او آئی سی کی وزرائے خارجہ کانفرنس چین کا مسلم ممالک سے اظہارِ یکجہتی

منظمہ التعاون الإسلامی، المعروف OICکے وزرائے خارجہ کی کانفرنس اسلام آباد میں ختم ہوگئی۔ یہ ادارے کے وزرائے خارجہ کی 48 ویں بیٹھک تھی۔ او آئی سی کا قیام مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی پر مسلم دنیا کے شدید ردعمل کا نتیجہ تھا۔ یہ واقعہ 21 اگست 1969ء کو پیش آیا جب 28 سالہ آسٹریلوی انتہا پسند ڈینس مائیکل روحان نے فجر کی نماز کے بعد مسجد اقصیٰ کے منبر پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ بارہویں صدی کا یہ منبر تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے شام کے سلجوقی حکمراں نورالدین زنگی نے حلب کی جامع مسجد کے لیے 1169ء میں بنوایا تھا۔ لکڑی سے تراشے اس منبر کی محراب پر خوبصورت رسم الخط میں قرآنی آیات تحریر تھیں۔ جب 1187ء میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو ساری اسلامی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور نورالدین زنگی نے بہت اہتمام کے ساتھ یہ منبر بیت المقدس بھجوا دیا۔ سلطان صلاح الدین نے اپنے ہاتھوں سے منبر کو مسجد اقصیٰ میں نصب کیا اور اس پر بیٹھ کر پہلا خطبہ دیا، اُس وقت سے یہ منبرِ سلطان صلاح الدین ایوبی کہلاتا ہے۔
ڈینس کا دعویٰ تھا کہ وہ (نعوذ باللہ) خدا کا فرستادہ ہے اور اسے اس کے رب نے مسجد اقصیٰ تباہ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس جگہ پر ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جاسکے۔ آگ سے نہ صرف منبر جل کر خاک ہوا بلکہ قریب کے چوبی ستون، دروازے اور چھت کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ واقعے کے دوسرے روز ڈینس کو پولیس نے گرفتار کرلیا لیکن مقدمے کے دوران اسرائیلی عدالت نے اسے ذہنی مریض (insane) قرار دیتے ہوئے علاج کے لیے نفسیاتی ہسپتال بھیج دیا۔ پانچ سال بعد اُسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واپس آسٹریلیا روانہ کردیا گیا۔
مسجدِ اقصیٰ میں آتش زدگی کا سانحہ 1967ء کے سقوطِ بیت المقدس کے صرف دو سال بعد پیش آیا۔ القدس شریف پر قبضے کے ساتھ ہی انتہاپسندوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ مسجد اقصیٰ ہیکل سلیمانی کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے، اور اسے منہدم کرنے کی تجاویز کئی بار پیش کی گئیں۔ چنانچہ آگ لگنے کی خبر آتے ہی ساری دنیا کے مسلمان مشتعل ہوگئے۔ سب سے بڑا مظاہرہ سری نگر میں ہوا۔
مفتیِ اعظم فلسطین سید امین الحسینی نے مسلم سربراہان اور مولانا مودودیؒ سمیت دنیا کی اسلامی تحریکوں اور تنظیموں کو خطوط لکھے جن میں قبلہ اوّل کی حفاظت کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ مفتی صاحب نے اپنے مراسلوں میں لکھا کہ فلسطینی عوام خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن مسجد اقصیٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کی طرح مسلم امت کا مشترکہ سرمایہ ہے جس کے تحفظ کے لیے مراکش سے انڈونیشیا تک ساری ملّت کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ فیصل بن عبدالعزیز، مراکش کے بادشاہ حسن دوم، انڈونیشیا کے صدر سوہارتو اور ملائشیا کے وزیراعظم ٹنکو عبدالرحمان نے مختلف مسلم سربراہوں سے گفتگو کی اور 22 سے 25 ستمبر تک مراکش کے دارالحکومت رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی، جہاں او آئی سی کا قیام عمل میں آیا۔ چوٹی ملاقات سے پہلے وزرائے خارجہ کے کئی اجلاس ہوئے جن میں ایجنڈے کے علاوہ رکنیت کی شرائط طے کی گئیں، جن کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک کے علاوہ اُن ملکوں کو بھی رکن بنایا جائے گا جہاں مسلمان اکثریت میں تو نہیں لیکن قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہوا کہ ہندوستان کو مبصر کے طور پر دعوت دی جائے گی۔ دہلی کو مدعو کیے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان، پاکستان اور انڈونیشیا مسلم آبادی کے اعتبار سے دنیا کے تین بڑے ملک ہیں۔
اس تاسیسی اجلاس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید بدمزگی پیدا ہوئی جس کا جائزہ شاید ہمارے قارئین کو دلچسپ محسوس ہو۔
سربراہ کانفرنس کے لیے وزرائے خارجہ کے تیاری اجلاس میں پاکستان نے بھی ہندوستان کو مدعو کرنے کی حمایت کی تھی، اسی بنا پر یہ فیصلہ متفقہ قرار پایا۔ ہندوستان نے دعوت ملنے پر وفد کی تشکیل شروع کردی اور اس دوران رباط میں ہندوستان کے سفیر شری گربچن سنگھ کو وفد کا قائم مقام سربراہ مقرر کردیا گیا۔ وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی نے او آئی سی کانفرنس کے لیے فخرالدین علی احمد کی سربراہی میں ایک چار رکنی وفد کی منظوری دی۔ فخرالدین علی احمد اُس وقت وزیر صنعت تھے جو بعد میں ہندوستان کے صدر منتخب ہوئے۔ وفد کے دوسرے ارکان میں مشہور ماہر لسانیات اور جامعہ علی گڑھ کے سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر عبدالعلیم، وزارتِ خارجہ کی ایک اعلیٰ افسر ڈاکٹر عشرت عزیز اور شری گربچن سنگھ کو نامزد کیا گیا۔
اتفاق سے اسی دوران احمد آباد میں مسلم کُش فسادات پھوٹ پڑے، جن میں جانی نقصان کے ساتھ کاروباری مراکز کو نذرِآتش کرکے مسلمانوں کا معاشی قتل عام بھی ہوا۔ پاکستان کے صدر یحییٰ خان نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی کے تاسیسی اجلاس کے لیے ہندوستان کا دعوت نامہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ صدر یحییٰ نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر سربراہی اجلاس میں ہندوستانی وفد موجود ہوا تو وہ اس نشست میں شریک نہیں ہوں گے۔ انھوں نے شاہ مراکش کی اُس گاڑی کو واپس بھیج دیا جو انھیں لینے ان کی قیام گاہ آئی تھی۔ پاکستانی صدر کو منانے مراکش کے بادشاہ، سعودی شاہ فیصل، شہنشاہ ایران، صدر سوہارتو اور افغان وزیراعظم جناب اعتمادی خود شاہی محل آئے لیکن صدر یحییٰ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ یہ صورت حال میزبان کی حیثیت سے مراکشی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث تھی۔ معاملہ خراب ہونے پر ہندوستانی وفد نے خود ہی شرکت سے معذرت کرلی۔ اپنے ایک بیان میں ہندوستانی سفیر گربچن سنگھ نے کہا کہ ”ہندوستان مسلم قوم کے مفادات کو اپنی سفارتی انا کے بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا، چنانچہ ہم بوجھل دل کے ساتھ اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتے ہیں۔“
تاسیسی اجلاس کے بعد سے او آئی سی کے 12 سربراہ اجلاس ہوچکے ہیں۔ دوسری سربراہی کانفرنس 22 سے 24 فروری 1974ء لاہور میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا، جس کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس وقت او آئی سی کے رکن ممالک کی تعداد 57 ہے جن میں سے 56 اقوام متحدہ کے رکن ہیں، فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔ بڑی مسلم اقلیت والے ممالک روس اور تھائی لینڈ کے علاوہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین بھی او آئی سی کے اجلاسوں میں مبصر کے طور پر شریک ہوتے ہیں۔ اگر جغرافیائی اعتبار سے او آئی سی کا تجزیہ کیا جائے تو افریقہ کے 27، ایشیا کے 27 اور جنوبی امریکہ کے 2 یعنی گیانا اور سرینام اس کے رکن ہیں۔ او آئی سی میں یورپ کا صرف ایک ملک البانیہ شامل ہے۔ شام کی رکنیت معطل ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کی کُل آبادی ایک ا رب 90 کروڑ ہے۔
ہم جنس پرستی جیسے حساس سماجی معاملے پر او آئی سی یکسو نہیں۔ اس حوالے سے سرکاری مؤقف یہ ہے کہ تنظیم ہم جنس پرستی کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف سمجھتی ہے لیکن البانیہ، گبون، گنی بسائو اور سیرالیون نے اقوام متحدہ کے اس چارٹر پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت ہم جنس پرستی کو معمول کا ایک انسانی رویہ تسلیم کیا گیا ہے۔ بحرین، عراق، اردن اور ترکی نے اقوام متحدہ کے مذکورہ بالا چارٹر پر دستخط تو نہیں کیے لیکن ان ملکوں میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔
حالیہ وزرائے خارجہ کانفرنس 48 ویں تھی جو اسلام آباد میں22 تا 23 مارچ منعقد ہوئی۔ پاکستان اس سے پہلے چار بار وزرائے خارجہ کانفرنس کی میزبانی کرچکا ہے، 1970ء اور 1993ء کی مجلسیں کراچی میں جمیں، جبکہ 1980ء اور 2007ء کے اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔
حالیہ اجلاس کے آغاز پر غیر ضروری جوش و خروش نظر آیا اس لیے کہ ایک ہفتہ قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے Organization of Islamic Cooperation (اوآئی سی) کی جانب سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 15 مارچ کو یومِ تدارکِ اسلامو فوبیا (Day to Combat Islam phobia) قرار دیا گیا۔ یہ بلاشبہ او آئی سی کا بڑا کارنامہ ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے معاملے پر دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس موضوع پر ہم ایک تفصیلی مضمون گزشتہ ہفتے نذرِ قارئین کرچکے ہیں۔
”شراکت برائے اتحاد، انصاف اور ترقی“ کو اس کانفرنس کا خیالیہ (theme)قرار دیا گیا، اور تقریروں میں اتحاد پر خاصا زور رہا، لیکن ہر ملک نے مسلمانوں سے بدسلوکی کے معاملے میں اپنے مفادات کا ”خاص“ خیال رکھا۔ مثلاً عمران خان نے مسلمانوں سے بدسلوکی کا ذکر کرتے ہوئے چین کے اویغور اور میانمر (برما) کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی پر خاموشی اختیار کرلی کہ چین کے بارے میں خاطرِ احباب لاحق تھا۔ اسی طرح ترک وزیرخارجہ میولت چاووشولو (Mevlut Cavusoglu) نے مسلم امت کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے یروشلم کی طرف اشارہ کیا، لیکن اس بار فلسطینیوں کی حالتِ زار پر ان کا لہجہ روایتی ترک جوش و خروش سے محروم تھا۔
اس احتیاط کے باوجود اجلاس سے عمران خان کے افتتاحی خطاب اور ترک وزیرخارجہ کی تقریر کو پذیرائی نصیب ہوئی۔ اپنے خطاب میں ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ ”شراکت برائے اتحاد، انصاف اور ترقی“ کو محض اس کانفرنس کے خیالیے اور نعرے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس ڈھانچے پر فکر و عمل کی یگانگت کے ساتھ بھرپور کام ہونا چاہیے۔ ترک وزیر نے امتِ مسلمہ کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دی کہ ”ہماری 1400 سال پرانی تہذیب، شاندار ثقافت، سائنس و دانش کہاں ہے؟ آنکھوں سے اوجھل اس خزانے کو کیسے تلاش کیا جائے؟“ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے عظیم الشان تہذیبی مراکز یروشلم، دمشق، حلب اور کابل تباہ کردیے گئے۔ ان کی شناخت بدل دی گئی۔ مسلم ترکوں نے مغرب کو سات سو اور قبرص کو پانچ سو سال عادلانہ نظام فراہم کیا اور اکیسویں صدی میں ہم خود بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کو لاحق آزمائشوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کشمیر میں ہمارے بھائی بہنوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔ یورپ میں اسلاموفوبیا عروج پر ہے۔ چین میں ترک نژاد اویغور اور دوسرے مسلمانوں کے لیے اپنے مذہب پر عمل کرنا مشکل کردیا گیا ہے۔ بھارت اُن ملکوں میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں لیکن وہاں اسکارف پر پابندی لگادی گئی ہے، یا یوں کہیے کہ کروڑوں چینی اور ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیبی شناخت خطرے میں ہے۔ روہنگیا (برما) مسلمانوں کا تو اب دنیا ذکر بھی نہیں کرتی۔
عالمی قوتوں سے شکوے کے ساتھ انھوں نے خوداحتسابی پر زور دیا۔ جناب چاووشولو نے کہا کہ اپنی محرومیوں کا دوسروں پر الزام دھر دینا بہت آسان ہے، لیکن اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ امت کو سب سے پہلے خود احتسابی پر کاربند ہونا ہوگا۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھائی بھائی کا خون بہارہا ہے۔ کئی اسلامی ممالک کی شناخت خانہ جنگی، زبوں حالی اور خونریزی ہے۔ او آئی سی مشترکہ مفاد کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ اہم معاملات پر ایک زبان ہونے اور مشترکہ بیانیے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ترک وزیرخارجہ نے یوکرین جنگ کے تناظر میں مہذب سفید فام دنیا کی نسل پرست ذہنیت کو بے نقاب کیا۔ انھوں نے کہا: مغربی میڈیا پر یہ جملے عام ہیں ”یہ مشرق وسطیٰ تو نہیں، یہ افغانستان بھی نہیں، تو پھر یہاں کیوں خونریزی ہورہی ہے؟“ ہم کہتے ہیں کہ ”ہمارے لیے خون بس خون ہے، چاہے خارکیف میں گرے یا حلب میں“۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامی دنیا کو کسی فریق کا اتحادی بننے کے بجائے غیر جانب دار رہ کر خونریزی روکنے اور تنازعے کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ یوکرین کی جنگ سے ساری دنیا متاثر ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ڈیڑھ ارب ہیں لیکن عالمی منظرنامے میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ یہ اس لیے کہ ہم نے خود کو بڑی طاقتوں سے وابستہ کرلیا ہے۔ گروہی (بلاک) سیاست اور مجازی کشمکش (Cold War) نے دنیا کو غلط سمت میں ڈال دیا ہے جو اجتماعی تباہی کا راستہ ہے۔ مسلم دنیا کو اس سے الگ رہ کر حق و انصاف کے اصولوں پر قیامِ امن کی کوشش کرنی چاہیے۔ عمران خان نے زور دے کر کہا کہ افغان حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ ہمارے افغان بھائی سنگین انسانی بحران کا شکار ہیں۔ اگر دنیا سے دہشت گردی کی وجوہات کو ختم کرنا ہے تو افغان حکومت کی مدد اور اسے مستحکم کرنا ہوگا۔ مغرب میں انسان تو کیا جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، لیکن مظلوم افغانوں کا کسی کو خیال نہیں جو چالیس برس سے بیرونی حملوں اور مداخلت کا شکار ہیں۔ کوئی قوم افغانوں کی طرح متاثر نہیں ہوئی۔ دنیا جان لے کہ افغان قوم پر فیصلے مسلط نہیں کیے جاسکتے۔
پاکستانی وزیراعظم نے او آئی سی کا نظریاتی تشخص اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی بنیادی ذمہ داری اسلامی اقدار کا تحفظ ہے، ہمیں انٹرنیٹ پر فحاشی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، دنیا غلط سمت میں جارہی ہے، ہم 1.4 ارب مسلمانوں کو دنیا میں خیر کے فروغ اور ظلم و ستم اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے ”اعلانِ اسلام آباد“ میں فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ او آئی سی نے اپنے پرانے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسرائیل کی 1967ء کی سرحدوں پر واپسی انصاف کا تقاضا ہے۔ اعلامیے میں القدس شریف کو آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا۔
او آئی سی نے جموں و کشمیر کے مسلمانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ان کے حقِ خودارادی کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خودمختار حیثیت کی تبدیلی پر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قرارداد کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اِس سال 9 مارچ کو آواز سے تیز رفتار میزائیل کی آزمائش کے دوران ہندوستان کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا بھی اعلامیے میں نوٹس لیا گیا۔
اعلانِ اسلام باد میں جموں و کشمیر کے علاوہ مالی، صومالیہ، سوڈان، کیمرون، جبوتی، بوسنیا، نگورنوکاراباخ(آذربائیجان) اور ترک قبرصی عوام کو مسلم امت کی جانب سے غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا گیا۔ ایران یا حوثیوں کا نام لیے بغیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر میزائیل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔
مشرقی یورپ میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے روس اور یوکرین پر زور دیا گیا کہ وہ جنگ بند کرکے اپنے تنازعات بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اس ضمن میں او آئی سی نے ثالثی کی بھی پیشکش کی۔
مسلم وزرائے خارجہ کو افغانستان کی صورت حال پر سخت تشویش ہے۔ او آئی سی نے افغانستان کی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتے ہوئے افغان اسٹیٹ بینک کی منجمد رقوم جلد از جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ کابل کی مالی مشکلات کو دور کیا جاسکے۔
حالیہ او آئی سی کانفرنس کی سب سے اہم بات چینی وزیرخارجہ وانگ یی کی شرکت تھی جنھیں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ جناب وانگ یی نے دعوت پر حد درجہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے میزبان یعنی پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ”بھائی جان“ کہہ کر مخاطب کیا۔
انھوں نے کہا ”کشمیر پر ہم نے آج ایک بار پھر اپنے بہت سے اسلامی دوستوں کے مطالبات سنے ہیں، جن کی چین مکمل حمایت کرتا ہے۔“ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان شری ارندم باغچی نے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ”ہم او آئی سی کے افتتاحی اجلاس میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی طرف سے بھارت کے حوالے کو مسترد کرتے ہیں“۔ ان کا کہنا تھا کہ ”جموں و کشمیر سے متعلق تمام امور، بھارت کے اندرونی معاملات ہیں، جس پر چین سمیت دیگر ممالک کے پاس تبصرے کا کوئی جواز نہیں۔“
کشمیر کے معاملے پر چینی وزیرخارجہ کے بیان اور اس پر ہندوستان کا شدید ردعمل اُس وقت سامنے آیا جس کے دوسرے ہی دن جانب وانگ یی کو دہلی پہنچنا تھا۔ لداخ میں گزشتہ برس چین اور بھارت کے درمیان خوفناک تصادم کے بعد کسی چینی رہنما کا یہ پہلا دورئہ بھارت تھا۔ وانگ یی 25 مارچ کو کٹھمنڈو جاتے ہوئے کابل سے دہلی پہنچے تھے جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال سے ملاقات کی۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مرکزی ایجنڈا شدید معاشی پابندیوں میں جکڑے روس کی مدد تھا۔ بیجنگ اور دہلی دونوں کا خیال ہے کہ پابندیوں سے امن کے امکانات روشن ہونے کے بجائے روس کے اشتعال میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ جناب وانگ نے چین بھارت تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر ہندوستان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے بات چیت کے آغاز کو لداخ سے چینی فوج کی واپسی سے مشروط کردیا۔
…………………
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔