سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی کا دھرنا تیسرے ہفتے میں

بحالی کراچی اور متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت دبائو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا خصوصی خطاب

جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری ہے۔ موسم شدید ہونے کے ساتھ دھرنے کے ماحول میں جوش و خروش اور ہر گزرتے دن کے ساتھ دھرنے کے شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ واضح مؤقف کے ساتھ مستقل مزاجی سے جاری دھرنے کی پذیرائی جاری ہے، اور بلاشبہ اب کراچی کے ہر شہری کی زبان پر جماعت اسلامی کے دھرنے کا ذکر ہے اور اس پر بات ہورہی ہے۔ پیپلز پارٹی پر بھی اب دبائو بڑھتا جارہا ہے اور دیگر حلقے بھی اس دھرنے کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دسویں روز پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وقار مہدی پر مشتمل وفد سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے میں مذاکرات کے لیے پہنچا تھا۔ مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن، پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ، رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبدالرشید، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی و دیگر افراد موجود تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کے اس عمل میں سابق سٹی نائب ناظم، صدر قاف لیگ سندھ محمد طارق حسن بھی شامل تھے۔ مذاکرات و مشاورت کے بعد صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی خصوصی ہدایت پر مذاکرات کے لیے آئے ہیں، ہم بہت پہلے ہی آجاتے لیکن مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکے، ہم اس سے پہلے ادارہ نورحق بھی جاچکے ہیں، آج مذاکرات کے بعد بلدیاتی قانون میں ترمیم و تبدیلی کے حوالے سے مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو یومیہ بنیاد پر باہمی مشاورت کرے گی، ہم یقین دلاتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی جانب سے تجاویز مشاورت کے بعد ضرور شامل کریں گے اور ہم قانون میں مزید ترامیم کے لیے آمادہ ہیں، ہم نے حافظ نعیم الرحمٰن اور دھرنے کے شرکاء سے استدعا، عرض اور گزارش کی ہے کہ دھرنے کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیا جائے، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم جلد ہی منطقی انجام تک پہنچیں گے، ہم نے 2013ء کے بلدیاتی قانون کو مزید بہتر کیا تھا جس پر آپ متفق نہیں ہیں، ہم نے قانون میں جو ترامیم کی ہیں وہ آسمانی صحیفہ نہیں ہیں۔ جس کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں تمام اکائیوں سے وابستہ افراد رہتے ہیں، جماعت اسلامی نظریاتی تحریک ہے، سب کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے، جماعت اسلامی کا دھرنا منی پاکستان بن گیا ہے، ہم پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی پوری ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس موقع پر ناصر حسین شاہ کی گفتگو کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے شرکاء سے پوچھا کہ کیا پیپلزپارٹی کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا جائے؟ شرکاء نے تمام مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اسٹیج سے ”تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو“ کے نعرے لگوائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 2013ء کے بلدیاتی قانون کے حوالے سے بھی بات کی تھی کہ میئر کو مکمل اختیارات دیے جائیں، ہم چاہتے ہیں پورے صوبے میں ایک ہی تناسب سے یونین کونسلوں کا قیام ہونا چاہیے، ہم نے کہا کہ آپ کمیٹی بنائیں، کام کریں، ہمارا دھرنا جاری رہے گا، سندھ حکومت کے کسی بھی مثبت کام کا خیرمقدم کریں گے، ہم نے تجاویز پیش کردی ہیں، امید ہے کہ آپ چیئرمین بلاول بھٹو کو دکھائیں گے، جب تک عملی طور پر کوئی قدم نظر نہیں آئے گا ہمارا دھرنا جاری رہے گا، جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ کراچی اور اندرونِ سندھ کے عوام کے لیے جدوجہد کررہی ہے، آج پورے سندھ میں بلدیاتی قانون کے خلاف ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ مذاکرات اچھے طریقے سے آگے بڑھیں گے اور مثبت پیش رفت ہوگی۔ سابق سٹی نائب ناظم طارق حسن نے کہاکہ میں دھرنے کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے کراچی کے عوام کے لیے تاریخی جدوجہد کی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قانون پر بات چیت ہونی چاہیے، میں حافظ نعیم الرحمٰن اور ناصر حسین شاہ دونوں کا مشکور ہوں، بات چیت سے اس سے بہتر قانون سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ نعمت اللہ خان نے مجھے اپنا آٹھواں بیٹا بنایا، اُن کے دور میں کراچی میں مثالی ترقیاتی اور تاریخی کام کیے گئے اور ایمان داری و دیانت داری کے ساتھ شہر کو بنایا اور سنوارا گیا۔
مذاکرات میں حکومت اور جماعت اسلامی کی طرف سے بلدیاتی قانون میں ترامیم کے حوالے سے کمیٹی بنادی گئی جس کا باقاعدہ اسٹیج سے اعلان کیا گیا۔ کمیٹی میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر سعید غنی، ناصر حسین شاہ، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب، تاج حیدر… جب کہ جماعت اسلامی کے نائب امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
اب دھرنے کا دائرہ بھی وسیع کردیا گیا ہے۔ بنارس چوک، ناظم آباد، لسبیلہ چوک، گرومندر، نمائش چورنگی، تبت سینٹر، ریگل چوک اور دیگر مقامات پر دھرنے دیئے گئے۔ اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، میٹروول، سعید آباد، بنارس، پاک کالونی سمیت ضلع غربی اور کیماڑی کے مختلف علاقوں سے قافلے اور جلوس دھرنا دیتے اور احتجاج کرتے ہوئے مرکزی دھرنے کے مقام سندھ اسمبلی پہنچے، شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔ دھرنے میں مزدوروں کے قافلے، تاجر رہنماؤں و مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران، اقلیتی برادری کے نمائندوں اور گڈاپ ٹاؤن سے مختلف برادریوں اور قبائل کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، اور روزانہ کی بنیاد پر مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ شریک ہورہے ہیں۔مفتی منیب الرحمٰن نے بھی شرکت کی۔
مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ کراچی کے عوام بارش اور سرد موسم کے باوجود جمع رہے ہیں، اس پر دھرنے کے شرکاء کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جماعت اسلامی کا احتجاج پُرامن ہے، جماعت اسلامی کو کراچی کے مسائل پر آواز اٹھانے پر مبارک باد پیش کرتا اور تمام مطالبات کی بلامشروط حمایت کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب… ان سب سے کہتا ہوں کہ سامنے آئیں، احتجاج کرنے والوں سے بامعنی مذاکرات کریں اور شہر کو بااختیار بنایا جائے، کراچی کی مساجد اور بلڈنگز کو ریگولرائز کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے، ایسا نہ ہو کہ رات کو خیال آئے اور صبح اٹھ کر شہریوں کو بے گھر کردیا جائے، نسلہ ٹاور کے مکینوں کو بے گھر کرنے کی مذمت کرتے ہیں، عدالتی ریمارکس کے نام پر ایک پورے طبقے کی تحقیر کی جائے یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں، ایک آدھ مثال کی بنیاد پر پورے دینی طبقے کی مذمت کرنا مناسب نہیں۔ شرکاء نے مفتی منیب الرحمٰن کے مطالبات کی بھرپور تائید کی۔ کراچی دنیا کا واحد میگاسٹی ہے جہاں ساڑھے تین کروڑ شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں ہے، موٹر سائیکل کو حکمران عوام کی عیاشی سمجھ رہے ہیں۔ امیروں اور غریبوں کا فرق دیکھنا ہے تو حکمران غریبوں کی بستیوں میں جائیں۔ کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، کراچی کی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے، کراچی بہت دور تک پھیل چکا ہے، یہ پاکستان کی معیشت کا قلب ہے، پاکستان کے قومی خزانے میں کراچی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ سندھ اور اسلام آباد کے حکمرانوں کو پیغام دیتا ہوں کہ پُرامن لوگوں کے پیغام کو سنو۔ جب تک خون خرابہ اور فساد نہ ہو حق کی بات کو نہیں سنا جاتا۔ آپ اگر اس ملک میں تشدد اور انتہا پسندی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پُرامن لوگوں کی بات سنیں۔ کراچی کا انفراانسٹرکچر جس آبادی کے لیے بنایا گیا تھا اب شہر کی آبادی اس سے دس گنا بڑھ گئی ہے، کراچی کی منصوبہ بندی عالمی معیار کے مطابق کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں پر اربوں روپے لگتے ہیں لیکن پہلی بارش سے سڑکیں تباہ ہوجاتی ہیں، سیوریج لائنوں کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق اَپ ڈیٹ کیا جائے، وزیراعظم پاکستان نے کراچی کے لیے 1100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، اسے پول میں شامل کرکے شہر کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ 2018ء سے پی ٹی آئی کے پاس ہے لیکن انہوں نے کچھ ڈیلیور نہیں کیا، پی ٹی آئی والے آئندہ کس منہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے! کراچی والوں کو ٹول پلازہ کی پابندی سے آزاد کیا جائے۔
دھرنے میں جس دن امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق شریک ہوئے اُس روز سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا ایک بڑے جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا۔ ٗ عوام میں جوش و خروش تھا اور خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک تھیں۔ دھرنے سے خطاب میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا کہ جب تک کراچی کو روشنیوں کا شہر نہیں بنائیں گے ہماری تحریک جاری رہے گی۔ ہماری اپیل پر کراچی سے چترال تک پوری قوم نے اہلِ کراچی کے حق کے لیے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”پیپلزپارٹی قانون پر نظرثانی کرلے اور ایسا قانون بنائے جس سے ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی و اقتصادی شہ رگ کراچی کے تین کروڑ سے زائد عوام کو فائدہ ہو۔ یہ کیسا قانون ہے کہ پشاور میں براہِ راست میئر کا انتخاب کیا جاتا ہے اور سندھ میں ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ جس کے تحت میئر کو براہِ راست منتخب نہیں کیا جارہا! ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں بااختیار شہری حکومت اور میئر کا انتخاب براہِ راست کروایا جائے۔ کراچی کی حیثیت ایک ماں کی سی ہے، کراچی اندھیروں میں رہے گا تو پاکستان بھی ترقی نہیں کرے گا، ہم ایک بااختیار شہری حکومت چاہتے ہیں جس کے میئر کے پاس تمام اختیارات ہوں، موجودہ کالے بلدیاتی قانون میں وہ نظام موجود نہیں جو آئین کا آرٹیکل 140-Aکہتا ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کراچی، اسلام آباد، گوادر یا کسی اور شہر میں ہو.. ظلم و استحصال کے خلاف ہے، کسی پارٹی کے خلاف نہیں۔ پورے سندھ میں غربت ناچ رہی ہے اور جہالت کے اندھیرے ہیں۔ پیپلزپارٹی سن لے کہ اب تمہاری سیاست شہیدوں کے نام پر نہیں چلے گی، اب کراچی سمیت پورا سندھ بیدار ہوگیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کی عظیم الشان جدوجہد اور سخت سردی و بارش کے باوجود مسلسل اور طویل دھرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آج کا دھرنا جماعت اسلامی کے لیے نہیں بلکہ کراچی کے محروم و مظلوم عوام کے لیے ہے، تین کروڑ کی آبادی پر مشتمل شہر کے عوام کی بات نہ سننا ظلم اور نصف آبادی کو اس کے حق سے محروم کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی والے ذوالفقار آباد شہر ضرور آباد کریں لیکن اس سے پہلے اندرون سندھ سمیت کراچی شہر کو سنوار دیں۔ دنیا میں 17 بڑے شہر سمندر کے ساحلوں پر آباد ہیں۔ کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، ساڑھے تین کروڑ ساحل سمندر کے کنارے رہنے والے شہری ہیں۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی شہرکی خدمت کی اور آج بھی اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود خدمت کررہی ہے۔ جب ہم صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر، کالجوں اور اسپتالوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو عوام کے لیے کرتے ہیں۔ عوام کا تعلق تمام سیاسی پارٹیوں سے ہے، کسی ایک پارٹی سے نہیں۔ اگر کراچی ترقی کرے گا تو ہر سیاسی پارٹی کا ورکر کامیاب ہوگا۔ انسان مریخ پر جارہا ہے اور ہمارے شہر میں گٹر اور پینے کا پانی ایک ہی پائپ لائن سے گزر رہا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بلدیاتی اداروں اور میئر کے تمام اختیارات غصب کرکے وزیراعلیٰ کو دیے ہیں، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کو مزید کتنے اختیارات چاہئیں؟ ایک طویل عرصے سے پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے، وہ بتائے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جام شورو سمیت دیگر شہروں میں ترقی کیوں نہیں ہوئی؟ پیپلزپارٹی نے کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کوئی ترقی نہیں کی، پیپلزپارٹی نے کراچی اور سندھ کی ڈسپنسریوں کو وڈیروں اور جاگیرداروں کی کرپشن کا اڈہ بنایا ہے۔ انگریز کے زمانے میں سکھر اور کوٹری بیراج بنا تھا، آج تک سندھ حکومت نے ایک بھی پروجیکٹ نہیں بنایا۔ وی آئی پی اور ظالم جاگیردار طبقہ پاکستان کے آئین و قانون کو نہیں مانتا۔ آمدنی پر عوام نے تو ٹیکس دیا لیکن جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے ٹیکس نہیں دیا۔ پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے والوں نے سود کا نظام نافذ کیا ہے، جو وکلاء سودی نظام کے خلاف دلائل دیتے تھے آج وہی سود کی حمایت میں دلائل دیتے ہیں، سودی نظام کے ساتھ پاکستان کسی صورت ترقی نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تو ہم پاکستان سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے، سودی نظام اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے، سودی نظام اور ریاست مدینہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، عمران خان پہلے تو صرف لاکھ دو لاکھ روپے ٹیکس دیتے تھے، اِس سال انہوں نے 98لاکھ ٹیکس دیا ہے، کیا وہ عوام کو بتاسکتے ہیں کہ اتنی آمدنی کہاں سے ہوگئی؟ یا پھر کوئی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں مدینہ مسجد کے نام سے قائم اللہ کا گھر گرانے کی بات کی جارہی ہے، نبی کریمؐ نے ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں مسجد قائم کی۔ مسجد بنانا اور حفاظت کرنا ریاست کا کام ہے اور ہمارے معاشرے کا اہم مقام ہے۔ ہم معزز جج سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد گرانے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ اگر کوئی سوموٹو ایکشن لینا ہے تو پنڈورا اور پناما لیکس میں نام آنے والوں کے خلاف لیا جائے جس میں تمام حکمران پارٹیوں کے لوگ شامل ہیں۔“
اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ کالے بلدیاتی قانون میں لاڑکانہ، سکھر، بدین اور حیدرآباد کے عوام کے حقوق بھی غصب کیے گئے ہیں، آج سندھ کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور سندھ حکومت کے کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، عوامی تحریک آگے بڑھے گی اور سندھ پر مسلط حکمرانوں کو لاڑکانہ میں بھی پناہ نہیں ملے گی۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام اعلان کررہے ہیں کہ حافظ نعیم الرحمٰن قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
دھرنے کے شرکاء وقفے وقفے سے پُرجوش نعرے بھی لگاتے رہے جن میں یہ نعرے بھی شامل تھے: جینا ہوگا مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا، اپنا حق لینا ہوگا،دھرنا ہوگا، حافظ نعیم کے سنگ چلنا ہوگا، دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا، مصلحت یا جدوجہد… جدوجہد جدوجہد، تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو، گلیوں اور بازاروں میں جدوجہد تیز ہو، کھیتوں اور کھلیانوں میں جدوجہد تیز ہو، تعلیمی اداروں میں جدوجہد تیز ہو، دیہات اور شہروں میں جدوجہد تیز ہو“، ”نعرہ تکبیر اللہ اکبر، انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب، رہبر و رہنما مصطفیٰ مصطفیٰ، خاتم الانبیاء مصطفیٰ مصطفیٰ، رائیگاں نہ جائے گا انقلاب آئے گا، خون رنگ لائے گا انقلاب آئے گا، نکلا ہے کراچی نکلا ہے، حق لینے کراچی نکلا ہے، حق دو کراچی کو، حق دو سندھ کے عوام کو، کراچی پہ قبضہ نامنظور، غاصبانہ قبضہ نامنظور، نامنظور نامنظور کالا قانون، نامنظور۔ ہم شہر بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو، تعلیم بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو، اقدار بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو، حالات کی غنڈہ گردی سے ہم ملک بچانے نکلے ہیں، یہ دیس بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو۔
دھرنے کے شرکاء اور آنے والے مختلف وفود کی جانب سے دھرنے کے اخراجات کے لیے نقد عطیات دینے کا سلسلہ بھی جاری رہا، بعض خواتین نے اپنے زیور دھرنا فنڈ میں جمع کروائے۔
دھرنے میں ایک رات محفل شب نشید منعقد کی گئی جس میں دھرنے کے شرکاء سمیت ملک بھر سے آن لائن اور بھیجی گئی ویڈیوز کے ذریعے شرکت کی۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے مقابلے میں کامیاب ہونے والوں کے ناموں کا اعلان کیا جس کے مطابق ملتان سے علی حیدر اور منصورہ سندھ سے فاروق حفیظ نے خصوصی، جبکہ دیر سے ذیشان خان نے پہلا، چترال سے ابرار الحق نے دوسرا اور کراچی سے عبدالرحیم متقی نے تیسرا انعام حاصل کیا۔ علاوہ ازیں نوجوانوں کی جانب سے عوامی اسمبلی کا علامتی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت دیگر ارکان اسمبلی نے اظہار خیال کیا۔
دھرنے میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی، شبیر قائم خانی اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل وفد نے بھی شرکت کی، اور شرکاء سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مطالبات کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے جماعت اسلامی کے تمام کارکنوں اور ذمے داروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ لوگ سخت سردی اور بارش میں بھی سڑکوں پر رہ کر، سندھ اسمبلی کے سامنے ڈٹ کر سندھ کے حکمرانوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ تنہا نہیں ہیں، یہ بات میں سیاست سے بالاتر ہوکر کہہ رہا ہوں۔ ہم آپ کے ساتھ ہر جگہ جانے اور احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی اس جدوجہد میں اکیلی نہیں ہے، کراچی کے عوام جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں، ہم اس بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے بھی جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہیں، میں سندھ حکومت کے کالے قانون کے خلاف تاریخی جدوجہد کرنے پر حافظ نعیم الرحمٰن اور جماعت اسلامی کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کا قبضہ رہا ہے، اب ایک بار پھر ماضی کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم سندھ کے عوام کے خلاف نہیں ہیں، پیپلز پارٹی اور سندھ کے حکمرانوں کے خلاف ہیں اور ان سے کراچی سمیت سندھ بھر کے عوام کے حقوق لینا چاہتے ہیں۔ سندھ حکومت نے اس بلدیاتی قانون میں تمام اختیارات اپنے قبضے میں کرلیے ہیں، اگر اس قانون کو اسی طرح چلنے دیا تو پھر سیاست کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ کالے قانون کے خاتمے کے لیے سیاست سے بالاتر ہوکر ایک نکاتی ایجنڈے پر ہماری ہر طرح کی مدد حاضر ہے اور ہم ہر طرح کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس قانون کے خلاف سیاست نہیں صرف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے، اس قانون کے ذریعے کراچی اور سندھ کے عوام سے جینے کا سہارا چھینا جارہا ہے، تین کروڑ عوام کو خودکشی پر مجبور کیا جارہا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوسکتا، کراچی کے عوام اپنے دشمنوں کو کہیں پناہ نہیں لینے دیں گے۔ یہ شہر تباہ ہوگیا تو پورا ملک تباہ ہوگا، پی ٹی آئی والے جنہوں نے کراچی سے 14سیٹیں لی ہیں اس کے وزیراعظم کو کراچی کے لیے بات کرنی چاہیے تھی، یہ کالا قانون کسی صورت میں قبول نہیں ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مصطفیٰ کمال کی دھرنے میں آمد اور غیر مشروط حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک کالے قانون کا ہی نہیں بلکہ ہماری نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے حقوق کی تحریک مزید آگے بڑھے گی، یہ تحریک صرف اہلِ کراچی کے حقوق کی تحریک نہیں بلکہ پورے سندھ کے مظلوم اور محکوم عوام کی تحریک ہے جنہیں وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام کے زور پر دبایا اور کچلا جارہا ہے، ہماری اس جدوجہد کو لسانی رنگ دینے والے سن لیں یہ لسانیت اور عصبیت کی سیاست پی پی اور ایم کیو ایم کو ہی مبارک ہو،۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سندھ اسمبلی میں بڑی اپوزیشن ہیں لیکن ان دونوں پارٹیوں نے اس کالے قانون کے خلاف کوئی حقیقی احتجاج نہیں کیا بلکہ حقیقت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مک مکا کرلیا ہے اور یہ دونوں پارٹیاں سندھ میں فرینڈلی اپوزیشن کررہی ہیں، لیکن سندھ حکومت سن لے کہ جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن ہرگز نہیں ہے، ہمارا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا اور ہم اپنے مطالبات سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ہم نے کہہ دیا ہے کہ اگر بامعنی مذاکرات ہوں گے اور عملی اقدامات کیے جائیں گے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے لیکن شہر کے اختیارات، وسائل اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس وقت دھرنا جاری ہے اور پیپلز پارٹی وعدہ کرکے جاچکی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس پر کتنا عملی اقدام کرتی ہے، اور وہ جماعت اسلامی کو کس طرح مطمئن کرتی ہے کہ دھرنا ختم ہوسکے۔ دوسری طرف نظر یہ آرہا ہے کہ جماعت اسلامی نے تو لمبی اننگ کھیلنے کی پلاننگ اور تیاری کررکھی ہے۔