درمیانی عمر کی تنہائی ڈیمنشیا کا مرض بڑھا سکتی ہے

طویل اکیلے پن اور تنہائی سے ڈیمنشیا کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ برطانیہ میں لاکھوں افراد کے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے۔ طبعی طور پر تنہائی سے دماغ کے اُن حصوں کا حجم کم ہوجاتا ہے جو سوچ و فکر (کوگنیشن) سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں برطانوی بایوبینک سے 460000 افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اوسط 57 سال کی عمر سے زائد افراد اگر اکیلے پن کے عادی ہوجائیں تو اگلے دس سے بارہ برس میں اُن میں ڈیمشنیا کا خطرہ 26 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ شنگھائی میں واقع فیوڈان یونیورسٹی کے ماہرین نے کئی طرح کے اسکینر اور ٹیسٹ سے بتایا کہ تنہا رہنے والے افراد کے دماغ میں گرے میٹر کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ یہ کمی دماغ کے اہم حصوں یعنی ٹیمپرل، فرنٹل اور ہیپوکیمپس میں واقع ہوتی ہے جو یادداشت، سمجھنے اور ارتکاز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جامعہ کیمبرج کی بابرا ساہاکیاں اور تحقیق میں معاون اسکالر نے بتایا کہ جو لوگ ادھیڑ عمری میں اکیلے رہتے ہیں اُن کے دماغی حجم میں واضح کمی دیکھی گئی، اور یہی وجہ ہے کہ پہلے ان کی یادداشت اور روزمرہ کا حافظہ متاثر ہوتا ہے، اس کے بعد اُن میں ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض سامنے آتے ہیں۔ ماہرین نے اسے بہت خوفناک عمل قرار دیا ہے اور تنہائی کے عمل کو شروع سے ہی روکنے پر زور دیا ہے۔ آخرکار یہ کئی مراحل سے گزر کر ایک ایسے مرض کی شکل اختیار کرلیتی ہے جس کا بوجھ معاشرے اور معالجین دونوں پر پڑتا ہے۔