مستقبل کے پاک بھارت تعلقات میں کشمیر کا مقام

میاں شہبازشریف کے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند ہی گھنٹے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں ٹیلی فون پر مبارک باد دی۔ نریندر مودی اور شہبازشریف دونوں نے اپنے ٹویٹر پر اس بات چیت کا اعلان کیا اور دوطرفہ تعلقات کو عوام کی ترقی کے لیے بہتر بنانے کی بات کی۔ نریندر مودی نے اپنی گفتگو کے حوالے سے’’ دہشت گردی‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو شہبازشریف نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کی بات کی۔ یہ دونوں اصطلاحات دونوں ملکوں کی چڑ بن چکی ہیں۔ بھارت کشمیر کے نام اور ذکر سے چڑتا اور زچ ہوتا ہے تو پاکستان دہشت گردی کے طعنے سے کوفت محسوس کرتا ہے، اور بالخصوص جب یہ طعنہ بھارت کی طرف سے ہو تو اس کی تلخی کچھ سوا ہوتی ہے۔ دونوں ملک اس بنیاد سے ہٹ کر تعاون کا ایک نیا میدان چننے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان اچھے تعلقات کے لیے جب کشمیر کی بات کرتا ہے تو بھارت فوری طور پر ’پہلے دہشت گردی ختم کرو‘ کا مطالبہ اپناتا ہے۔ دہشت گردی کی بات تو چند عشروں پرانی ہے، جب خطے میں عسکریت، شدت پسندی اور دہشت گردی کا وجود بھی نہیں تھا تو پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے ہر مطالبے کے جواب میں بھارت کی تان اٹوٹ انگ پر آکر ٹوٹتی تھی۔ خود پاکستان جب کشمیر کو نظرانداز کرکے آگے بڑھتا ہے تو اس کوشش کے محرک کے پیروں تلے سے قالین اچانک کھنچ جاتا ہے۔ میاں نوازشریف اور جنرل پرویزمشرف اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
گزشتہ ساڑھے تین برس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام معاملات میں پیش رفت کا عمل رک کر رہ گیا تھا۔ عمران خان کی حکومت نے بھارت کے ساتھ تمام تعلقات منجمد کردئیے تھے، اور بھارت نے بھی ان تعلقات کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی بلکہ یوں لگ رہا تھا کہ بھارت کی نریندر مودی حکومت عمران خان کی حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ نہ رکھنے کا تہیہ کرچکی تھی۔ 5 اگست 2019ء کے بعد عمران خان کی نریندر مودی پر شخصی انداز کی کڑی تنقید کے بعد دونوں طرف اَنا کا معاملہ بن گیا تھا۔ عمران خان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی حکومت قائم ہوتے ہی نریندر مودی نے نرم روی اپنانے کے بجائے حالات میں تلخی پیدا کردی تھی۔ پانچ اگست کے فیصلے سے عمران خان کو اندرون ملک اور بیرونی دنیا میں خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ عمران خان اس گمان کا شکار تھے کہ دوسری بار مینڈیٹ لے کر آنے والے نریندر مودی پاکستان کی ایسی حکومت کے ساتھ زیادہ بہتر ماحول میں مذاکرات کریں گے جسے ماضی کی دو حکومتوں نوازشریف اور آصف زرداری کے برعکس اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ اور چنیدہ سمجھا جارہا ہے۔ چونکہ ایک صفحے کا تاثر حکومت کو مضبوط اور فیصلہ سازی کی پوزیشن پر برقرار رکھے ہوئے ہے اس لیے سخت گیر حلقوں کی نمائندہ بھارتی حکومت زیادہ پُراعتماد ہوکر ان سے معاملات آگے بڑھائے گی۔ مودی نے جو کچھ کیا اس توقع کے قطعی برعکس تھا۔ پلوامہ کے ساتھ ہی بالاکوٹ، اور بالاکوٹ کے چند ماہ بعد پانچ اگست سقوطِ کشمیر ہوگیا۔
حقیقت میں پلوامہ کے ساتھ ہی کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمے کے اشارے ملنا شروع ہوئے۔ پلوامہ حملے میں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی یاد میں جو فوجی نغمہ ریلیز کیا گیا اُس کا ایک بول یہ تھا ’’توڑ دو دھارا ستر کو‘‘۔ اس کے بعد عمران خان نے نریندر مودی اور اُن کی فکر و فلاسفی پر تابڑ توڑ حملے شروع کیے، اور یوں دونوں حکومتوں اور حکمرانوں کے درمیان بات چیت کی رہی سہی امید ہی ختم ہوگئی۔ اس عرصے میں حکومتوں کی سطح پر کسی بیک چینل ڈپلومیسی کا کوئی سراغ نہیں ملتا سوائے اس کے کہ عمران خان ہر فورم پر کشمیر کی بات کرکے مودی کو چڑاتے رہے، اور جواباً مودی دہشت گردی کی بات کرکے معاملہ ٹالتے رہے۔ حال ہی میں ایک بھارتی صحافی پروین سوامی نے انکشاف کیا ہے کہ اس عرصے میں بھارتی حکومت کے ساتھ ملک کی فوجی قیادت کا بیک ڈور رابطہ برقرار رہا ہے جس کا مقصد کشیدگی کو ایک مخصوص سطح سے اوپر نہ جانے دینا تھا۔ جبکہ کشمیر پر ایک ڈھیلے ڈھالے سمجھوتے پر بھی بات آگے بڑھ رہی تھی۔ یہ وہی مسودہ ہے جسے جنرل پرویزمشرف کا چارنکاتی فارمولا کہا جاتا ہے۔ بھارت نے پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن کی بحالی کے تمام آپشن ختم کرکے کشمیر کے ریاستی درجے کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ شاید بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے آغاز کے کسی مناسب موقع کے لیے یہ کارڈ سنبھال کر رکھا ہے۔
شہبازشریف کی حکومت قائم ہوتے ہی اتنا ہوا کہ دہلی اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست رابطے کا آغاز ہوگیا۔ اس سے پہلے میاں منشا جیسی کاروباری شخصیات نے بھارت کے ساتھ فوری تجارت کے حق میں بولنا شروع کیا تھا، بلکہ یہاں تک کہا تھا کہ اس معاملے پردونوں ملکوں کے درمیان بیک چینل بات چیت ہورہی ہے۔ شہبازشریف کا گھرانا بھارت کے حکمرانوں اور کاروباری کلاس سے اچھے تعلقات کا ریکارڈ رکھتا ہے، مگر کشمیر پاکستان میں سیاست دانوں کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ ہر حکمران کے لیے یہ تنی ہوئی رسّی کا سفر ہوتا ہے۔