اومیکرون کی لہر جلد ختم ہوجائے گی، ماہرین کو امید

امریکی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ سے پیدا ہونے والی نئی وبائی لہر جلد ہی ختم ہوجائے گی۔ یہ بات انہوں نے جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی ہے جہاں اومیکرون سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا لیکن حالیہ چند دنوں میں وہاں اس ویرینٹ کے متاثرین کی تعداد میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوچکی ہے۔ میری لینڈ، میساچیوسٹس کے جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ سی بولنگر نے ان اعداد و شمار کی روشنی میں پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ کی شمالی ریاستوں میں آئندہ چار ہفتوں کے دوران اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے کورونا وبا کی لہر اپنے عروج کو پہنچے گی لیکن بہت تیزی سے ختم بھی ہوجائے گی۔
طبّی ویب سائٹ ’’ہیلتھ لائن‘‘ پر حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا تعلق اگرچہ امریکہ سے ہے، لیکن کووِڈ 19 وبا کے عالمی رجحانات تقریباً ساری دنیا میں یکساں ہیں۔ لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ دیگر ممالک میں بھی کورونا وبا کا تیز رفتار پھیلاؤ دیکھنے میں آئے گا جو صرف چند ہفتوں میں کم ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں اومیکرون ویرینٹ کئی گنا تیزی سے پھیلتا ہے لیکن اس کے اثرات کی شدت خاصی کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اومیکرون ویرینٹ کے باعث اسپتال میں داخل ہونے اور مرنے والوں کی شرح بہت کم ہے۔ اومیکرون ویرینٹ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اسے شکست دینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی قدرتی طور پر محفوظ ہوجاتا ہے۔ البتہ ان معلومات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ احتیاطی تدابیر ترک کردی جائیں اور خود کو اومیکرون ویرینٹ سے متاثر ہونے دیا جائے، کیونکہ وائرس جتنے زیادہ لوگوں کو متاثر کرے گا، اس کے تبدیل ہوکر نئے ویرینٹس بننے کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا، جو موجودہ ویرینٹس سے زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز بھی ہوسکتے ہیں۔