پسلی چلنا: بچوں میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں

”پھر طبیعت خراب ہوگئی، یہ بار بار کیوں ایسا ہوتا ہے! کوئی کمی ہے کیا میری بچی میں؟ کھانسی کا کوئی ایسا شربت نہیں ہے کیا ڈاکٹر صاحب جو میں روز اس کو پلا دوں اور اس کی سانس نہ چلے؟ پوری پوری رات کھانستی رہتی ہے۔“
چھوٹی سی بچی تھی، اس کی سانس بہت تیز چل رہی تھی، جس کو عام زبان میں پسلی چلنا کہتے ہیں۔
سینے پر سے کپڑے ہٹاکر دیکھا تو سینے کے نچلے حصے میں گڑھے سے پڑ رہے تھے، اور اسی طرح گردن کے نیچے سینے کے اوپری حصے میں بھی ایک گڑھا سا بن رہا تھا، میڈیکل کی زبان میں اسے Retraction کہا جاتا ہے۔
یہ پسلی چلنا ہے کیا، اور کیوں ایسا ہوتا ہے؟
اگر ہم تصور کریں کہ ایک درخت ہے جس کی بہت سی شاخیں ہیں، اور ان شاخوں کی مزید شاخیں ہیں، اور اس طرح شاخیں در شاخیں اور پھر آخر میں پتے۔ اب اس درخت کو الٹا کرکے دیکھیں تو اوپر سے ایک بڑا تنا اور نیچے شاخیں پھیلی ہوئی… یا یوں سمجھ لیں شہد کی مکھی کا چھتہ اور اس میں خانے در خانے۔
انسانی جسم میں سانس کی نالی، اور پھر اس نالی کی مزید نالیاں، اور ان کی مزید چھوٹی چھوٹی نالیاں اور انتہائی باریک باریک نالیاں… ان کے آخر میں سانس لینے کا وہ حصہ جہاں دراصل آکسیجن پہنچتی ہے، یعنی درخت کی شاخیں در شاخیں۔
اب آپ سوچیں اُس تصویر کو جس میں آپ نے درخت کو الٹا کرکے دیکھا تھا۔
اکتوبر سے فروری، مارچ تک کے موسم میں جہاں دھند، آلودگی بڑھتی ہے وہیں دوسری طرف وائرس بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں، RSV, Rhinovirus, اور سانس کے دیگروائرس وغیرہ۔
اب ایسے ماحول میں جب کوئی بچہ ان میں سے کسی وائرس کا شکار ہوتا ہے تو وہ وائرس اس کے جسم میں داخل ہوکر اس کی سانس کی نالیوں پر حملہ آور ہوجاتا ہے، اور پھر وہ سانس کی چھوٹی نالیوں میں سوجن (Inflammation) پیدا کردیتا ہے۔ سانس کی یہ نالیاں جب سوج جاتی ہیں تو ان کا دائرہ (قطر) یا Diameter تنگ ہوجاتا ہے، اور وہاں پر اس سوجن کے نتیجے میں پانی (Secretion) بھی ان نالیوں کی دیواروں سے نکل کر جمع ہوجاتا ہے، جس کے نیتجے میں سانس کی وہ باریک سی نالیاں جو بچوں میں مزید چھوٹی ہوتی ہیں، سانس لینے کے عمل کے لیے مزید تنگ ہوجاتی ہیں اور Secretions کی موجودگی میں ان میں سے آکسیجن کا گزرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، اس طرح بچہ سانس لینے میں تکلیف محسوس کرتا ہے، اس کی پسلی چلنے لگتی ہے، سینے میں سے سیٹی کی سی آواز آنے لگتی ہے، اور ماں کہتی ہے سینہ گھر گھر کررہا ہے، اور ناک پھولنے اور پچکنے (Nasal Flaring)لگتی ہے۔
یہ سوجن جو سانس کی باریک نالیوں میں ان وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ کبھی کبھی ایک مہینے تک موجود رہتی ہے، اور بعض دفعہ ایک کے بعد دوسرا وائرس حملہ آور ہوتا ہے، اور تقریباً ایک جیسی علامات کی وجہ سے والدین پریشان ہوتے ہیں کہ یہ بار بار کیوں ہورہا ہے!
اس پسلی چلنے کو میڈیکل کی زبان میں Bronchiolitis کہتے ہیں، اور اس سے بچنے کے لیے بہترین طریقہ ایسی جگہ سے دور رہنا ہے جہاں کھانسنے اور چھینکنے والے افراد موجود ہیں۔ دوسرے معنوں میں اس طرح کے موسم میں تقریبات، شادیوں وغیرہ میں چھوٹے بچوں کو نہ لے کر جائیں۔
آپ کو نزلہ کھانسی ہے تو اس کا علاج کروائیں اور کھانسنے اور چھینکنے کے آداب کا خیال رکھیں، اپنے ہاتھوں کو صابن سے بار بار دھوئیں۔ چھوٹے بچوں کو پیار نہ کریں۔ ماں اگر مبتلا ہو تو بچوں کی نگہداشت کرتے ہوئے ماسک لگائے۔
اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ بچے میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، اگر بخار ہے تو پیراسیٹامول کا استعمال کریں اور 6 ماہ سے زائد عمر کے بچوں کو یخنی/ سوپ دیں۔
اس میں بعض اوقات سانس کی نالیوں کی تنگی کو دور کرنے کے لیے ڈاکٹرز انہیلرز (Inhaler) یا Nebulizer treatment کا استعمال کرواتے ہیں۔ ان میں جو دوائیں استعمال کی جاتی ہیں ان کو Bronchodilator ادویہ کہا جاتا ہے، اور ان کے ساتھ سوجن کو کنٹرول کرنے کے لیے Steroids کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان دواؤں کا استعمال صرف اور صرف مستند ڈاکٹرز کے مشورے سے ہی ہونا چاہیے۔
ایک خاص بات… اکثر لوگ Inhalers/ Nebulizer کے استعمال میں شک میں رہتے ہیں کہ بچے کو اس کی عادت پڑ جائے گی۔ یقین مانیں یہ فی الحال بہترین طریقہ ہے کم سے کم دوا کو پھیپھڑوں کی ان تنگ نالیوں تک پہنچانے اور ان کو اصلی حالت میں بحال کرکے بچے کو سانس لینے میں تنگی سے بچانے کا۔ اس لیے اگر آپ کا ڈاکٹر آپ کے بچے کے لیے تجویز کرے تو استعمال کرائیں، کوئی حرج نہیں اس میں۔
دوسری اہم بات… دو سال سے کم عمر بچوں کا کھانسی کا کوئی شربت ایسا نہیں جس کے ضمنی اور منفی اثرات نہ ہوں۔ اس لیے دوسال سے کم عمر بچوں میں ہماری اکیڈمی (American Academy of pediatrics) کھانسی کے شربت کو منع کرتی ہے۔ اور یہی FDA کی بھی یہی سفارش(Recommendation )ہے۔