بلوچستان:”حق دو گوادر تحریک“حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی کا دورہ گوادر

بلوچستان کئی اعتبار سے پاکستان کا نہایت منفرد صوبہ ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو ایک لاکھ 47 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، یعنی ملک کا چالیس فی صد رقبہ۔ لیکن آبادی اس کی سب سے کم ہے، یعنی 72 لاکھ کے لگ بھگ، جو ملک کی کُل آبادی کا صرف 4 فی صد ہے- پھر بلوچستان قدرتی گیس، کوئلے، سونے، تانبے اور دوسری معدنی دولت سے مالامال ہے، لیکن اس دولت کے باوجود یہاں کے عوام دوسرے تمام صوبوں کے لوگوں کے مقابلے میں بے حد غریب اور پسماندہ ہیں- عالمی ادارے یو،این کے حالیہ سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے، جب کہ گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر ہے جو اپنے شاندار محلِ وقوع اورسی پیک زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پربھی معروف ہے۔ لیکن ان تمام وسائل کے باوجود گوادر کی صورتِ حال بلوچستان کے دیگر اضلاع سے مختلف نہیں ہے۔ ”حق دو گوادر کو… حق دو بلوچستان کو“ وہ تحریک ہے جو گوادر اور بلوچستان کے پسے ہوئے عوام نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے شروع کی۔ حقوق کے حصول کی یہ تحریک زور پکڑتی رہی، اور جب حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے گوادر کا دورہ کیا تو یہ تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ ان کے ہمراہ نائب قیمات عطیہ نثار، ثمینہ سعید، ناظمہ صوبہ بلوچستان شازیہ عبداللہ، اور نائب ناظمہ سمیرا صدیق بھی موجود تھیں۔ ائیرپورٹ پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی گوادر کی ذمے داران پُرجوش استقبال کے لیے موجود تھیں۔ محترم خواتین اپنی بہنوں کے ساتھ روانہ ہوئیں- صبح سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی کی ملاقات حانی بیگم سے طے تھی (حانی بیگم گوادر کی ایک صاحبِ حیثیت اور سخی دل خاتون ہیں جن کی سخاوت اور ملنساری مشہور ہے)۔ حانی بیگم نے والہانہ اور محبت سے بھرپور خیرمقدم کیا۔ ان کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مہمانوں نے انہیں جماعت اسلامی میں شمولیت کی دعوت دی جس کو انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ ایک تعزیتی ملاقات اور ایک اسکول کا خیرسگالی دورہ بھی طے تھا جہاں نائب قیمہ ثمینہ سعید اور شازیہ عبداللہ گئیں۔ دوپہر کے کھانے اور نماز کے بعد گوادر کا اجتماع عام تھا۔ اجتماع گاہ میں نہ کوئی شامیانے تھے، نہ کرسیاں تھیں، کھلے آسمان کے نیچے بھری دھوپ میں لوگ جوق در جوق آرہے تھے، لیکن بے پناہ اطمینان… نہ کوئی پریشان تھا نہ کسی کو شکایت۔ جلسہ گاہ میں مولانا ہدایت الرحمان (”حق دو گوادر کو“ تحریک کے روحِ رواں اور جماعت اسلامی کے بنیادی ستونوں میں سے ایک) پر ایک ترانہ گونج رہا تھا، اور پورا ہجوم مولانا کے نام پر انتہائی پُرجوش دکھائی دیا۔ مولانا ہدایت الرحمان کے نام کا ترانہ جب چلتا تو دیکھنے والا اندازہ کرسکتا تھا کہ مولانا کی طاقت اللہ کے بعد یہ عوام ہیں۔ جلسے سے دردانہ صدیقی، مولانا ہدایت الرحمان، ثمینہ سعید اور عطیہ نثار نے خطاب کیا۔ جلسے کا حسن پُرجوش نعرے اور لوگوں کا نظم و ضبط تھا۔ حیرت کا مقام بچے تھے جو انتہائی نظم وضبط کا نمونہ تھے، اور اس سے زیادہ خوش کن منظر یہ تھا کہ نظم و ضبط کے کارکن کہیں نہیں تھے، وہ سب خود اپنے ذمے دار تھے۔ لوگوں نے بتایا کہ 5 ہزار پولیس مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار کرنے آئی تھی جسے گوادر کے عوام نے ناکام بنادیا۔ مولانا کے جلسہ گاہ میں پہنچنے پر تمام عورتوں اور بچوں نے کھڑے ہو کر پُرجوش نعروں سے استقبال کیا- مولانا صاحب نے مختصر انداز میں اپنی بات کی، انہوں نے کہا کہ ہمارے اسپتالوں میں ایک پیناڈول کی گولی نہیں ہے مگر منشیات عام ہے، ہر دوسرے گھر کا فرد اس مصیبت میں مبتلا ہے۔ ہمارے پاس پینے کے لیے صاف پانی نہیں ہے مگر شراب کی دکانیں ہر جگہ موجود ہیں۔ ہمارے ماہی گیر اپنی روزی نہیں کما سکتے کیونکہ ٹرالر ان ماہی گیروں کے جال کاٹ دیتے ہیں اور ان کے جال (مچھلی پکڑنے والے) زیادہ بڑے اور جدید ہوتے ہیں، اس لیے ان ماہی گیروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مرد لاپتا کردیے جاتے ہیں، مائیں انتظار کرتے کرتے قبر میں چلی جاتی ہیں، اور بیوی بچے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا مطالبہ دہرایا کہ شراب خانے بند کیے جائیں، صاف پانی فراہم کیا جائے، منشیات کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا جوان گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، یہ کوسٹ گارڈ والے سوالات پوچھ پوچھ کر زندگی اجیرن کردیتے ہیں، وہ کہتا ہے میں سمندر میں خودکشی کرنے تو نہیں جارہا، روزی کمانے جارہا ہوں۔
دردانہ صدیقی نے مطالبہ کیا کہ گوادر کے عوام کے مسائل کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے- لاپتا افراد کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگی کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈرگ مافیا پر پابندی عائد کی جائے۔ سی پیک کے فوائد سے مکران اور گوادر کے رہائشیوں کو استفادےکا موقع دیا جائے- صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ شراب خانوں پر پابندی لگائی جائے- جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال گوادر میں قائم کیا جائے- انہوں نے کہا کہ آج ہم گوادر کے مکینوں کی پریشانیوں کے ازالے اور مسائل کے حل کے لیے ان کے شانہ بشانہ موجود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے- گوادر کے غیور عوام اپنے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت سے دیانت دار قیادت کا انتخاب کرکے اپنی محرومیوں کا مداوا کریں گے- ہم پاکستان کی تمام بہنوں کی طرف سے آپ کے لیے محبت اور یکجہتی کا پیغام لائے ہیں، آپ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، پورے پاکستان کی عورتیں آپ کے ساتھ ہیں، آپ کبھی خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔ انہوں نے گوادر سے حاصل ہونے والے وسائل اور اہلِ گودار کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بھی ذکر کیا۔ مظاہرے میں اماں زینی شاعرہ بھی شریک تھیں- انہوں نے بلوچ شاعری سے فضا کو مسحور کردیا۔ وہ تندورن بھی ہیں (روٹیاں پکانے والی)، روزانہ 30 کلو آٹے کی روٹیاں اور ساتھ میں کوئی دال سالن پکا کر دھرنے کے شرکاء کو کھلاتی تھیں- قیمہ پاکستان دردانہ صدیقی اپنے ساتھیوں کے ساتھ گئیں اور کھانا پکانے کے اس منظر کو بھی دیکھا۔ رات کو ایک نشست کارکنانِ گوادر کے ساتھ بھی ہوئی-گوادر کی مہم میں صوبائی ناظمہ سمیرا صدیق بہت پُرجوش رہنما تھیں- پورے گوادر کی خواتین کو منظم کرنے کا سہرا ان کے سر ہے  جس کے لیے انہوں نے اپنے دن رات وقف کردیے۔ سمیرا صدیق نے ہی مہمان خواتین کو اپنے گھر پر ٹھیرایا۔ گوادر کے افراد کشادہ دل اور انتہائی مہمان نواز ہیں۔
دوسرے دن سربندان کا جلسہ تھا۔ مولانا ہدایت الرحمان کے اہل خانہ سے ملاقات اور گوادر پورٹ کا دورہ، اور وہاں کے ذمے دار سے ملاقات تھی۔ ”سربندان“ گوادر سے تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ سربندان کا جلسہ بھی گوادر کے جلسے کی شان لیے ہوئے تھا۔ یہاں مولانا ہدایت الرحمان خود موجود نہیں تھے مگر اُن کے اہلِ خانہ اور اُن کے پروانے اسی آب و تاب کے ساتھ موجود تھے جو ان کے روکنے والوں کا دل دہلانے کے لیے کافی تھی- خواتین یوتھ کی بڑی تعداد مہم میں شریک رہی۔جلسوں میں بھی توانا عزم ان کے چہروں سے جھلک رہا تھا۔
15 دسمبر کو سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی کی واپسی ہوئی۔ اب تک دھرنا بھی ختم ہوچکا تھا، کیونکہ مطالبات مان لیے گئے اور صرف ایک مطالبہ کہ ٹرالر پیچھے ہٹائیں جب مانا گیا تو سطح سمندر پر اتنی مچھلیاں آگئیں گویا وہ بھی جشن منا رہی ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ میرا بیٹا ایک دن کے 500 بھی نہیں دیتا تھا مگر صرف آج کے دن کے 10ہزار روپئے دیے ہیں۔ یہ تو ایک فائدہ ہے، اِن شاء اللہ بچوں اور عورتوں کے چمکتے دمکتے چہرے، ان کا مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت پر اندھا اعتماد، ایک مخلص قیادت کا قوم کو مل جانا اور گوادر کے عوام کا ہر سوچ سے بالا تر ہوکر جماعت اسلامی کی قیادت کاساتھ دینا ہم سب کے لیے امید کی کرن ہے۔
دھرنا کامیاب ہو گیا اور 33 دن میں ایک گلاس بھی نہ ٹوٹا۔مطالباتمنظور ہوئے۔ پہلا مطالبہ کہ مولانا کا نام فورتھ شیڈول سے نکالا جائے وہ مان لیا گیا، ساتھیوں پر سے بھی ایف آئی آر ہٹا لی گئی -شراب خانے بند کردئیے گئے۔تربیلا ڈیم کے لیے بند ریلز کیا گیا۔ٹرالر پیچھے دھکیل دیے گئے۔ اب گودار سے اورماڑہ تک ٹرالر نظر نہیں آرہےہیں جس کی وجہ سے ماہی گیروں کو بے بہا رزق ملنے لگا تھا۔غیر ضروری چیک پوسٹ ختم کر دی گئیں۔نان ٹیچنگ اسٹاف کی تنخواہیں جو کہ رکی ہوئی تھیں بحال کردی گئیں-ایران کا بارڈر تجارت کے لیے کھولنے کے لیے ایک مہینے کا وقت مانگا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کی سیکریٹری جنرل دردانہ صدیقی نے اہلِ بلوچستان کو بھرپور مبارکباد دیتے ہوئے کارکنان سے شکرانے کے نوافل ادا کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر دھرنے سے ثابت ہوا کہ اگر قیادت دیانت دار اور مخلص اور عوام بیدار و پُرجوش ہوں تو کوئی ان کی بات نظرانداز نہیں کرسکتا۔ گوادر دھرنے کی کامیابی ملک بھر میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے حوصلوں کو مہمیز بخشے گی جس کے نتیجے میں ”حق دو کراچی“ تحریک بھی ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔