مری: برفانی طوفان کی ہلاکت خیزی،انتظامی غفلت اور ناکامی کا ذمے دار کون؟

پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی سال ایسا ہو جس میں قوم کسی سانحے سے دوچار نہ ہوئی ہو۔ المیہ ہے کہ ہم نے کسی بھی سانحے سے سبق نہیں سیکھا۔ ابھی سیالکوٹ کے سانحے کا زخم تازہ تھا اور اس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی کہ ہمیں نئے سال کے آغاز میں ہی مری کا سانحہ دیکھنا پڑا۔ مری میں برف باری پہلی بار ہوئی نہ ایسا موسم پہلی بار آیا۔ مری میں برف باری کا لطف اٹھانے کے لیے جانے والے ہزاروں خاندانوں کا موت کے منہ میں جا پھنسنا، اور درجنوں افراد کا انتہائی بے بسی کے عالم میں جاں بحق ہوجانا واقعی ایک اندوہناک سانحہ ہے۔ پوری قوم اس سانحے پر شدید سوگوار ہے۔ برفانی طوفان کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد جاں بحق ہوگئے، ہزاروں لوگ رات بھر سڑکوں پر پھنسے مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ برف باری میں پھنسے سیاح اپنے عزیز و اقارب سے فون کال، واٹس ایپ اور فیس بک پر مدد کی اپیل کرتے رہے کہ کسی بھی طرح حکومت تک ہمارا پیغام پہنچایا جائے، لیکن بیس گھنٹے گزرنے کے باوجود انتظامیہ حرکت میں نہیں آئی اور نہ برف ہٹانے والا عملہ ڈیوٹی پر پہنچا۔ مری میں ہر سال برف پڑتی ہے، اس کے لیے پورا پلان موجود ہے۔ ڈیڑھ ارب کی لاگت سے برف ہٹانے والی مشینیں سابق دور میں خریدی گئی تھیں جو بروقت استعمال نہیں کی گئیں۔ انتظامیہ چاہتی تو چند گھنٹوں میں مسئلہ حل ہوسکتا تھا کیونکہ مری راولپنڈی اور اسلام آباد سے محض آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ جو کچھ ہوا وہ پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ہوا جو حالات کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں کرسکی، اور خاموش رات میں بھیانک قہقہے مری میں گوجتے رہے۔ یہ سب کچھ اُس وقت ہوا جب مری انتظامیہ کی نااہلی انسانیت کو نوچ نوچ کر کھا رہی تھی۔ اب کہا جارہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ہوں گی۔ اس تحقیقاتی کمیٹی کا وہ مقام ہے جو کسی عمارت کی تعمیر میں بنیاد میں رکھی جانی والی اینٹوں کا ہوتا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے ٹیڑھی اینٹ رکھی تو تحقیقاتی عمارت بھی ٹیڑھی تعمیر ہوگی، پردۂ اخفا میں چھپے ہوئے حقائق سامنے نہیں آسکیں گے۔ خواہش ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ غلط مفروضوں پر نہ آئے۔ توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری حکومتیں کسی بھی سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ یہ حکومت تو کہیں نظر ہی نہیں آرہی تھی، صرف ایک ٹویٹ ہی ایسا ذریعہ تھا جس سے پتا چلتا کہ حکومت کا وجود ہے۔ مری میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہوٹلوں میں پچیس ہزار مہمان ٹھیرانے کی گنجائش ہے، حکومت کا اپنا دعویٰ ہے اور یہ رپورٹ وزیراعظم کو بھی پیش کی گئی ہے کہ مری میں ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں داخل ہوئی ہیں، تاہم ان میں وہ گاڑیاں بھی شامل ہیں جو مری کے راستے مظفرآباد اور نتھیا گلی یا کے پی کے کی طرف جاتی ہیں۔ انتظامیہ دراصل گاڑیوں کی تعداد زیادہ بتاکر اپنی بے بسی ثابت کرنا چاہتی ہے، جب کہ اسے گاڑیوں کو روکنا چاہیے تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 7 جنوری کی رات مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 33,745 تھی۔
سانحہ مری کے ذمے داروں کے تعین کے لیے حکومتِ پنجاب کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں اُن عوامل کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے طوفانی برف باری میں بچوں سمیت 22 سیاح جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ میں اس افسوس ناک حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ محکمہ موسمیات کے پیشگی خبردار کرنے کے باوجود انتظامیہ نے نہ بروقت حفاظتی اقدامات کیے، نہ مشکلات سے بچنے کے لیے سیاحوں کو آنے سے روکا، اور نہ ان کی رہنمائی کا مناسب بندوبست کیا۔ معاملے کا المناک پہلو یہ بھی ہے کہ مقامی انتظامیہ ان جان لیوا لمحات میں منظر سے غائب پائی گئی۔
موت کا کھیل رات بھر جاری رہا جبکہ انتظا میہ نے اپنا ایکشن صبح 8بجے شروع کیا۔ہماری شرمناک اور المناک نفسیاتی کیفیت کا غلبہ بہت بلند درجے پر چلا گیا ہے۔ ہر المیے اور قوم کو دھچکا لگانے والے واقعے سے اس کی تصدیق ہو رہی ہے، جو بہت الارمنگ ہے۔سانحہ مری ایک حد تک محدود لیکن غیرمعمولی قدرتی آفت سے ہوا، کہ مدتوں بعد ریکارڈ برف باری ہوئی، لیکن یہ وجہ ایک مخصوص فیصد تک ہی ہے۔ ہمارے سماجی رویّے، انتظامی نااہلی اور مجرمانہ حد تک انتظامی غفلت اس کی وجہ بنی۔ مری کے ہوٹل/ ریسٹورنٹ مالکان اور سیاحوں کے لیے دوسری خدمات دینے والے اہل کاروں کے بے رحمانہ اور ظالمانہ حد تک کاروباری رویّے بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ حکومت کیوں یہاں پر ہوٹل اینڈ ریسٹوران ایکٹ کی پابندی نہیں کراسکی؟ اس سانحے میں ایک اور بڑا المیہ کمیونیکیشن ڈیزاسٹر کی صورت میں بے نقاب ہوا ہے۔ ایک اہم وجہ سیاحوں کی برف باری میں پھنسی کاروں میں خود کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھنے کی عدم آگہی بھی بنی ہے۔
سانحے کے تین چار روز بعد بھی موسم خراب ہے، تاہم برف باری کا سلسلہ تھم چکا ہے مگر مری اور ملحقہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی شاہراہوں کو کھولنے کے لیے آرمی انجینئرز اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے اہل کار مشینری کے ہمراہ پہنچے۔ یہ کام پہلے بھی ہوسکتا تھا بس ایک ذرا سی توجہ اور برف ہٹانے والا عملہ اپنی ڈیوٹی پر ہوتا تو قوم سانحے سے بچ سکتی تھی۔ برف باری میں جو اموات ہوئی ہیں یہ بھی مری کے مرکزی علاقے سے کم و بیش چار پانچ کلو میٹر دور ہوئی ہیں۔ یہ لوگ نتھیا گلی کی جانب نکلے اور واپسی پر انہیں راستے بند ملے۔ سوال یہ ہے کہ جب موسم کا الرٹ حکومت نے جاری کردیا تھا تو اتنی بڑی تعداد میںگاڑیوں کو مری کیوں جانے دیا گیا؟محکمہ موسمیات کی جانب سے 31 دسمبر اور پھر 5 جنوری کو طوفان کی پیشگی اطلاع دی جاچکی تھی، وزیراعظم آفس کو بھی برف باری سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا۔6 سے 9 جنوری کے درمیان مری کی سڑکیں برف باری کے باعث بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، وزارتِ ہوابازی کوبھی مری میں شدید برف باری سے متعلق مطلع کیا جاچکا تھا، چیئرمین این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے،ایس ڈی ایم اے کوبھی برف باری سے متعلق آگاہ کردیاگیاتھا۔ اس تناظر میںیہ مؤقف قطعی مبنی برحقیقت ہے کہ سانحہ مری انتظامیہ کی بہت بڑی ناکامی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری کی تحقیقات کا اعلان تو کیا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی غیر جانب دارانہ، حقائق پر مبنی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لائی جائے اور ٹائم فریم دیا جائے، اور بتایا جائے کہ رپورٹ پنجاب اسمبلی یا سینیٹ میں کب پیش ہوگی؟سانحہ مری کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جو وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی ہے اُس میں نشاندہی کی گئی کہ’’صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی،مری اور گرد و نواح میں موجود سڑکوں کی گزشتہ دو برس سے جامع مرمت نہیں کی گئی۔‘‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی، اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا، سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کے لیے ہائی وے کی مشینری موجود نہیں تھی۔مری کے مختلف علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی، مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیور بھی بروقت نہ پہنچ سکے‘‘۔
اس ابتدائی رپورٹ کے بعد بھی ابھی تک ے داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ یہ تجویز دی گئی کہ مری کو ضلع بنادیا جائے اور یہاں مزید ہوٹل تعمیر کیے جائیں۔ دلچسپ مذاق ہے کہ مسائل کچھ اور ہیں اور حل کیا تجویز کیا جارہا ہے؟
ایک وقت تھا کہ مری میں سال میں دو بار گرمیوں اور سردیوں میں سیاحوں کا رش ہوتا تھا، مگر تین عشروں سے مسلسل یہ بات ریکارڈ کی جارہی ہے کہ ہر ویک اینڈ پر مری میں رش ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تشہیر ہے، کہ ٹی وی چینلز ’’دل فریب مناظر‘‘ کے موضوع پر رپورٹس نشر کرتے ہیں، دوسری وجہ سوشل میڈیا اور سیلفیاں ہیں، تیسری وجہ مہنگائی کے باوجود اخراجات کی عادت ہے جو قومی سطح پر ایک سماجی مسئلہ بن چکی ہے، اور اس سے بھی زیادہ جرم حکومتِ پنجاب اور اس کے ذیلی اداروں کا ہے جن کی گردن پر جاں بحق ہونے والے معصوموں کا خون ہے۔ مری میں برفانی طوفان کے دوران انسانیت روتی، تڑپتی اور سسکتی رہی، سیاحوں کوکھانے پینے کی اشیاء اور ہوٹل کے کمرے دوگنا نرخوں پر دیے جانے کی شکایت ایک الگ حقیقت ہے، کرایہ زیادہ لیے جانے کی بھی شکایت ہے، مگر یہ کہانی تو فیض آباد راولپنڈی سے شروع ہوگئی تھی کہ وین ڈرائیور پنڈی سے مری تک ایک ہزار روپے تک کرایہ وصول کرتے رہے اور مسافروں کو مری کے بجائے بانسرہ گلی اتارکر مزید مسافر لانے کے لیے واپس راولپنڈی آتے رہے۔ برف میں پھنسی ہوئی گاڑی نکالنے کے لیے بھی دس ہزار روپے تک وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی بھی سیاح نے سوشل میڈیا پر ہوٹل کی جانب سے ملنے والی اصل رسید پیش نہیں کی ہے۔ ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد یہ اطمینان دلارہے ہیں کہ اگر کسی سیاح سے زیادہ چارج کیا گیا ہے تو وہ رسید دکھائے، اسے ادا کی گئی رقم کا دوگنا واپس کرایا جائے گا۔ ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ایک شخص ظفر عباسی نے فرائیڈے اسپیشل کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر جو طوفان مچا ہوا ہے یہ آدھا سچ ہے، ضرورت ہے کہ پورا سچ سامنے لایا جائے، ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ بعض گیسٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دفتر سے اخراجات کیلم کرنے کی سہولت رکھتے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد زیادہ بل بنوا کر لے جاتی ہے۔ البتہ مقامی افراد نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ برف باری میں گاڑی کے ٹائروں کے گرد چین ڈالنے کے چارجز زیادہ لیے جانے کی شکایت جائز ہے۔ ماضی میں یہاں سات فٹ تک برف باری ہوچکی ہے، مگر اس طرح کے مسائل پیدا نہیں ہوئے تھے، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان میں سیریز کھیلنے آئی تھی اور اس میں جوئیل گارنر ایک طویل القامت بولر تھے، تو ُاس وقت یہ جملہ مشہور ہوگیا کہ جوئیل گارنر کے قد کے برابر برف باری ہوئی ہے۔ اگر ماضی کے ساتھ ربط رکھ کر بات کی جائے تو انگریز دور میں یہاں ایک طے شدہ اصول تھا کہ ہر سال اگست، ستمبر میں یہاں مقامی آبادی کے لوگوں پر مشتمل گروپس بنائے جاتے تھے، ان گروپس میں علاقہ تقسیم کردیا جاتا تھا اور انہیں اوزار فراہم کیے جاتے تھے تاکہ وہ اپنے علاقے میں برف صاف کرسکیں، اور اس کا حکومتی سطح پر انہیں باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا تھا، تاکہ راستے صاف رہیں، آمد و رفت متاثر نہ ہو، اور برف باری سے متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت پیدا نہ ہو، کیونکہ آزاد کشمیر جانے والی ٹریفک بھی مری سے ہوکر ہی گزرتی تھی اور اب بھی یہی روٹ ہے۔
راستوںکی صفائی کا یہ نظام پاکستان بن جانے کے بعد کم و بیش1960ء تک چلتا رہا۔ اس کے بعد یہاں کی مقامی آبادی کے لوگ روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا شروع ہوئے تو یہ نظام کچھ کمزور پڑ گیا۔ اس کے بعد1980 ء کی دہائی میں مری کہوٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی، اور مری کو ایک باقاعدہ سیاحتی مقام کے مطابق سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ ہوا، اور یہاں پانی اور گیس فراہم کی گئی، سڑکیں کشادہ کی گئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں سہولتیں بڑھائی جاتی رہیں۔ ابھی حال ہی میں شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں ایک منصوبہ بنایا گیا کہ سیاحوں کو مری سے پہلے سترہ میل پر روک دیا جائے اور انہیں یہاں کیبل کار کے ذریعے مری پنڈی پوائنٹ پہنچایا جائے تاکہ مری میں ٹریفک کا رش نہ ہو، کیونکہ بہت سارے جائزوں میں یہ بات سامنے آئی کہ مری میں سیاحوں کی گاڑیوں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ یہاں زیادہ سے زیادہ پچیس ہزار تک گاڑیوں کی گنجائش ہے، مری کے راستے کے پی کے اور آزاد کشمیر جانے والی ٹریفک کا دبائو الگ ہے۔
حالیہ سانحہ بلاشبہ انتظامیہ کی بدترین غفلت کے باعث پیش آیا کہ انتظامیہ نے کوئی تیاری کی اور نہ اجلاس بلایا۔ مقامی شہری کی یہ رائے نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ مری کا ایک حصہ راولپنڈی سے لگتا ہے اور دوسرا حصہ کے پی کے سے جالگتا ہے۔ کلڈنہ جہاں اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال کوحادثہ پیش آیا، یہ پنجاب اور کے پی کے کی سرحد ملانے والا علاقہ ہے اور یہاں فرائض کی انجام دہی میں پنجاب حکومت اور کے پی کے حکومت دونوں غفلت کا شکار ہوئیں۔ وزیراعظم نے اس سانحے پر ٹویٹ کیا کہ لوگ موسم کا پتا چلائے بغیر مری گئے، ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت بیان بازی کرنے اور عوام کو مورد الزام ٹھیرانے کے بجائے انتظامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اگر بروقت اقدامات ہوتے تو اتنا بڑا حادثہ نہ ہوتا۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کے مطابق مری میں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اس پر پوری حکومت خاموش ہے۔
مری میں برف کے طوفان میں پھنسے چار دوست بھی انتقال کرگئے، جاں بحق 3 افراد سہیل خان، اسد اور بلال کا تعلق مردان، جبکہ چوتھے نوجوان بلال حسین کا تعلق کراچی سے تھا۔ ہزاروں سیاحوں نے مری کا رخ کیا تھا، ان لوگوں کے پاس نہ تو سردی سے بچنے کے لیے مناسب گرم کپڑے تھے اور نہ ہی لمبے بوٹ… یہ موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا، لیکن وہاں رکنے کا مطلب بھی موت کا انتظار کرنا تھا۔
سردی میں موت کیسے واقع ہوتی ہے؟ اس بارے میں شعبہ طب کے ماہر معراج الحق صدیقی کی رائے ہے کہ انسانی جسم کا ایک مخصوص درجہ حرارت ہے، جس میں تمام نظام بخوبی کام کرتے ہیں، اور زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ انسانی جسم اپنے اس درجۂ حرارت میں ایک دو ڈگری کی کمی بیشی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم زیادہ، کم ہونے کی صورت میں مسائل جنم لیتے ہیں۔ جسم کا درجہ حرارت گرنے کی صورت میں اس کا پہلا ردعمل کپکپی کی صورت میں سامنے آتا ہے، جو سردی کے خلاف جسم کا خودکار دفاع ہے۔ سمجھ لیجیے کہ انسانی دماغ میں ایک تھرموسٹیٹ موجود ہے، جو جسم کے درجۂ حرارت میں کمی کی صورت میں ایسے سسٹمز کو متحرک کردیتا ہے جو انسانی بدن کو گرمی فراہم کرتے ہیں، زیادہ سردی کی صورت میں انسانی مدافعتی نظام کام چھوڑ دیتا ہے، جسم میں گرمی پیدا کرنے والے نظام کی کارکردگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے، انسانی جسم کے خاص حد سے زیادہ وقت کے لیے شدید سردی یا انتہائی کم درجۂ حرارت میں ایکسپوژر کی صورت میں تھرموسٹیٹ اور گرمی پیدا کرنے والا نظام کام چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ وہ مقام ہے جو موت کی طرف جا سکتا ہے۔ انسانی جسم کے درجۂ حرارت کے حد سے زیادہ کم ہونے کی حالت کو طب کی زبان میں ہائپوتھرمیا (Hypothermia) کہا جاتا ہے، جو ایک طبی ایمرجنسی ہے، جس میں جسم گرمی پیدا کرنے کے بجائے زیادہ تیزی سے گرمی کھونا شروع کردیتا ہے، اور جسم کا درجۂ حرارت خطرناک حد تک کم ہوجاتا ہے۔ انسانی جسم کا عمومی درجہ حرارت تقریباً 98.6 ڈگری فارن ہائٹ (یا 37 ڈگری سیلسیس) ہے، جب کہ اس کے 95 ڈگری فارن ہائٹ یا 35 ڈگری سیلسیس تک گرنے کو ہائپو تھرمیا کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم کا درجہ حرارت گر جانے کی صورت میں دل، اعصابی نظام اور دیگر اعضا عام طور پر کام نہیں کرسکتے، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو ہائپوتھرمیا دل اور نظام تنفس کی مکمل ناکامی اور آخرکار موت کا باعث بن سکتا ہے۔ ہائپوتھرمیا سے بچنے کا واحد حل جسم کو گرم رکھنا ہے، جب کہ اس کے لیے کوئی دوا موجود نہیں ہے۔ انسانی جسم میں موجود تمام نظام ایک مربوط انداز میں کام کرتے ہیں، اور ہائپوتھرمیا کی صورت میں یہ سب ایک ایک کرکے یا اکٹھے بھی کام چھوڑ سکتے ہیں۔ بہت زیادہ سردی لگنے کی صورت میں ہلکی پھلکی ورزش یا جاگنگ سے بھی جسم کے درجۂ حرارت کو کسی حد تک زیادہ کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ مستقل علاج نہیں ہے، اور چھوٹے بچوں یا بہت ضعیف افراد کے لیے ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ شدید سردی یا ہائپوتھرمیا کی کنڈیشن سے عمررسیدہ لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، جب کہ مختلف امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی یہ صورتِ حال جان لیوا ہوسکتی ہے۔ بچوں اور بوڑھے افراد کو انتہائی کم درجۂ حرارت میں بہت زیادہ وقت گزارنے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی ایسی جگہ پر موجودگی کی صورت میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔ ہائپوتھرمیا کی علامات میں کانپنے کے علاوہ بڑبڑانا، غیر واضح طریقے سے بولنا، سانس کا آہستہ آنا، کمزور نبض، غنودگی، الجھن یا یادداشت کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ بچوں کی جلد کا سرخ اور چمک دار ہوجانا بھی ایک اہم علامت ہے۔ سرد علاقوں میں جانے کی احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں۔ سیاح عام طور پر مری یا دوسرے سرد علاقوں میں برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لیے عام جوتے اور گرم کپڑے لے کر جاتے ہیں، جو ماہرین کے مطابق انتہائی کم درجۂ حرارت کی صورت میں خطرناک، حتیٰ کہ جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ پہاڑوں پر اور برف باری میں جانے کے لیے سب سے اہم چیزیں جوتے اور جیکٹس ہیں۔ برف باری میں جانے کے لیے واٹر پروف ہائیکنگ شوز بھی بہت ضروری ہے، جب کہ ہر سیاح کو اپنے ساتھ مائنس درجہ حرارت میں استعمال ہونے والی ’ڈاؤن جیکٹ‘ (انسولیشن والی جیکٹ) ضرور رکھنا چاہیے۔ ہر سیاح کو ایک برساتی بھی ساتھ لے جانا چاہیے جو اسے بارش یا برف باری کی صورت میں گیلا ہونے سے بچائے گی، کیونکہ عام جیکٹ یا کوٹ ایسا نہیں کر سکتے۔ گرم اونی جرابیں استعمال کرنا ضروری ہے، جب کہ ان کے جوتے واٹر پروف ہونے چاہئیں، عام پتلونوں کے بجائے گرم کپڑوں کا استعمال کیا جانا چاہیے، بہت زیادہ عمر کے، یا بیمار افراد کو شدید برف باری کی صورت میں مری اور گلیات جیسے علاقوں کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔ مری میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال اور دیگر سیاح جہاں سخت موسم کا اندازہ نہیں کرسکے، وہیں یہ لوگ انتظامیہ کی غفلت کا بھی شکار ہوئے ہیں۔ انتظامی لاپروائی نہ ہوتی تو شاید ان کی جانیں بچ جاتیں۔ درجنوں سیاح ایسے بھی ہیں جنہوں نے انتظامیہ کو اپنی لائیو لوکیشن بھیجی، لیکن کوئی ان کی مدد کو نہیں پہنچا۔ پہلی لاپروائی اسلام آباد سے مری جاتے ہوئے پہلے ٹول پلازہ پر ہوئی جہاں موسم کے خراب ہونے کی اطلاع کے باوجود سیاحوںکو روکا نہیں گیا۔ مری واقعے کے بعد مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیاہے، شہر میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی، مری میں امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کی 5 پیدل پلاٹون ہنگامی بنیاد پر منگوائی گئیں، ہنگامی بنیادوں پر ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کرنا پڑا، پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے سول آرمڈ فورسز کی مدد طلب کی گئی۔