وزیراعظم کا اعترافِ ناکامی

آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارا کیسے ہوگا؟

ساڑھے تین سال کی حکومت، اختیار، اور بے پناہ سرپرستی کی سہولت کاری کے باوجود وزیراعظم نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ قومی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب نہیں کرسکے۔ وزیراعظم کی سطح پر ناکامی کا یہ اعتراف بہت بڑا سوال پیدا کرچکا ہے کہ کیا پاکستان میں احتساب ممکن نہیں؟ عمران خان کو ووٹ ہی کڑے احتساب کے نعرے پر ملا تھا، لیکن احتساب میں ناکامی کا اعتراف کرکے دراصل وزیراعظم عمران خان نے مٹھی میں بند اپنی نااہلی کی گرہ کھول کر رکھ دی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے ان کی حکومت کو نالائقی اور نااہلی کا مسلسل طعنہ دیا جاتا رہا ہے، اور وزیراعظم کے اعتراف نے اپنی ہی حکومت پر اپوزیشن کے بیانیے کی مہر ثبت کردی ہے۔ اقتدار ملنے سے قبل عمران خان کا بیانیہ تھا کہ کپتان اہل ہو تو نااہل ٹیم بھی کھیل جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم اب آہستہ آہستہ خود ہی اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے چلے جائیں گے، اور اگر یہ اعتراف اس لیے کیا گیا کہ عوام انہیں زیادہ بڑے مینڈیٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں لائیں تو آج کی حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے تین سال کے تلخ حقائق اور تجربے کے بعد اب انہیں عوام کا ووٹ دلانے کے لیے کوئی سرپرست میسر نہیں ہوگا، کیونکہ جنہوں نے اہلیت اور کردار نظرانداز کرکے محض گفتار کی بنیاد پر سرپرستی کی تھی اب اُن کا اپنا احتساب شدت سے مطلوب ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت سے امید تھی کہ وہ ملکی سیاست سے گند صاف کرے گی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات بھی لائے گی، مگر یہ حکومت ہر شعبۂ زندگی میں ناکام نظر آئی ہے۔ معیشت کی زبان میں بات کی جائے تو جدید ریاستوں میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ مستحکم معاشروں میں75 فی صد افراد کا تعلق متوسط طبقے سے ہوتا ہے، 15 فی صد اشرافیہ اور10 فی صد لوگ خطِ غربت سے نیچے ہوں تو اسے ایک متوازن معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت خدمات فراہم کرنے والے اداروں جیسے تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، منصوبہ بندی اور ترقی، خوراک، پانی اور سیوریج، شہری ترقی، مالیاتی انتظام، محصولات کی وصولی کے محکموں کی ترقی کی منصوبہ بندی کرے تو معاشرہ ترقی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر پاکستان میں یہ صورتِ حال نظر نہیں آتی۔ اس وقت اعدادو شمار کے مطابق ملک میں سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمین کی تعداد 62 ملین کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں رسمی شعبے میں 10 ملین، غیر رسمی شعبے میں 30 ملین، اور زراعت کے شعبے میں 23 ملین ملازمین ہیں۔ معاشی لحاظ سے ایک مستحکم معاشرے میں 95 فیصد ملازمتیں نجی شعبے میں پیدا ہوتی ہیں، اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب حکومت خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں تقرری کے لیے متوازن پالیسی بنائے۔ ملکی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو 63,345 افراد کے لیے ایک سرکاری ملازم ہے۔ کوئی بھی حکومت اگر کُل آبادی کے 1.57 فیصد کو ملازمت فراہم کرتی ہے تو اسے ایک متوازن پالیسی سمجھا جاتا ہے، اور سرکاری اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً 14 فیصد رہنے چاہئیں۔ پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں اس وقت سرکاری ملازمین کی تعداد میں 0.4 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے پاس2.2 ملین ملازمین ہیں، اور یہ ماضی کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہیں، اسی لیے اخراجات بھی چار گنا بڑھ چکے ہیں۔ صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے کُل اجرت بل کا 84 فیصد لے جاتی ہیں۔ چند سال قبل ایک رپورٹ تیار کی گئی تو انکشاف ہوا کہ وفاقی حکومت میں 116,000 اضافی ملازمین ہیں، جن میں سے زیادہ تر نچلے عہدوں پر ہیں۔ خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں اہلیت کی بنیاد پر بھرتیاں ہوں تو معاشی ترقی ہوتی ہے، اس جانب کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ وفاقی ملازمین کی 35 فیصد تعداد تو سیکورٹی اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں میں کام کرتی ہے، پھر بھی امن و امان کے نتائج سب کے سامنے ہیں، اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں ریلوے، پوسٹل سروسز، ہائی ویز بیس فیصد، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم، تیل اور گیس میں 18 فیصد، اور باقی 27 فیصد سماجی شعبوں، تجارت اور تجارتی فروغ، ٹیکس وصولی، ریگولیٹری، عدالتی اور نیم عدالتی (ٹریبونلز)، تربیت و تحقیق، بیرونی تعلقات کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ اس وقت 20 ملین سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور صحت کے اشاریے خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہیں۔ تعلیم کے لیے مختص رقم کو جی ڈی پی کے 4 فیصد تک بڑھانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اب میٹرک تک تعلیم ضلعی حکومتوں کومنتقل کیے جانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ گریڈ 1سے5 کو غیر ہنرمند، گریڈ 6 سے 16 کو نیم ہنر مند اور گریڈ 17سے22 کو ہنر مند قرار دیتے ہیں۔ وفاقی حکومت میں 95 فیصد ملازمین پہلی دو کٹیگریز میں اور صرف 5 فیصد تیسری کٹیگری میں ہیں۔ اب حکومت ای گورننس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس وقت مہارت کی تشکیل کو دوبارہ ترتیب دینے اور ماہرینِ زراعت، سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین، اقتصادیات کے ماہرین، مالیاتی تجزیہ کاروں، انجینئرز اورآئی ٹی ماہرین کو ملازمت سے فارغ کرنے کے بجائے حکومت میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس شعبے میں حکومت نے اب تک کیا کیا ہے؟ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس شعبے میں ناکامی احتساب میں ناکامی سے زیادہ خوف ناک نتائج کی حامل ہوگی۔
آئی ایم ایف نے اپنے قرضے کی شرائط کے مطابق 700ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا سخت مطالبہ کیا تھا، جب کہ حکومت 356 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر رضامند ہوئی۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر حکومت نے منی بجٹ کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا ہے جس پر قومی اسمبلی میں بحث جاری ہے۔ بجٹ پاس ہوجانے کے بعد کھانے پینے کی اشیاء، بچوں کے دودھ، موبائل فون، پلانٹ اینڈ مشینری، ڈیری مصنوعات، پولٹری، پاور سیکٹر، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا خام مال اور ادویہ، انرجی سیور بلب، برقی کاروں، بیکری آئٹمز، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز، کاسمیٹکس اور جیولری پر مجموعی طور پر343ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرکے 17 فیصد سیلز ٹیکس نافذ ہوگا۔ فارماسیوٹیکل خام مال سے 160ارب روپے، پلانٹ اور مشینری کی امپورٹ سے 112ارب روپے، اور کھانے پینے کی اشیاء، پاور سیکٹر، موبائل فونز پر 15فیصد، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر 17فیصد ودہولڈنگ ٹیکس سے 71ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔ پاکستان میں فارماسیوٹیکل کے 800 مینوفیکچررز ہیں جن میں سے صرف 453ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت کے مطابق 343 ارب روپے کی اضافی وصولی سے جی ڈی پی میں 0.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کو سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کا درپیش ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اس پر قابو پانے کے بجائے مزید اضافہ کررہی ہے۔
آئی ایم ایف کی دوسری شرط پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری اور آزادی دینا ہے، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو مکمل اختیارات دینا اور حکومت کا اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا رجحان ختم کرنا ہے۔ وزارتِ خزانہ اب اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسیوں کے ذریعے حکومتی معاشی بے ضابطگیاں بھی کنٹرول نہیں کرسکے گی۔ اسٹیٹ بینک حکومت اور وزارتِ خزانہ سے کسی مشاورت کے بغیر پالیسی یا ڈسکائونٹ ریٹ، ڈالر ایکس چینج ریٹ، نوٹوں کی پرنٹنگ اور دیگر اہداف خود طے کرسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ایسی خودمختاری پر تحفظات کا اظہارکیا جارہا ہے کہ حکومت اس ترمیمی بل کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دے رہی ہے۔ منی بجٹ یا ترمیمی بل 2021ء میں ایف بی آر کا رواں مالی سال ٹیکس وصولی کا ہدف جو 5829ارب روپے تھا، بڑھاکر 6100 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اس پس منظر میں اگر یہ سوال کیا جائے کہ 2022ء معاشی طور پر ملک کے لیے کیسا ہوگا؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ منی بجٹ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، قرضوں، کرنٹ اکائونٹ، تجارتی خسارے، افراطِ زر، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ لائے گا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے جب بھی قرض منظور کیا، ہر بار کڑی شرائط عائد کیں۔ اقلیتوں اور خواتین کی فلاح جیسی شرائط بھی رکھی گئیں، اور اب پاکستان پر ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے کہ مذہبی آزادی، اور انتہاپسندی کے خلاف اقدام کے علاوہ میڈیا کو آزادی دیے جانے کی بھی بات ہورہی ہے۔ یہی شرط ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بھی آرہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت آئین میں دی جانے والی ضمانتوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے امریکی آلہ کار رہا ہے، لہٰذا وہ اب بھی وہی کرے گا جو امریکی خواہش ہوگی۔ پارلیمنٹ میں منی بجٹ پیش ہونا اور کڑی شرائط تسلیم کرنے کا سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہی ادارے مطالبہ کریں گے کہ معیشت بہتر بنانا چاہتے ہو تو ایٹمی پروگرام رول بیک کردو۔ بہتر یہی ہے کہ حکومتیں ملک میں صنعتی و زرعی ترقی اور افرادی قوت کے بہترین استعمال کی جانب توجہ دیں، آبادی کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ افرادی قوت کو ملکی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی پارلیمانی جماعتیں معاشی ترقی کے لیے کسی جامع میثاق پر متفق ہوجائیں تاکہ آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارا حاصل کرلیا جائے۔ ابھی حال میں آئی ایم ایف نے پہلے کڑی شرائط کے ساتھ قرض منظور کیا، اب وہ پارلیمنٹ سے منی بجٹ پاس ہونے کا منتظر ہے، اسی لیے پاکستان کے 6 ارب ڈالر قرض کا جائزہ مؤخر کردیا ہے۔ پارلیمنٹ سے منی بجٹ منظور ہونے کے بعد قرض بھی بحال کردیا جائے گا۔ عالمی معاشی نظام میں چونکہ آئی ایم ایف کی ایک حیثیت ہے، لہٰذا اسے راضی رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس کی مہر لگنے سے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ممالک بھی مدد اور تعاون کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔
ہماری حکومت تو آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کی بھی مقروض ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پرحکومت کو اسٹیٹ بینک کے 6 ہزار ارب روپے دینے ہیں، اب اسے بھی خودمختاری دی جارہی ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کا بورڈ حکومت کے پاس رہے گا۔
جدید دور میں کاروبارِ مملکت چلانے کے لیے وسائل کی فراہمی ٹیکس کے ذریعے ہوتی ہے۔ ملک میں ٹیکس کلچر کے لیے حکومت اور کاروباری طبقہ ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، ورنہ مسائل ہی رہیں گے۔ اصول یہی ہے کہ ٹیکس آمدنی کے مطابق ہی ہوتا ہے، مگر انڈر انوائس کے نظام کے باعث مشکلات ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ ٹیکس نادہندگان تک پہنچ چکی ہے، اب نوٹس نہیں دیا جائے گا بلکہ ٹیکس لیا جائے گا۔ حکومت کی ضد اور پالیسی ایک نئی بے چینی پیدا کرے گی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت میں ایسی لابیاں موجود رہتی ہیں جو چاہتی ہیں کہ ملک میں معاشی بے چینی کی فضا قائم رہے اور ہر حکومت آئی ایم ایف کی دہلیز پر کھڑی رہے۔ اگرچہ حکومت نے کہا ہے کہ لوگوں کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے اور ٹیکس نیٹ میں آنے کے لیے ایک وقت دیا جائے گا اُس کے بعد قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اسی لیے ٹیکس نہ دینے والوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے ٹیکس ریٹرن فائل نہ کیے تو ایف بی آر خود اُن تک پہنچ جائے گا۔ تاہم دنیا میں ٹیکس دینے والوں کو بہت سی خصوصی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں، براہ راست ٹیکس دینے والے بالواسطہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ یہ سہولتیں دیے بغیر ٹیکس کا ڈنڈا اٹھائے رکھنا مناسب حکمت عملی نہیں۔ ٹیکس کلچر کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے کوئی لائحہ عمل ضرور مرتب کیا جانا چاہیے۔