چین، پاکستان، بھارت کشیدگی کی مثلث

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کی نظر میں مستقبل کا ”وار تھیٹر“ ہے

چین، پاکستان اور بھارت اس خطے میں کشیدگی کی ایک مثلث بنائے ہوئے ہیں۔ اکثر دفاعی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اس مثلث کا مرکزی نقطہ کشمیر ہے، اور اس کی سنگینی بڑھنے کا آغاز 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی شناخت ختم کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ چین اور بھارت کے درمیان ڈوکلام سے شروع ہونے والا تنازع اپنی شدت اور سنگینی کے ساتھ قائم ہے۔ مذاکرات کے 12 دور ہوچکے ہیں مگر حالات کا پرنالہ اپنی جگہ پر ہے۔ ایک ڈھیلا ڈھالا اعلامیہ جاری ہوا تھا جس میں کشیدگی میں کمی کا ذکر کیا گیا تھا، مگر کشیدگی کے اصل محاذ پوری طرح دہک رہے ہیں، اور جو کچھ ہورہا ہے محض فوٹو سیشن ہے۔ اسی طرح 5 اگست2019ء کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات منقطع ہوکر جس سطح پر منجمد ہوگئے تھے اب بھی وہیں ہیں، صرف کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے پرانے معاہدے کی تجدید کے نام پر توپوں نے شعلے اُگلنا چھوڑ دئیے ہیں۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول یعنی چین بھارت سرحد، اور لائن آف کنٹرول پاک بھارت لکیر… دونوں مقامات پرکشیدگی کم یا ختم ہونے کے بجائے صرف عارضی انجماد کا شکار ہے۔ اس امن اور استحکام کا خاتمہ ایک غلط فہمی اور ایک کارروائی کا محتاج ہے۔
2022ء میں یہ کشیدگی کیا رخ اختیار کرے گی؟ اس سوال کا جواب بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ نگار، دی فورس میگزین کے ایڈیٹر اور مصنف پروین ساہنی نے ایک اہم تجزیاتی وی لاگ میں دیا ہے۔In 2022 China Pak will tune combined operations against Indiaکے عنوان کے تحت پروین ساہنی کا کہنا تھا کہ چین اب اپنی سرحد پر بھارت کے خلاف روبوٹک جنگ لڑنے کے انتظامات مکمل کرچکا ہے۔ پہلے سوال یہ تھا کہ ایک ٹینک چلانے کے لیے کتنی افرادی قوت درکار ہے۔ اس بدلی ہوئی دفاعی اسٹریٹجی کے بعد سوال یہ ہے کہ ایک فرد کتنے ٹینکوں کو کنٹرول کرے گا۔ گویاکہ ریموٹ سے یا انسانوں کے بجائے روبوٹس کے ذریعے چلائے جانے والے ٹینک زیادہ خطرناک ہوں گے۔ اس میں انسان نظروں سے اوجھل اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹر میں بیٹھے ہوں گے۔2017ء میں ڈوکلام کی کشیدگی کے بعد ہی چین نے روبوٹک جنگ کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ پروین ساہنی کے مطابق 2020ء میں گلوان وادی میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے، 10 گرفتار ہوئے، لیکن نریندر مودی تردید کراتا پھرا کہ نہ تو کوئی شخص بھارت کی حدود میں داخل ہوا، نہ ہی کوئی جھگڑا ہوا ہے۔ یہ مودی کی طرف سے چین کو پیغام تھا کہ بھارت اس مسئلے کو چین کی شرائط پر حل کرنے پر آمادگی ظاہر کرسکتا ہے۔ چین بھارت کشیدگی کے حوالے سے 2022ء اس لحاظ سے بھارت کے لیے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ چین اب بھارت پر دبائو بڑھاتا چلا جائے گا کہ وہ کشیدگی میں کمی کے اعلامیے پر عمل درآمد کرے۔
چین بھارت کشیدگی کی ایک جہت کا جائزہ لینے کے بعد پروین ساہنی پاک بھارت تنازعے کی جہت کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ کشمیر کو مستقبل کا ’’وار تھیٹر‘‘ کہتے ہیں جہاں چین اور پاکستان مل کر بھارت کی کلائی مروڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ مسٹر ساہنی پانچ اگست کے فیصلے کے لیے مسلسل’’ بلنڈر‘‘ یعنی حماقت کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔وہ پہلے بھارتی ہیں جو اس فیصلے کو حماقت کہتے ہیں، کیونکہ اُن کے خیال میں اس فیصلے نے کشمیر پر چین اور پاکستان کے درمیان اسٹرے ٹیجک حجاب ختم کر کے انہیں یک جان دوقالب ہو کر بھارت کا گھیرائو کرنے کے راستے پر ڈال دیا۔ وہ پیش گوئی کے سے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ اس سال کشمیر میں مزید عدم استحکام ہوگا۔ بھارتی فوج کا جنرل آفیسر کمانڈنگ روزانہ یہ اعلان کررہا ہے کہ کشمیر میں اتنے عسکریت پسند مار دیئے گئے، حالانکہ یہ جی او سی سطح کا معاملہ نہیں بلکہ پولیس کا کام ہے۔ مسٹر ساہنی کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے کئی برس پہلے کہا تھا کہ آزادکشمیر میں پیپلزلبریشن آرمی کے تین ہزار اور گلگت میں گیار ہ ہزار جوان موجود ہیں۔ دونوں افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو وادی کشمیر، لداخ، سیاچن، گلگت اور آزادکشمیر میں پاکستان اور چین مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے یا دبائو بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق اب دومحاذوں کی جنگ کا تصور بدل کر’’ون فرنٹ ری انفورس وار‘‘ ہوگیا ہے۔پاک فوج کے دس سے بارہ فوجی افسر بیجنگ کے پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ہیں۔ یہ مشترکہ جنگی منصوبوں کا حصہ ہے۔ جنگ کی صورت میں چین سے پاکستان کو اسلحہ اور گولہ بارود اور رسد کا سلسلہ جاری رہے گا، اور پاکستان اس سپلائی لائن کی وجہ سے مستقل فائرکا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے، مگر بھارت کے لیے رسد کی مشکلات کے باعث مسلسل فائر جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ دونوں افواج الیکٹرونک وار فیئر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے میدان میں اشتراک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی مستقبل کی پاکستان بھارت جنگ میں، جو کشمیر کے وار تھیٹر کے اندر ہی ہوگی، پاکستان کو چین کی مہارت، رسد اور ٹیکنالوجی کی حمایت حاصل ہوگی۔ یوں تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ اب بھارت کو دو الگ محاذوں یعنی چین اور پاکستان کا سامنا نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور طاقتور محاذ کا سامنا ہوگا۔ ان کے مطابق بالاکوٹ تصادم میں پاکستان ائرفورس نے اپنی اچھی کارکردگی اور صلاحیت ثابت کردی ہے۔ ایک طرف بھارتی فوج کی یہ بیرونی مشکل، تو دوسری طرف کشمیر کی اندرونی دھماکہ خیز صورت حال مشکلات کا ایک نیا میدان ہوگا۔
بھارت کے تجزیہ نگار نے حالات کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ حالات کی سنگینی کو پوری طرح ظاہر کررہی ہے۔ مستقبل کے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بھارت کشمیر میں زمینی حالات کو جلد از جلد بدل دینا چاہتا ہے۔ آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے، جانے پہچانے سیاست دانوں کے مقابلے میں نئی سیاسی پنیری لگانے اور نئے ’’بخشی غلام محمد‘‘ تیار کرنے تک بھارت عجلت میں اقدامات اُٹھا رہا ہے۔ بات تو تب ہے کہ پانچ اگست کا قدم بھارت کے لیے ’’ہاٹ پوٹیٹو‘‘ یعنی گرم آلو بن کر رہ جائے۔ معروضی حالات کو بدلنے سے پہلے ہی منہ جلنے کے خوف سے بھارت کو یہ گرم آلو پھینکنے پر مجبور کیا جائے۔