوں جب ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فاروق کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت رہا کیا گیا ہے تو ان کو بھی اپنے گھر میں نظربند کردیا گیا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ’’اب یہ باب بند ہوچکا ہے‘‘، لیکن فی الحقیقت جو دبائو، اذیت اور جو سلوک ان لوگوں کے ساتھ کیا جارہا ہے وہ ایک قومی ذلّت ہے۔ بلاشبہ ایٹمی ہتھیار کی تیاری ایک ٹیم کا کام تھا۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہے، سب کا حصہ ہے اور اسی لیے ہم تمام سائنس دانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سب کارنامہ ڈاکٹر اے کیوخان کی سربراہی میں ہوا ہے۔ ہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتے کہ کس نے وہ نیا طریقہ ڈیزائن کیا اور اس ملک کو دیا۔ جس پروسیس کو امریکہ نے اکیس سال میں حاصل کیا تھا، اس کی ٹیم نے سات سال میں کرکے اس قوم کو دے دیا۔ ایسے فرد اور اس جیسے افراد کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے اور کل بھی ہوگی۔ خدا کے لیے امریکہ پر بھروسا نہ کیجیے۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان کے اندر صاف الفاظ میں یہ کہا کہ ’’ہم نے یہ یقین کرلیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے کبھی بھی کسی ایسے ہاتھ میں نہیں جاسکتے، جو اسے غلط استعمال کرسکے‘‘۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ امریکہ کو کیا حق ہے اس بات کا، اور امریکہ کا یہ دعویٰ کہ ’’ہم نے یہ یقینی بنایا‘‘۔ پاکستان کا اپنا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘ ہے اور وہ اچھا ہے، اور اسے آئندہ بھی محفوظ ترین ہونا چاہیے، لیکن امریکہ کا یہ دعویٰ کرنا بہت ہی خطرناک چیز ہے۔ ان حالات کے اندر میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر اے کیوخان کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ خدا کے لیے وہ راستہ اختیار کیجیے جو قومی غیرت ہی نہیں قومی تحفظ اور سلامتی کا تقاضا ہے۔ میں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اے کیوخان کو دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں جو دعویٰ کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ اخبار میں جو خبر آئی ہے وہ کچھ اور بتاتی ہے۔ آج کے نوائے وقت میں حکومت کی طرف سے جو ایک سطری تردید دی گئی ہے کہ اے کیوخان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، میں اس کو چیلنج کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں جناب چیئرمین! کہ آپ کی سربراہی میں یا ڈپٹی چیئرمین کی سربراہی میں وسیم سجاد، ایس ایم ظفر، میاں رضا ربانی اور مجھے موقع دیا جائے کہ ایک وفد کی صورت میں ہم جاکر اے کیوخان سے ملیں اور پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے، اور اس ہائوس کو آکر بتائیں کہ صورتِ حال کیا ہے؟ خبر کی جھوٹی تردید اسی طرح کی جارہی ہے جس طرح امریکہ نے وزیرستان پر حملہ کیا اور ہمارے ترجمان نے تحقیق کے بغیر یہ کہتے ہوئے تردید کردی کہ نہیں یہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہوا، جب کہ پولیٹکل ایجنٹ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ پاکستان کی سرزمین پر ہوا ہے۔ یہی معاملہ اے کیوخان کے حوالے سے بھی ہورہا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ تردید غلط ہے اور مطالبہ کرتا ہوں جناب چیئرمین، کہ آپ کی سربراہی میں ہم جانا چاہتے ہیں تاکہ اُن سے ملیں اور دیکھیں کہ کیا پوزیشن ہے، اور ایوان کو بتائیں۔ اور اس طریقے سے اپنے ملک میں اپنے محسنین، اپنے سائنس دان جو پوری اُمتِ مسلمہ کا سرمایہ ہیں، ان کی حفاظت میں اپنا کردارادا کریں۔“
2 جون 2006ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”جناب چیئرمین! آپ کی اجازت سے میں اس اہم قرارداد کو پیش کررہا ہوں۔ یہ قرارداد مشترکہ طور پر سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر وسیم سجاد، سینیٹر مشاہد حسین، سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر لیاقت بنگلزئی، اور میری [خورشیداحمد] طرف سے پیش کی جارہی ہے: یہ ایوان امریکی ایوانِ نمائندگان کے بعض ممبرز کی اس غیر ضروری رائے زنی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس میں انھوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پوچھ گچھ اور تفتیش کے لیے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ ہم اس اقدام کو پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اپنے معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کا جوہری پروگرام ہمارے دفاع کے لیے انتہائی ضروری ہے اور کسی کے خلاف نہیں ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور بین الاقوامی سیاست میں اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر سائنس دانوں کی کردارکُشی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ پاکستانی قوم ایٹمی ٹیکنالوجی، ہتھیاروں کی تیاری اور توانائی کی سیکورٹی کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کے لیے اپنے سائنس دانوں کی مقروض ہے۔ تمام پاکستانی، اپنے سائنس دانوں کو احترام اورقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ پوری پاکستانی قوم کے جذبات ہیں اور میں اپنے تمام ساتھیوں کا بے حد ممنون ہوں کہ سینیٹ قوم کے ان جذبات کو زبان دے رہی ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم دنیا کے تمام ممالک سے دوستی اور تعاون کا تعلق رکھنا چاہتے ہیں، لیکن عزت کے ساتھ اور اپنی آزادی اور اپنی ریاست کی خودمختاری کے مکمل تحفظ کے ساتھ۔ امریکہ نے جو یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ وہ جس کی چاہتا ہے ٹانگ کھینچتا ہے، جس کی چاہتا ہے بے عزتی کرتا ہے، جس ملک کی چاہتا ہے خودمختاری کے خلاف اقدامات کرتا ہے، اور پاکستان میں باجوڑ ہو یا ہمارے دوسرے علاقے.. ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پاکستان پر دبائو ڈالتا ہے۔ اس قرارداد کی صورت میں سینیٹ ایک بہت بڑی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔ یہ اپنے سائنس دانوں کی عزت، حفاظت اور اپنی خودمختاری کی حفاظت اور اعلان ہے کہ ہم ان معاملات کے اندر کسی کو مداخلت کرنے یا اپنے حقوق میں دست اندازی کرنے کا موقع نہیں دیں گے، اور پوری دنیا کے مسلمان بلکہ پوری دنیا کے عوام اس استعماری کوشش کی مزاحمت کریں گے۔ سینیٹ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے، بلکہ میں کہوں گا کہ پورے ملک کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے میں نے اس قرارداد کو پیش کیا ہے۔“
9اگست 2006ء کو سینیٹ میں، مَیں نے پھر توجہ دلائی: ’’آج جس طرح امریکہ کے کہنے پر ہم نے اپنے نیوکلیئر سائنس دانوں کو تنگ کیا ہے، وہ شرمناک حرکت ہے۔ ڈاکٹر اے کیوخان کے ساتھ جو مظالم کیے جارہے ہیں، یہ کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔ اور جناب والا! آپ کو یاد ہوگا کہ اسی ایوان میں، مَیں نے اور میرے ساتھیوں نے اس مسئلے کو اُٹھایا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمارے وفد کو ڈاکٹر اے کیو خان سے ملنے کا موقع دیا جائے۔ لیکن آج تک یہ موقع نہیں دیا گیا۔ اس دوران اگرچہ دوبار میں اس کے لیے خط بھی تحریر کرچکا ہوں۔ اسی طرح ایران کو تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ سارے کا سارا سامراجی کھیل ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آج پوری دنیا میں امن کی جو تحریک ہے، وہ مکمل طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی تحریک ہے۔ اس پر عمل نہ ہو تو سب کو مواقع ملنے چاہئیں اور کسی کی بالادستی اور اجارہ داری برقرار نہیں رہنی چاہیے۔“
18ستمبر2006ء کو سینیٹ کے اجلاس میں، مَیں نے یہ اذیت ناک صورتِ حال بیان کی:
’’آغاخان ہسپتال کراچی میں، جہاں ڈاکٹر اے کیو خان کا آپریشن ہوا ہے، وہاں مجھے انھیں دیکھنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں نے اجازت دینے سے انکار کیا۔ اگرچہ یقین دلایا گیا تھا کہ ڈاکٹرخان کو دیکھنے اور اپنی اور سینیٹ میں میرے ساتھیوں کی جانب سے دُعائیں اور نیک تمنائیں پہنچانے کے لیے خصوصی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور یہ کہ میں 14ستمبر کو صبح گیارہ بجے ڈاکٹرخان سے مل سکتا ہوں۔ میں گیارہ بجے سے دس منٹ قبل ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ یہاں استقبالیہ میں ایک گھنٹہ 25منٹ میں نے انتظار کیا، لیکن اس عرصے میں سینیٹ سیکرٹریٹ کی کوششوں کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوا، اور مجھے ڈاکٹر خان کو محض گلدستہ بھجوانے کے بعد واپس آنا پڑا۔ بہرحال، میں نے ڈاکٹر خان کی صاحبزادی سے ملاقات کرکے ان تک اپنی دُعائیں اور ساتھیوں کی نیک تمنائیں ڈاکٹر خان کے لیے پہنچائیں۔ ڈاکٹر خان کی صاحبزادی اور خود ڈاکٹرخان مایوس تھے، کیونکہ وہ مجھ سے ملاقات کی توقع کر رہے تھے۔یہ سلوک نہ صرف ذہنی اذیت کا باعث ہے بلکہ اس کے ذریعے اُن تمام انتظامات کو سبوتاژ کیا گیا، جو اس ملاقات کے لیے کسی اور کے نہیں بلکہ ملک کے قائم مقام صدر [محمدمیاں سومرو]کے تعاون سے کیے گئے تھے۔جناب چیئرمین! میں اپنی اس تحریکِ استحقاق میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ ڈاکٹر اے کیوخان میرے ذاتی دوست ہیں اور میرے ان کے اُس وقت سےروابط ہیں، جب وہ طالب علم تھے اور ہندوستان سے آنے کے بعد میرے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے ڈی جے کالج میں پڑھ رہے تھے۔ ان کے یورپ میں قیام، پاکستان واپسی اور پھر آنے والے دنوں میں اس ملک کے لیے انھوں نے جو عظیم خدمات انجام دیں، اس پورے زمانے میں ہمارے بڑے گہرے اور اعتماد کے مراسم رہے۔ اگر آپ نے آج کے اخبار The Nation میں جنرل زاہد کا مضمون پڑھا ہو تو انھوں نے ہماری ایٹمی صلاحیت کی پوری کہانی بیان کی ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہمیں یہ جو استعداد حاصل ہوئی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو یہ توفیق نہ دیتا تو ہم کبھی حاصل نہیں کرسکتے تھے‘‘۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’میں (جنرل زاہد) اس پورے معاملے میں شروع سے لے کر آخر تک وابستہ رہا ہوں اور ان (ڈاکٹر عبدالقدیرخان) پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس ساری بات کو ہر ہر مرحلے پر پیش نظر رکھنا انتہائی اہم ہے‘‘۔ اس وقت ہمارا وہ محسن [اے کیوخان] کینسر کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس ایوان نے ایک بار نہیں، کئی بار ان کی رہائی کا مطالبہ اور ان کی صحت یابی کے لیے دُعا بھی کی ہے۔ اسی پس منظر میں آپریشن کے بعد میں ان سے ملنے کے لیے جانا چاہتا تھا۔ میں چیئرمین سینیٹ، جناب محمد میاں سومرو صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس سلسلے میں ذاتی دلچسپی لی اور خود ٹیلی فون کیا۔ لیکن جناب والا! اس موقع پر یہ سوال اُٹھانا ضروری ہے کہ ملک میں کس کی حکومت ہے؟ صدر کی یا ایجنسیوں کی؟ میری جانب سے درخواست کے بعد سینیٹ کا اسٹاف چوبیس گھنٹے کوشش کرتا رہا اور یہ ایک اُمید و بیم کی کیفیت تھی۔ بالآخر، رات سوا بارہ بجے مجھے ٹیلی فون آیا کہ ہم آپ کو ناوقت تکلیف دے رہے ہیں، ہمیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ اجازت مل گئی ہے۔ آپ صبح چلے جایئے اور گیارہ بجے کے بعد آپ کی ملاقات ہوجائے گی۔ اور جیساکہ پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ میں دس منٹ کم گیارہ پر وہاں پہنچ گیا اور ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کیا۔ دوسری جانب یہ اطلاع بھی موجود تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان میرا انتظار کررہے تھے۔ ان کی بیٹی میرے انتظار میں وہیں موجود تھی۔ اس کے ساتھ ہی جنرل چوہان بھی ان کے پاس بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے، لیکن ان متعلقہ ذمہ داران اور ان کے عملے نے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کراکر بھی مجھے ملنے کا موقع نہیں دیا۔ جناب والا! میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی ذات کے بارے میں، اپنی سولہ سال کی سینیٹ کی ممبرشپ میں کبھی بھی میں نے کوئی تحریکِ استحقاق پیش نہیں کی ہے۔ اگر تحاریکِ استحقاق پیش کی ہیں تو مسائل پر کی ہیں اور ان پر کی ہیں جن کی وجہ سے سینیٹ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آج میں سینیٹ کے ساتھ ساتھ یہ ذاتی استحقاق کی خلاف ورزی بھی پیش کررہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ سینیٹ کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ اس ایوان کی خودمختاری، اس کے وقار اور اس کے اختیار کا مسئلہ ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں یا ان کے بڑے ہوں یا چھوٹے، میں سب کی عزت کرتا ہوں، لیکن اگر ان کا یہ اختیار ہے کہ وہ صدر کے احکام کو نہ مانیں، اجازت دینے کے بعد اس پر عمل نہ کریں، تو پھر کون کہاں سے انصاف حاصل کرے گا؟“
سینیٹ کے ریکارڈ سے یہ جو چند اوراق پیش کیے گئے ہیں، ان میں جنرل پرویزمشرف کے عہد ِ حکومت کے کچھ پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کردی، اور اتنی حساس ذمہ داری کی ادائیگی کے نتیجے میں اپنی آزادی سے دست بردار ہونا پسند کرلیا، مگر قوم کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایٹمی پروگرام کو ایک رُخ دینے میں کامران رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک المیہ تو یہ بھی ہوا کہ جب مئی 1998ء میں کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے تو اُس وقت وزیراعظم محمدنواز شریف صاحب نے اچانک انھیں پس پردہ دھکیل دیا، جس کا سبب ڈاکٹر صاحب کے خیال میں اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ نوازشریف صاحب نے محسوس کیا ہوگا یا اُن کے کسی مشیر نے ان کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی ہوگی کہ قوم مجھے متبادل لیڈر کے طور پر کہیں قبول نہ کربیٹھے۔ اسی حفظِ ماتقدم کے طور پر نوازشریف صاحب نے اچانک ڈاکٹر صاحب کا بلیک آئوٹ شروع کردیا، جس پر قوم، ذرائع ابلاغ اور ہرسوچنے سمجھنے والا فرد حیران و پریشان تھا۔ بعدازاں، فوجی حاکم پرویزمشرف صاحب نے جو کچھ کیا، اس کا احوال اُوپر اشاروں کنایوں میں بیان کیا جاچکا ہے۔ زندگی کے آخری زمانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی پوری توجہ تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کے کاموں کے لیے مختص کردی تھی۔ پھر حددرجہ افسوس ناک یہ منظر ہم نے دیکھا کہ اُن کے دمِ واپسیں صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کے چیف تک جنازے میں نہ آئے۔ اس طرزِعمل کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا ہم سوال کرسکتے ہیں کہ یہ کسی کی ہدایت تھی یا کسی کا خوف تھا؟
(ماہنامہ ترجمان القرآن نومبر 2021ء)

Share this: