اپنا اپنا ظرف

دو مچھیرے جھیل کے کنارے مچھلیاں پکڑنے میں محو تھے۔ ان میں سے ایک تجربہ کار مچھیرا تھا، جبکہ دوسرے کو اتنا تجربہ نہیں تھا۔ جب بھی تجربہ کار مچھیرا کوئی بڑی مچھلی پکڑتا، وہ اپنے ساتھ لائے ہوئے کنٹینر میں ڈال دیتا، جس میں برف تھی، تاکہ مچھلی تازہ رہے۔ اس کے مقابلے میں جب ناتجربہ کار مچھیرے کو کوئی بڑی مچھلی ہاتھ لگتی، وہ دوبارہ اسے جھیل میں پھینک دیتا۔ تجربہ کار مچھیرا تمام دن دوسرے مچھیرے کو بڑی مچھلیاں ضائع کرتے دیکھتا رہا۔ آخرکار اس سے نہ رہا گیا، اس نے ناتجربہ کار مچھیرے سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس کے پاس مچھلی تلنے کے لیے بڑا فرائی پین نہیں ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کی مثال ایسی ہی ہے۔ ہم بڑے خواب، بڑے منصوبے، بڑے مواقع اور بڑی نوکریاں محض اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمیں ان کی خواہش یا ضرورت محسوس نہیں ہوتی، یا ہم ان سے استفادے کی ہمت نہیں پاتے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہماری سوچ، ہماری طلب اور ہمارے خیال کی پرواز ایک حد سے اوپر نہیں جاتی۔ چنانچہ ہماری زندگی عمر بھر چھوٹی حیثیت میں وقت کو دھکا دیتے گزر جاتی ہے۔ یہ آپ کی سوچ کے پیمانے ہیں اور ان میں ظرف کی بات ہے، جس کے مطابق خدائے بزرگ و برتر اپ کو نوازتا ہے، جبکہ آپ اپنی غربت، جہالت اور پسماندگی کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ آپ اپنی کم آمدنی اور کم وسائل کو یہ کہہ کر جسٹی فائی کرتے ہیں کہ ہمارا یہی مقدر ہے۔ جبکہ خدا کی کائنات خزانوں سے بھری ہوئی ہے۔ جو جتنا بڑا فرائی پین لے کر آتا ہے، اللہ اُسے اسی کے مطابق نوازتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بڑا خواب دیکھنا چاہیے، کوئی بڑی طلب ہونی چاہیے۔ کوانٹم فزکس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم جو سوچتے ہیں وہی بن جاتے ہیں۔ آپ کے پیش نظر کوئی بڑا مقصد، بڑا منصوبہ اور کوئی بڑی منزل ہونی چاہیے۔ آپ کی سمت ٹھیک اس کے مطابق متعین ہوگی، آپ کی صلاحیتیں اسی کے مطابق اجاگر ہوں گی اور آپ میں اللہ بزرگ و برتر اسی کے مطابق ہمت پیدا کردے گا کہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ملک اور دین کے لیے بھی کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں گے۔